یونیفارم نہیں سوچ بدلو
  24  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے وردی کو اپنی کھال قرار دیا تھا جس طرح ذبح کرنے کے بعد کسی ''داند یا لیلے'' کی کھال مشکل سے اترتی ہے اس سے کہیں زیادہ مشکل سے جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی کھال اتار ی تھی جسے وہ آج کل اپنے بیڈ روم میں دیوار کے ساتھ ہینگر پر لٹکا ہوا دیکھ کر ٹھنڈی ٹھار اور لمبی لمبی آہیں بھرتے ہیں۔ کھال اتارنے یا تبدیل کرنے کی تکلیف یکساں ہی ہوتی ہے اور اسی تکلیف میں ان دنوں پنجاب پولیس مبتلا ہے۔ گزشتہ ماہ سابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کے احکامات کی روشنی میں پنجاب پولیس کی کھال یعنی وردی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے مطابق پہلے مرحلے میں لاہور دوسرے میں راولپنڈی ریجن ' تیسرے میں فیصل آباد ریجن چوتھے میں ملتان ریجن ' پانچویں میں شیخوپورہ' چھٹے میں گوجرانوالہ اور ساتویں میں سرگودھا ریجن اور آٹھویں مرحلے میں ساہیوال ریجن کے پولیس افسران اور اہلکاروں کی یونیفارم تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا لیکن تاحال صرف لاہور پولیس کے افسران اور اہلکار ہی نئی کھال میں دکھائی دے رہے ہیں۔ لاہور اور راولپنڈی کے چند پولیس افسروں اور اہلکاروں سے جب اس ضمن میں گفتگو ہوئی تو انہوں نے نئی یونیفارم سے بیزاری کا اظہار کیا ان کاکہنا تھا کہ جس طرح ''بے بی کو بیس'' پسند ہے اسی طرح ہمیں اپنی پرانی وردی پسند ہے کیونکہ ہماری یہ کھال دہشت اور خوف کی علامت بن کی ہے اور ہمیں اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ ہماری نئی کھال ہماری شان و شوکت کا ناس مار دے گی ۔ پنجاب پولیس کی یونیفارم کی تبدیلی کے فیصلے کے بعد ''باریک کام'' کی کئی داستانیں بھی سنائی دیں۔ یہ بھی سنا گیا کہ اہم ترین حکومتی شخصیات کی ایک منظور نظر شخصیت کو نوازنے کے لئے پنجاب پولیس کی یونیفارم تبدیل کی جارہی ہے۔ جس سے اس شخصیت کو تقریباً دو ارب رورپے کا مالی فائدہ حاصل ہوگا۔ پنجاب پولیس کے قواعد و ضوابط کے مطابق کانسٹیبل سے سب انسپکٹر تک کے عملے کو سرکاری سطح پر یونیفارم مہیا کی جاتی ہے جبکہ انسپکٹر سے اوپر تک کے افسران کو تنخواہوں میں ہی یونیفارم الائونس شامل کیا جاتاہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اب تک جتنی بار بھی خادم اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں انہوں نے پولیس کو سدھارنے کے بلندو بانگ دعوے تواتر کے ساتھ کیے لیکن ان دعوئوں کو آج تک عمل جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ کانسٹیبل سے اوپر تک بلکہ اس سے بھی اوپر تک پولیس کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ صدیوں سے رائج پولیس سسٹم انتہائی ''پھٹیچر'' ہوچکا ہے جبکہ بے تحاشا سیاسی مداخلت سے پولیس افسروں اور اہلکاروں کو ''ریلوکٹے'' بنا دیا ہے جو پولیس افسر اور اہلکار حکومتی نمائندوں کی جتنی جی حضوری تابعداری اور خوشامد کرے گا اس کی تعیناتی اتنے ہی منافع بخش علاقے اور تھانے میں ہوگی۔ ملک بھر میں سالانہ ایک سو پچاسی ارب روپے سے زائد امن و امان کی صورتحال کو موثر بنانے کے لئے مختص کیے جاتے ہیں جبکہ پنجاب پولیس پر تقریباً اکیاسی ارب روپے خرچ بلکہ پھونکے جاتے ہیں۔ پولیس کے رویوں اور بدترین سلوک کے باعث پولیس اور عوام میں ایک گہری خلیج حائل ہوچکی ہے جسے عبور کرنے کے لئے بھاری ''کھیسا'' درکار ہرے۔ دادرسی کے لئے مظلوم کو بھی سیاسی سفارش تلاش کرنی اور رشوت دینی پڑتی ہے۔ تھانوں میں فرنٹ ڈیسک بنانے اور پولیس یونیفارم تبدیل کرنے سے عوام کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وردی تبدیلی کرنے کی ایک ورجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ کالے رنگ کی شرٹ اور ٹوپی پہننے سے موسم گرما میں پولیس افسروں اور اہلکاروں کے مزاج بھی گرم ہو جاتے ہیں۔ نئی یونیفارم کا کپڑا منتخب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ موسم گرما میں پولیس والوں کے مزاج گرم نہ ہوں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گرمی کالی شرٹ اور ٹوپی میں نہیں بلکہ یہ گرمی پولیس والوں کی کھوپڑیوں میں ہے۔ یونیفارم کی تبدیلی سے رویے اور لہجے تبدیل ہونے کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اگر کسی نے اس حقیقت کی تصدیق کرنی ہو تو وہ لاہور پولیس کا رویہ اور لہجہ ملاحظہ کرسکتا ہے جس میں یونیفارم کی تبدیلی سے رتی بھر کی تبدیلی نہیں آئی۔ جس طرح عام سا ایک نعرہ ہے کہ چہرے نہیں نظام کو بدلو اسی طرح عوام کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ پولیس کی یونیفارم نہیں ان کے ذہنوں اور رویوں کو بدلو۔ پنجاب پولیس کی نفری تقریباً دو لاکھ سے زائد ہے سج کی ایک اضافی خوبی یہ بھی ہے کہ اسے ہر بندہ ہی مشکوک دکھائی دیتا ہے جبکہ جو حقیقی مشکوک ہوتے ہیں وہ پولیس والوں کے ''معشوق'' ہوتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کی وردی کا معیار پاک فوج کے یونیفارم کے برابر رکھا ہے ہے ۔ کیا اس اقدام سے پنجاب پولیس کا جذبہ یا کارکردگی بھی پاک فوج سے جوانوں اور افسروں کے جذبے اور کارکردگی کے برابر ہو جائے گی۔ اس انقلاب کی توقع اس لئے بھی نہیں کی جاسکتی کہ اس سے قبل پولیس اصلاحات کے جتنے بھی وعدے کیے گئے ہیں وہ آج تک تشنہ لب ہیں۔ عام طور پر ایک انسان کی ''ویسٹ'' کا سائز تیس سے اڑتالیس انچ ہوتاہے لیکن اکثر ''پلسیوں'' کی ویسٹ ان کی بے تحاشا پھیلی ہوئی توندوں کے باعث مقررہ حد بھی عبور کر جاتی ہے جس سے یونیفارم تیار کرنے والے ٹیلر ماسٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ خرائن ظاہر کررہے ہیں کہ پنجاب پولیس کی یونیفارم کی تبدیلی سے مزید مراحل ادھورے ہی رہیں گے کیونکہ کپڑے کی خریداری اور سلائی میں کئی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پنجاب پولیس کے شیر جوانوں کا اگر سانپ کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو یونیفارم کی تبدیلی ان پر کیا اثر ڈالے گی۔ گزشتہ دنوں کامونکی میں ریاست علی بھٹی نامی ایک سب انسپکٹر کو سانپ نے ڈس لیا لیکن حیرت انگیز طور پر انسپکٹر پر سانپ کے زہر کا کوئی اثر نہیں ہوا جبکہ سانپ تڑپ تڑپ کر موقع پر ہی مرگیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved