ویلنٹائن ڈے اور بسنت کی ''انت''
  28  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب کوئی قوم دشمن کا لباس پہننے لگے' دشمن کے گیت گانے لگے' اور دشمن کے تہوار منانے لگے' تو وہ قوم جنگ سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لیتی ہے۔ چند دن قبل دوران مطالعہ یہ انمول الفاظ ذہن میں اس طرح نقش ہوئے کہ جیسے کسی نے یاداشتوں کی تختی پر کندہ کر دیا ہو۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے یہ الفاظ ہمارے ''حسب حال'' ہیں کیونکہ ہماری تہذیب و ثقافت اور روایتی رسومات پسندی اور یورپی ڈھب میں ڈھل چکی ہیں۔ مذہبی تہوار اور قومی دن ایسے منائے جاتے ہیں کہ جیسے سر سے کوئی بوجھ اتارا جارہا ہو۔ روایتی موسیقی' شاعری' کافیوں اور قوالیوں کی گونج اب کہیں بھی سنائی نہیں دیتی۔ لباس بدل گئے ہیں' پتلون جین کی پینٹ اور شرٹ ٹی شرٹ بن گئی ہے ' بن کباب جسے عرف عام میں کبھی ''بند کباب'' کہا جاتا تھا آج برگز کہلاتا ہے ۔ رقص کو اعضاکی شاعری کا نام دیا جاتا تھا۔ لیکن آج یہ شاعری اعضا کی کھلم کھلا نمائش بلکہ منافع بخش کاروبار کی صورت اختیار کر چکی ہے میں ذاتی طور پر اعضا کی شاعری کے فلسفے بھی اتفاق نہیں کرتا کیونکہ نسوانی اعضا کی شاعری ' شاعری نہیں بلکہ صنف مخالف کے لئے ذہنی بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔ موسم سرما آخری انگڑائیاں لے رہا ہے جو موسم بہار کی آمد کی نوید ہے۔ جب موسم بدلتے ہیں تو ارمان بھی مچلتے ہیں۔ لیکن اسے کیا کہا جائے کہ ہمارے ہاں ارمان ہر موسم میں ہی مچلتے رہتے ہیں۔ ہر سال فروری کے مہینے میں ویلنٹائن ڈے اور بسنت کے موقع پر یہ ارمان اس طرح مچلتے ہیں کہ بہت سے ارمانوں کا خون کر دیتے ہیں۔ عزت و وقار اور شرم و حیا کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ یہ تو اللہ پاک کا کرم ہوا کہ اس بار اس بار ہائی کورٹ نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو یہ حکم نامہ جاری کر دیا تھا کہ کوئی بھی ایسا پروگرام ٹیلی کاسٹ اور شائع نہ کیا جائے کہ جس سے ویلنٹائن ڈے منانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ جبکہ حکومت پنجاب نے حسب روایت اخباری اشتہارات کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو یہ ہدایات نامہ جاری کیا کہ وہ اسلامی ایکٹ کی خلاف ورزی نہ کریں۔ غیر اخلاقی حرکات سے گریز کریں اور یہ کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں لیکن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے والدین کی نظروں سے نظریں چرا کر اور چھپ چھپا کر ویلنٹائن ڈے بھی منایا ' چاکلٹیں' پھولوں اور دل کے نمونے والے تحائف کا تبادلہ بھی کیا۔ صوبائی حکومت نے بسنت پر بھی پابندی کا اعلان کیا تھا لیکن صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے ایک بیان نے ابہام پیدا کر دیا۔ اگر یہ ابہام نہ بھی پیدا ہوتا تو بسنت منانے والوں نے پھر بھی بے لگام ہونا ہی تھا۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے پتنگ بازی کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں جبکہ راولپنڈی میں بھی بسنت منانے والوں نے ''انت'' مچائے رکھی۔ پتنگ بازی کے دوران فائرنگ اور میوزک نے شہریوں کا سکون غارت کئے رکھا۔ سکستھ روڈ پر گردن پر کیمیکل ڈور پھرنے سے بتیس سالہ موٹر سائیکل سوار صفدر حسین اور صادق آباد میں اٹھارہ سالہ ثناء اللہ پتنگ لوٹنے کی کوشش میں کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ دو کم سن بچوں سمیت پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ میں ذاتی طور پر بعض ایسے گھرانوں کو جانتا ہوں جن کے بچے گزشتہ چند برسوں سے پتنگ بازی کے دوران بجلی کی تاروں سے چھو کر یا چھتوں سے گر کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معذور ہوچکے ہیں جن بچوں نے والدین کا سہارا بننا تھا۔ آج وہ والدین کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں ۔ بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کی آڑ میں ''شیشہ'' اور حسب توفیق ولایتی بوتل اور دیسی کپی پی کر بسنت کی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا۔ ویلنٹائن ڈے اور بسنت کا مرضی بھی دیگر موذی امراض کی طرح تیزی سے پھیل رہا ہے جن کے پھیلائو میں الیکٹرانک میڈیا' سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ ابلیس کے چیلے چانٹوں کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ جبکہ بسنت کو پروان چڑھانے میں گلوکارہ فریحہ پرویز کا بھی حصہ ہے کیونکہ ان کا گانا ہے۔ ''لگا پیچا تو مچ گیا شور....کہ دل ہوا بوکاٹا'' پتنگ بازوں کے جوش و خروش میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تین شادیاں کرنے کے باوجود بھی فریحہ پرویز کے دل کا ''بوکاٹا'' ہوگیا اور بار بار کے ''بوٹاکا'' سے دلبرداشتہ ہو کر وہ مستقبل امریکہ میں منتقل ہوگئی' لیکن ایک خبر یہ بھی ہے کہ فریحہ پرویز نے امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی بزنس مین سے چوتھی بار ''پیچ'' لڑا لیا ہے۔ اللہ کرے کہ اس بار فریحہ پرویز کے دل کا ''بوکاٹا'' نہ ہو۔ ویلنٹائن ڈے اور بسنت کا تذکرہ ہماری تاریخ میں کہیں بھی نہین ہے۔ آج کئی موذی وائرس ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں جو نوجوان نسل کو بے راہ روی اور تباہی کی دہلیز پر لے آئے ہیں۔ ان پر قابو پانا حکومت اور انتظامیہ کا ہی فرض نہیں ہے ۔ یہ معاشرے کے ہر فرد بالخصوص والدین کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں ان کی دوستیوں ' ان کے شب و روز کے معاملات' ان کے رویوں اور لہجوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر نظر بلکہ کڑی نظر رکھیں... جبکہ انتظامیہ اور پولیس قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث اور ویلنٹائن ڈے اور بسنت منانے والوں سے ''مک مکا'' کرنے کے بجائے ان کی ایسی چھترول کرے کہ کسی چیز کی ''ٹکور'' سے بھی انہیں سکون نہ آئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved