بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے
  16  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آج سے کم و پیش پندرہ برس قبل تقریباً بیس سیاسی جماعتوں کا ایک گٹھ جوڑ الائنس فار دی ریسٹورشین آف ڈیموکریسی معرض وجود میں آیا تھا۔ جس نے اے آر ڈی کے نام سے شہرت حاصل کی۔ مذکورہ سیاسی اتحاد کو '' او رپھڑ ڈالیں'' بھی کہا گیا۔ ملکی سیاسی تاریخ میں ایسے اتحاد نظریہ ضرورت کے تحت بنائے یا بنوائے جاتے ہیں اور قرائن ظاہر کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ہی ایک ایسا ہی اتحاد جنم لے گا۔ کسی ترقیاتی منصوبے کو متنازعہ بنانا ہو کسی فیصلے میں روڑے اٹکانا ہوں یا کسی شخصیت کے تشخص کو مجروح کرنا مقصود ہو تو ان اتحادوں سے یہ کام حسب منشا لیا جاسکتا ہے لیکن موجودہ منظر نامے میں ہر سیاسی جماعت نے اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے بھانت' بھانت کی بولیاں سننے میں آرہی ہیں۔ تھومک کر چاٹنا وہی بات ہوچکی ہے جنرل (ر) راحیل شریف نے جب سے وردی اتاری ہے چیونٹیوں کے بھی پر نکل آئے ہیں۔ شہتیروں کو جھپے ڈالے جارہے ہیں لیکن جواب میں جب شہتیر انہیں ''جھپا'' ڈالنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو وہ چوں چراں کئے بغیر اپنی اوقات اور اصل جون میں واپس آجاتے ہیں۔ پانامہ کیس کے فیصلے کا اضطراب گزرتے لمحات کے ساتھ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شادی بیاہ' جنازہ ہو یا کوئی بھی دیگر سماجی تقریب سلام دعا اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد لوگوں کا جو پہلا سوال ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ پانامہ کا فیصلہ کب آئے گا اور کیا ہوگا....جبکہ دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ بن جائیں گے یا نہیں؟ اس حوالے سے حمایت میں بھی اظہار خیال کیا جارہا ہے اور اس پر تنقید کے تیر بھی برسائے جارہے ہیں۔ گورنر سندھ محمد زبیر کے بیان نے تو جیسے جلتی پر تیل چھڑک دیا ہو انہوں نے فرمایا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو اتنا نہ چڑھایا جائے کیونکہ کراچی آپریشن کی کامیابی کا سارا کریڈٹ وزیراعظم میاں نواز شریف کو جاتا ہے اور یہ کہ جنرل راحیل شریف بھی دیگر جرنیلوں کی طرح عام جنرل ہیں۔ یہ گل افشانی بھی گورنر سندھ محمد زبیر ہی کی ہے کہ جس طرح علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اسی طرح شاید سابق آرمی چیف نے بھی کراچی کے حالات کو ٹھیک کرنے کا خواب دیکھا تھا' اس حقیقت سے وطن عزیز کا بچہ بچہ آگاہ ہے کہ کراچی آپریشن کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے اور آج کراچی میں جو ٹھہرائو ہے وہ کس کی کاوشوں کا مرہون منت ہے آزادی اور امن کے خواب بھی وہی دیکھتا ہے اور اسے ہی آتے جو اپنے عہدے ' آئین اور منصب کے ساتھ کئے گئے عہد اور تقاضوں کو نبھانے کی صلاحیت' نیت اور صادق جذبہ رکھتا ہو۔ یہ سچ ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف سے عوام نے جولامحدود توقعات وابستہ کر لی تھیں اور جو خواب دیکھے تھے۔ ان کی توقعات پوری ہوئیں اور نہ ہی انہیں خواب کے مطابق تعبیر ملی کیونکہ عوام یہ امید کر رہے تھے کہ دہشت گردی کے علاوہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا' عوام کو کنگال ' سرکاری املاک پر قبضے اور ملکی خزانے کو باپ دادا کی جاگیر اور وراثت سمجھ کر لوٹنے والوں کو بھی ''نتھ'' ڈالیں گے ۔ انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال کر ان سے لوٹا ہوا مال و اسباب واپس لیں گے' دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اسلامی ممالک میں ہم آہنگی اور عسکری اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے نہ صرف صہیونی قوتوں کے عزائم خاکستر ہوں گے۔ بلکہ اسلامی ممالک کے تعلقات سے بھی خطے میں امن اور معاشی انقلاب آئے گا۔ سعودی عرب نے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ راحیل شریف اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ ہوں گے۔ جنرل راحیل شریف کی عسکری صلاحیتوں کے اعتراف کے لئے سعودی عرب کی یہ خواہش ہی کافی ہے ۔ گورنر سندھ محمد زبیر جنرل (ر) راحیل شریف کو بے شک اتنا نہ چڑھائیں لیکن یہ واضع ہوچکا ہے کہ افواج پاکستان اور جنرل (ر) راحیل شریف کا جادو پوری دنیا کے سر چڑھ کر بول رہا ہے جنرل راحیل شریف اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے ان کو ہدف تنقید بنانے کے حوالے سے انتہائی پریشان اور دکھی ہیں اس کا شکوہ انہوں نے متعدد بار اپنے قریبی رفقاء سے بھی کیا یہ کریڈٹ جنرل (ر) راحیل شریف کو ہی جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف دہشت گردوں کی کمر توڑ ی بلکہ کراچی اور بلوچستان میں امن و عامہ کی بدترین صورتحال پر بھی قابو پایا۔ تقریباً چالیس مسلم ممالک کا جنرل (ر) راحیل شریف کو اسلامی عسکری اتحاد کا سربراہ بنانے کی تجویز پر متفق ہونا پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہے۔ مستقبل میں اس سے دورس نتائج ظاہر ہوں گے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر جنرل (ر) راحیل شریف ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں کامیاب ہوگئے تو اس کے پاکستانی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ابتدائی عرصے میں اس عسکری اتحاد میں 34ممالک شامل تھے جبکہ بعازاں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت سے یہ تعداد چالیس تک پہنچ چکی ہے۔ جنرل (ر) راحیل شریف کو اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی کے حوالے سے متضاد بیانات نے صورتحال کو گھمبیر بنا دیا ہے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا بیان ہے کہ حکومت کو جنرل (ر) راحیل شریف کی اس عسکری اتحاد کی سربراہی پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے نہ جانے ''کس'' کا رانجھا راضی کرنے کے لئے اور کس کی ''جوک'' پر جنرل (ر) راحیل شریف کی ذات کو ہدف تنقید بنایا۔ لیکن جب ان کے اس بیان پر تمام طبقہ فکر کا شدید ردعمل سامنے آیا تو فوراً ہی ان کی ''پھوک'' نکل گئی۔ بالخصوص اس پر عسکری حلقوں نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ یہاں یہ تک بھی سننے میں آرہا ہے کہ محمد زبیر کی ''گورنری'' بھی ہچکولے لے رہی ہے۔ ان کے خاندان نے بھی متنازعہ بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ادھر وزیراعظم میاں نواز شریف نے ''بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے'' سے مصداق وزراء اور مسلم لیگی رہنمائوں کو جنرل (ر) راحیل شریف کے حوالے سے کوئی بھی بیان دینے سے روک دیا ہے۔ اگر وزیراعظم یہ فریضہ ابتدا میں ہی سرانجام دے دیتے تو اس قدر ابہام نہ ہوا ہوتا۔ کیونکہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہمیشہ ہی الجھائو کا باعث بنتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیںعوام الناس بھی یہ پوچھنے کے ''جملہ حقوق'' محفوظ رکھتے ہیں کہ اصل ماجرا کیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved