تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

آسیہ بی بی! متضاد کہانیاں


٭آسیہ بی بی رہا، متضاد خبریں، خاندان کے ساتھ ہالینڈ چلی گئی! بی بی سی! نہیں گئی، سرکاری اطلاع !O..آزاد کشمیر تھمب سیکٹر، بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ، ایک فوجی ظہیر احمد شہید !O..آئی ایم ایف سے آٹھ ارب روپے مانگے جائیں گے !O..مجھے رہا کرایا جائے،عمران خان سے عافیہ کی اپیل!O.. ایڈن ہاؤسنگ والے 13 ارب روپے کی پلی بارگیننگ پر تیار !O..اگلی حکومت پھرہماری ہوگی، آصف زرداری !O..امریکہ ، ایوان نمائندگان ( اسمبلی ) میں پانسہ پلٹ گیا، ٹرمپ کی پارٹی کو شکست !O.. دھرنے اور گھیراؤ جلاؤ والوں کے حملوں سے61 پولیس والے زخمی ہوئے !
٭سپریم کورٹ کے حکم پر توہین رسالت کے جرم سے رہا ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو سخت پہرے میں ملتان ویمن جیل سے رہا کرکے ایک خصوصی طیارے میں اسلام آباد پہنچادیاگیا۔ اسے جیل سے مسیحی افراد کے حصار میں باہر لایاگیا جہاں ہالینڈکاسفارت کار اور اقوام متحدہ کے 10 اہلکار موجود تھے۔ آسیہ کو جیل سے سخت پہرے میں ملتان کے ہوائی اڈے تک لے جایا گیا۔ ہالینڈ کے ایک سفارت کار نے اسے اپنی حفاظت میں لے لیا ۔ اس کے بعد مختلف خبریں آئیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر آسیہ کا خاندان پہلے سے موجود تھا۔ آسیہ اوران سب کو ایک خصوصی طیارے میں سوار کرکے ہالینڈ روانہ کردیاگیااور یہ کہ طیارے میں پاکستان میں ہالینڈ کے سفیر بھی ساتھ ہی گئے ہیں۔ دوسری طرف وزارت خارجہ نے واضح بیان دیا ہےکہ آسیہ باہرنہیں گئی، وہ نظرثانی کی اپیل کے فیصلہ تک ادھر ہی رہے گی(ہالینڈ کے سفارت خانے میں؟)۔ نظرثانی کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ آسیہ کو باہر جانے سے روکنے کے لیے اس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، جب کہ قانونی ماہرین کی رائے یہ ہے کہ آسیہ کواس وقت آزاد شہری کی حیثیت حاصل ہے جس کے خلاف کوئی آئینی یا قانونی جرم موجود نہیں ۔ اسے باہر جانے سے روکا نہیں جا سکتا، جب کہ اسے روکنے کے لیے کوئی عدالتی حکم بھی موجود نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا وہی بنچ نظرثانی کی اپیل سن سکتا ہے جس نے متعلقہ فیصلہ سنایا ہو۔ایسی اپیل میں نئے سرے سے کوئی دلائل نہیں دیئے جاسکتے، صرف کسی قانونی سقم( خامی) کی نشاندہی کی جاتی ہے جو فیصلے میں نظرانداز کیاگیا ہو۔ قانون دانوں کے مطابق عدالتوں کے طویل اور مفصل فیصلوں پر نظرثانی کی اپیل کی کامیابی بہت مشکل ہوتی ہے۔ آسیہ بی بی کی رہائی کا بھی تین ججوں کا مفصل فیصلہ آچکا ہے اس پر نظرثانی کا معاملہ اسی عدالت نے ہی دیکھنا ہے۔
٭آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی مسلسل فائرنگ، پاکستان کا ایک اور فوجی سپاہی ظہیر احمد شہید! بھارت سے ایک اور احتجاج۔ اب تک کنٹرول لائن کی سینکڑوں خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ بھارتی فوج کے حملے بھی جاری ہیں اورکنٹرو ل لائن پرتجارت بھی جاری ہے!
٭امریکی جیل میں بارہ برسوں سے قید پاکستان کی بے قصور بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پہلی باربراہ راست وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ اسے جیل سے رہا کرایا جائے۔ حکومت کی ہدائت پر ہوسٹن میں پاکستان کے قونصل جنرل جیل میں مسلسل عافیہ سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس بارعافیہ نے قونصل جنرل کو وزیراعظم عمران خان کے نام اپنی تحریری درخواست دی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اسے زبردستی اغوا کر کے امریکہ لایاگیا تھا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اس بارے میں امریکی حکومت تک باقاعدہ پیغام پہنچایا گیا اور اسلام آباد میں موجودامریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز سے بھی بات ہوئی ہے۔ اس سے انسانی حقوق کی بنیاد پر معاملہ دیکھنے کو کہاگیا ۔اس نے یہ بات اوپر پہنچانے کا یقین دلایا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اگلے ہفتے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خودعافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی سے رابطہ کریں گے۔ 46 سالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی یونیورسٹی ’برانڈیز‘ سے ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔انہیں افغانستان میں امریکی فوج پر حملے کے الزام میں اغوا کرکے امریکہ پہنچادیاگیا اور2010 میں86 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ وہ ٹیکساس کے فیڈرل میڈیکل سنٹر کارسویل فورٹ ورتھ میں 18 سال قید کاٹ چکی ہیں۔ عافیہ صدیقی کو افغانستان میں امریکیوں کی ایک جیل میں درندہ صفت امریکیوں نے ناقابل بیان تشدد کانشانہ بنایا۔ پھر ٹیکساس کی جیل میں اس کے ساتھ جو انسانیت سوز سلوک کیاگیا اس کی دردناک داستان اس سے مل کر آنے والے معروف بزرگ قانون دان ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب’’ میرے مشہور مقدمے‘‘ میں بیان کی ہے۔ یہ شرم ناک داستان ایس ایم ظفر بھی مکمل بیان نہیں کرسکے۔ صرف ایک جملہ کہ جیل میں امریکی درندے اسے جس حالت میں لے جا رہے تھے اسے دیکھ کرجیل کی ایک امریکی خاتون چیخ پڑی اور اپنا ڈاکٹری والالباس اتار کر اس پر ڈال دیا۔ استغفار! آئیے مل کر اس مظلومہ کی نجات کی دعا کریں!
٭آصف زرداری نے کہا ہے کہ اگلی حکومت پھر ہماری ہو گی۔ تحریک انصاف کے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا ہےکہ اگلے انتخابات میں سندھ میں بھی تحریک انصاف کو اکثریت اور حکومت حاصل ہوگی۔ گزشتہ انتخابات کی مہم میں بلاول زرداری ( بھٹو؟) نے اعلان کیا تھا کہ وفاق اور چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہوں گی، مگر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ویسے خواب دیکھنے اور دعوے کرنے میں کیا حرج ہے؟ ایک میراثی خواب میں گائے بیچ رہا تھا۔ ایک لاکھ روپے قیمت لگائی ، ایک شخص نے پانچ ہزار روپے کی بولی دی۔ میراثی بہت ناراض ہوا۔ غصے سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ ادھر اُدھر دیکھ کر جلدی سے آنکھیں بند کر کے کہنے لگا کہ اچھا! لا پانچ ہزار ہی دے !
٭امریکہ کے وسطی مدت کے انتخابات میں ایوان نمائندگی میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوگئی۔ اس سے امریکی عوا م میں ٹرمپ کی ’مقبولیت‘ کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ مگر پاکستان کے لیے اس میں مسرت یا سکون کا کوئی پہلونہیں۔ ڈیموکریٹ یا ری پبلکن! پاکستان کے لیے سب ایک جیسے ہیں۔ ایک گاؤں والوں نے شکائت کی کہ پٹواری نتھا سنگھ بہت رشوت لیتا ہے۔ حاکم اعلیٰ نے دوسرا پٹواری پریم سنگھ بھیج دیا ۔ گاؤں والوں نےپھر شکائت کی کہ نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ ، وَن اینڈ دی سیم تھنگ! نتھا سنگھ تو صرف نقد رقم لیتا تھا،پریم سنگھ ساتھ مویشی بھی مانگتاہے!
٭ایڈ ن ہاؤسنگ سوسائٹی والوں نے اپنی اربوں کی لوٹ مار کے متاثرہ افراد میں تقسیم کرنے کے لیے نیب کو13 ارب روپے کی پلی بارگیننگ کی پیش کش کی ہے۔ یہ ملک میں اب تک پلی بارگیننگ کی سب سے بڑی رقم ہے۔اتنا ہولناک جرم اور کئی گنا زیادہ لوٹ مار کے مجرم 13 ارب دے کر باعزت بری ہو جائیں گے! ان کی تجوریاں بدستور اربوں کھربوں سے بھری رہیں گی! یہ انصاف ہے؟
٭کچھ دلچسپ خبریں : سندھ ہائی کورٹ میر پور بنچ میں ایک وکیل امان اللہ سومرو نے درخواست دائر کی ہے کہ صوبے میں بھنگ کی دکانیںکھولنے کی اجازت دی جائے۔ امان اللہ بھنگ اور کونڈا ڈنڈا لے کر میر پور کے پریس کلب کے باہر بیٹھ گیا۔ اس نے کونڈا میں بھنگ گھوٹی۔ ایک گلاس میں بھنگ کا سبز محلول ڈال کر پی گیا۔ بھنگ کانشہ بھی عجیب ہے، انسان کو بزدل بنادیتا ہے۔ نشے کے عالم میں مکھی بھی شیر دکھائی دیتی ہے۔ ایک لطیفہ پہلے بھی چھپاہے کہ دو ’بھنگی‘ کہیں جارہے تھے۔ ایک راستہ میں کنوئیںمیں گر گیا، گرنے کی آوازپر دوسرے نے پوچھا کہ ’بھئی کہا ں ہو؟‘ اس نے جواب دیا کہ شائد کنوئیں میں گر گیا ہوں۔ دوسرا بولا کہ اچھا بھئی، جہاں رہو ،خوش رہو!
٭ملتان سے محترم عبدالحمید نے فون کیا ہے کہ میں نے پچھلے کالم میں سرخی دی تھی کہ دبئی میں پرویز مشرف بات کرتے ہوئے روپڑا۔ اس کی تفصیل کیا ہے؟ خبریوں ہے کہ ایک غیرملکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ اسے کوئی ایسی عجیب بیماری لاحق ہے جو دس لاکھ افراد میں سے صرف ایک شخص کو ہوتی ہے، اور یہ کہ دبئی کے ڈاکٹر ابھی تک اس کی بیماری کو سمجھ نہیں پائے۔ پرویز مشرف نے نہائت آزردگی اور مایوسی کے عالم میں کہا کہ وہ پاکستان واپس جانا چاہتا ہے مگر وہاں مقدمات اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔ اس نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ اسے ریلیف دیا جائے!
٭پرانے نوجوانوں کی دلچسپی کی خبر: امریکہ میں مقیم ماضی کی بہت مشہور اداکارہ ریما خان نے شکائت کی ہے کہ بعض حلقے اس کی عمر47 برس بیان کررہے ہیں ،حالانکہ وہ صرف41 برس کی ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved