مراسم کی … ایران شناسی
  9  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امت مسلمہ کے بعض ممالک کو ان کے تاریخی اور ثقافتی حوالوں کے باعث دنیا بھر میںنمایاں مقام حاصل ہے لیکن پیشتر اسلامی ممالک کی عوام اپنے برادر ممالک کی ثقافت' تاریخ اور تہذیب و تمدن سے ناآشنا ہیں۔ مسلم ممالک کے عوام میں باہمی روایت اور یکجہتی کے فروغ کے لئے تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ برادر اسلامی ملک ایران اور پاکستان کے تعلقات پر عالمی قوتوں کی گہری نظر ہے۔ مغربی حلقوں کی ریشہ دوانیوں کے ان تعلقات میں کئی اتار چڑھائو بھی آئے لیکن ایران اور پاکستان کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے بھائی چارے اور محبتوں کے دیئے ہمیشہ روشن رہے۔ عالمی منظر نامے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دیپ مزید روشن کیے جائیں۔ گزشتہ دنوں خطہ پوٹھوار کی ادبی و ثقافتی تنظیم مراسم کے روح رواں معرو ف شاعر اور ٹی وی اینکر سید آل عمران نے خانہ فرہنگ کے اشتراک سے ایک بھرپور بیٹھک کا اہتمام کرکے ''ایران شناسی'' کا موقع فراہم کیا۔ خانہ فرہنگ ایران کے میڈیا کوآرڈینیٹر خرم علی واجد نے جب اس بیٹھک میں شرکت کی دعوت دی تو ذہن میں جو پہلا تصور ابھرا وہ یہی تھا کہ یہ نشست بھی روایتی گفتاً شنیداً برخاستاً تک ہی محدود ہوگی۔ لیکن خانہ فرہنگ ایران پہنچے تو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرا د کی کثیر تعداد اور خانہ فرہنگ ایران کی انتظامیہ کا شاندار اور باوقار اہتمام دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ یہاں بہت کچھ دیکھنے اور سننے کو ملے گا جو ایران کی تہذیب و ثقافت سے آگاہی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ سید آل عمران نے تعارفی کلمات کی ادائیگی کے بعد گیند ممتاز دانشور اور زبان و ادبیات کے ماہر ڈاکٹر مظفر علی کشمیری کی کورٹ میں ڈال دی۔ جب انہوں نے ایران کی تاریخ اور ثقافت کے اوراق الٹنا شروع کیے تو ایسا لگا کہ جیسے ہم ایران کے تاریخی مقامات' شہر اور باغات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر مظفر علی کشمیری نے انتہائی مدلل اور شیریں انداز بیاں میں ایران کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا احاطہ کیا۔ اس ضمن میں بعض معلومات کو انکشاف بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس امر سے پوری دنیا آگاہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے مختلف شعبوں میں حیرت انگیز اور قابل تحسین ترقی کی ہے۔ ایران حقیقی معنوں میں ایک جدید اسلامی اور فلاحی ریاست بن کر دنیا کے دیگر ممالک کے لئے ایک مثال بن چکا ہے۔ ایران کی ستر فیصد آبادی شہری علاقوں اور تیس فیصد دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ انقلاب ایران سے قبل شرح تعلیم صرف سینتالیس فیصد تھی جو آج اکانوے فیصد ہوچکی ہے۔ ایران میں خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں خواتین میں شرح خواندگی سنیتالیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایران آج جدید تعلیم اور علم و فنون کا گہوارہ بن چکا ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایران کی آٹھ کروڑ آبادی کے لئے ایک ہزار تئیس یونیورسٹیاں معرض وجود میں آچکی ہیں۔ جن میں تقریباً چار ملین طلبا زیر تعلیم ہیں۔ فردوسی عمر خیام' سعدی اور شیرازی نے ایران کی سرزمین پر علم و ادب اورتہذیب و ثقافت کا جو بیج بویا تھا وہ آج گھنا اور تناور سایہ شجر بن چکا ہے۔1979 ء میں انقلاب ایران سے قبل ایران کی فلمی صنعت پر بھی فحاشی اور عریانی کا غلبہ تھا لیکن آج ایسی ناقابل فراموش فلمیں بنائی جارہی ہیں جو نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک میں بھی بھرپور پذیرائی حاصل کررہی ہیں۔ جس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ حال ہی میں منعقد ہونے والے عالمی ایوارڈ کے مقابلے میں ایرانی فلم آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔ پاکستان کی فلمی صنعت گزشتہ دو عشروں سے زبوں حالی سے دوچار ہے۔ سینما ہائوسز ویران ہیں جنہیں چلانے کے لئے بھارتی فلموں کی مصنوعی آکسیجن دینے کے بجائے ایرانی فلموں کو اردو زبان میں ڈب کرکے نمائش کے لئے پیش کیا جائے جس سے نہ صرف پاکستانی فلمی صنعت کو سہارا ملے بلکہ ایران اور پاکستان کے عوام کے باہمی روابط بھی مزید گہرے ہوں گے۔ مغربی طاقتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ایران کی علمی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو منفی انداز میں پیش کیا جائے لیکن ایران کی مثبت پالیسیوں اور حکمت عملی نے یہ ثابت کر دیاہے کہ ایران کے حکمران اور عوام صلح جو اور محبت کا پرچار کرنے والے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے عوام میں ایک قدر یہ بھی مشترک ہے کہ دونوں کے دلوں میں شاعر مشرق علامہ اقبال کی عزت و احترام ہمیشہ ہی موجزن رہتاہے۔ سینئر صحافی برادرم ڈاکٹر زاہد حسین چغتائی نے یہ کہہ کر بوتلمیں جن بند کر دیا ہے کہ میں یہ توقع کرتا ہوں کہ ایران جلد ہی علامہ اقبال کے اشعار کی روشنی میں اسلامی دنیا کا مرکز قرار پائے گا ۔ انڈر گرائونڈ بس سروس ایران میں عوام کی سفری سہولیات فراہم کررہی ہے۔ یہ انکشاف باعث حیرت تھا کہ آج سے پچاس سال قبل بھی بسوں میں مسافروں کو اشیائے خوردونوش کے علاوہ واش روم کی سہولت بھی حاصل تھی۔ ایران میں ابلتے ہوئے گرم پانیوں سے پانچ سو ابلتے ہوئے چشمے بھی پائے جاتے ہیں۔ ایران کے عوام اس بات کا اظہار فخر سے کرتی ہیں کہ ان کی ایک ہزار کلومیٹر سرحد بالکل محفوظ ہے۔ خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر علی آقا نوری نے تمام گفتگو فارسی میں کی ۔ لیکن ان کے چہرے کے تاثرات اس امر کی غمازی کررہے تھے کہ ان کی یہ دلی خواہش ہے کہ ایران اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے مزید قریب ہو جائیں۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا سے بھی یہ درخواست کی کہ وہ دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ خانہ فرہنگ ایران میں منعقد کی جانے والی تقریب ایران شناسی میں مراسم کی ایک قابل ستائش کاوش ہے۔ جس کا سہرا سید آل عمران کے سر جاتا ہے۔ اس نوعیت کی تقریبات مسلمان ممالک میں روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کے ساتھ ایک ملاقات میں پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کرکے مراسم اور خانہ فرہنگ ایران کی مشترکہ کاوش پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved