سڑے سڑے… نظر سڑے
  12  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بلاشبہ صدقہ و خیرات آفات و بلیات کو ٹالتا اور نظربد سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس امر میں بھی شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے کہ نظر انہیں ہی لگتی ہے جس کا کوئی ''منہ متھا'' یا جنہوں نے کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دیا ہو۔ ہمارے علم اور تجربے کے مطابق نظر لگنے کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک کٹھی' دوسری میٹھی… حسد بھری نظر ''کھٹی'' اور پیار بھری نظر سے لگنے والی نظر کو ''میٹھی'' کہا جاتاہے۔ کٹھی نظر لال مرچوں اور میٹھی نظر چینی سے اتاری جاتی ہے۔ نظر اتارنا بھی ایک فن ہے۔ نظر اتارنے کے دوران جو ''دم'' پڑھا جاتاہے اسے یاد رکھنے کے لئے بھی قوی حافظہ درکار ہے۔ نظر اتارنے کے بعد لال مرچیں اور چینی جلتے ہوئے چولہے میں ڈال دی جاتی ہے اور اگر مرچوں کا دھواں گھر کے ہر فرد کی ''ناسوں'' میں گھس جائے ' کھانسی کا شدید دورہ پڑے یا چھینکیں آنے لگیں تو یہ یقین کرلیا جاتاہے کہ کسی کی ''ڈاہڈی'' نظر لگی ہے اسی طرح آ گ میں جلتی ہوی چینی میں سے اگر یکدم ''بھانبڑ'' بلند ہو تو نتیجہ اخذ کیا جاتاہے کہ کسی پیارے کی نظر لگی ہے ہم تو آج تک یہی سمجھتے رہے ہیں کہ نظر صرف لال مرچوں اور چینی سے ہی اتاری جاتی ہے لیکن وفاقی وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی کسی عزیزہ کو ان کی انڈوں سے نظر اتارتے ہوئے دیکھ کر اپنی جہالت اور کم علمی کا شدت سے احساس ہوا۔ مریم اورنگزیب کی نظر نصف درجن انڈوں سے اتاری گئی۔ ہمیں اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ مریم اورنگزیب کی عزیزہ انہیں ''کٹھی'' نظر سے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں یا ''میٹھی'' نظر سے بچانا چاہتی ہیں۔ مریم اورنگزیب نے نظر اتارنے کے دوران ''سوہا جوڑا'' زیب تن کر رکھا ہے اور ان کے دونوں ہاتھوں میں تین تین انڈے ہیں۔ انڈوں کی سفید رنگت یہ ظاہر کرتی ہے کہ انڈے دیسی نہیں بلکہ شیوری ہیں البتہ انڈوں کے سائز سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انڈے ڈبل زردی والے ہیں۔ لال مرچیں اور چینی تو آگ میں ڈال دی جاتی ہے لیکن نہ جانے جن انڈوں سے مریم اورنگزیب کی نظر اتاری گئی ہے وہ کسی غریب مسکین کو دیئے گئے ہیں یا اہل خانہ نے ناشتے میں ان انڈوں کی آملیٹ بنالی تھی۔ ہمارے گزشتہ محلے میں ایک ''ماسی'' ہوا کرتی تھیں جن کا حقیقی نام شاید ہی کسی کو پتہ ہو کیونکہ ہم نے جب سے ہوش سنھبالا ہے انہیں نہ صرف محلہ پورا علاقہ ہی ''ماسی'' کہہ کر پکارتا تھا اور اپنی آخری سانسوں تک وہ ماسی ہی رہیں۔ ماسی کی وجہ سے شہرت نظر کا دم ڈالنا تھا۔ اگر کسی بچے یا جوان کو ہلکا سا بخار بھی ہو جاتا تھا تو اس کے والدین بلاتاخیر ماسی کو طلب کرلیا کتے تھے کہ وہ ''بیمار'' کی نظر اتاریں اورپھر ماسی مٹھی میں سات لال مرچیں بند کرکے نظر اتارنا شروع کر دیتی تھیں اور ہاتھوں کو گھماتے ہوئے بلند آواز میں یہ بھی پڑھتی جاتی تھیں کہ نظر سڑے … نظر سڑے آپڑیاں نی اے … پرایاں نی اے جناں نی اے … بھوتاں نی اے عزیزاں رشتے داراں نی اے دوستاں یاراں نی اے جس کسے نی و اے … نظر سڑے نظر سڑے دم ڈالنے اور نظر اتارتے ہوئے نہ جانے ماسی کو بے تحاشا ''واسیاں'' کیوں آنے لگتی تھیں جبکہ حیرت انگیز طور پر ماسی کی آنکھوں سے پانی بہنا بھی شروع ہو جاتاتھا جو اس امر کی غمازی کرتا تھا کہ ''بیمار'' کو سخت نظر لگ گئی ہے ۔ مریم اورنگزیب ماشاء اللہ صاحب ثروت ہیں اور ان کا تعلق شہر کے ایک خوشحال گھرانے سے ہے پھر ان کی نظر شیوری انڈنوں سے کیوں اتاری گئی' انڈے تو آج کل ویسے بھی بازار سے ارزاں نرخوں پر یعنی نوے روپے فی درجن دستیاب ہیں۔ مریم اورنگزیب کی نظر اتارنے کے لئے اگر چار چھ بکروں کا صدقہ دیا جاتا تو کوئی بات بھی تھی ۔ جو خاتون مریم اورنگایب کی انڈوں سے نظر اتار رہی تھی ان کی ''لپ موومنٹ سے ہم نے جو اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق شاید وہ یہ پڑھ رہی تھی کہ نظر سڑے … نظر سڑے پیپلز پارٹی نے اے … پی ٹی آئی نی اے چوہدریاں نی اے… فردوس عاشق اعوان نی اے شیخ رشید نی اے … پرویز رشید نی اے طلال نی اے… دانیال نی اے نظر سڑے … نظر سڑے ایسادکھائی دیتاہے کہ ساری حکومت اور ادارے صدقوں کے بل بوتے پر ہی چل رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ ہائوس میں دو بکروں کا صدقہ دیا گیا جن میں سے ایک بکرا کالا اور دوسرا بکرا سفید تھا۔ ذرائع کے مطابق بکروں کا یہ صدقہ اس لئے دیا گیا کہ پارلیمنٹ ہائوس میں نصب بجلی کے آلات اور بھاری مشینری گرمیوں میں خراب نہ ہو جبکہ اس سے قبل ایوان صدر میں اور پی آئی اے بھی اپنی سلامتی اور حفاظت کے لئے بکروں کا صدقہ کرچکی ہے ۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ 'پھونکوں سے ان کی یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ' اسی طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بکروں کے صدقوں سے یہ نظام چلایا نہ جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved