جمہور… جمہوریت اور بجٹ
  31  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

حکومت وقت اس بات پر نازاں ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار منتخب وزیراعظم اور وزیر خزانہ نے مسلسل پانچواں عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ آئندہ بجٹ بھی ''شیر'' ہی پیش کرے گا' جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پی آئی اے کی لاجواب سروس سے وابستہ لوگ باکمال نہیں ہوسکتے۔ پولیس کا فرض عوام کی مدد اور صدیوں سے جاری ساس اور بہو کا پھڈا ختم نہیں ہوسکتا۔ سانپ اور نیولے کا یارانہ نہیں ہوسکتا اور بلی اور چوہے میں دوستی نہیں ہوسکتی اسی طرح کوئی بھی بجٹ کبھی بھی عوام دوست نہیں ہوسکتا۔ بجٹ ہمیشہ عوام کا ایسا دوست ثابت ہوا ہے جس کے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہوتا ہے۔ اربوں کھربوں روپے کا بجٹ پندرہ بیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والے محنت کش کا دوست کیسے ہوسکتا ہے۔ ہر سال بجٹ پیش کرنا حکومت کی مجبوری ہے۔ عوام کی اکثریت اس خبر سے ہی ''بے خبر'' تھی کہ 26 مئی کو ان کا دوست بجٹ آرہا ہے۔ انگلیاں مروڑ مروڑ کر مہینے بھر کے گھریلو اخراجات کا حساب لگانے والے کیا جانیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر کیا ہوتے ہیں اور سٹاک مارکیٹ میں کیا بکتا ہے۔ فائلراور نان فائلر کسے کہتے ہیں۔ جہازوں' ہیلی کاپٹروں اور کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں میں دندناتے اور اڑنے والے حکمرانوں کو کیا معلوم کہ بسوں ' ویگنوں میں ایک دوسرے کی بغلوں میں گھس کر پسینے کی بدبو میں سفر کرنے والوں کو کن کن کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ حاتم طائی کی قبر پر لات بلکہ ''دولتی'' مارتے ہوئے محنت کشوں کی اجرت پندرہ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے جب ان محنت کشوں کو یہ معلوم ہوا ہوگا کہ شب و روز ان کے غم میں جانیں ہلکان کرنے والوں کے محلوں کے اخراجات میں کروڑوں روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے تو ان کے دلوںپر کیا گزری ہوگی۔ ان کے ہونٹوں پر کون کون سے الفاظ چھپے ہوں گے۔ حکومت وقت کے پیش کیے جانے والے گزشتہ چار بجٹوں سے ملک میں کتنی خوشحالی آئی ہے کہ جس میں حالیہ بجٹ سے اضافے کی توقع کی جاسکے۔ صحت' تعلیم' توانائی اور پانی کے منصوبوں کے لئے38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہر سال ہر بجٹ میں مختلف منصوبوں کے لئے اربوں کھربوں روپے رکھے جاتے ہیں لیکن پورا سال ان کا ''سرا ملتاہے اور نہ ہی کوئی کھرا'' نکلتاہے۔ بجٹ ایک شعبہ اور بجٹ پیش کرنا شعبدہ بازی ہے۔ یہ شعبدہ بازی وفاقی وزیر خزانہ کے علاوہ چاروں صوبائی خزانوں کے وزراء کو مرحلہ وار دکھانا پڑتی ہے۔ یہ مشقت کرتے ہوئے وزیروں کے گلے اور ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں کیونکہ کوئی کتنا جھوٹ بول سکتا ہے۔ کتنی غلط بیانی کرسکتا ہے جب بندے کو یہ معلوم ہو کہ وہ جتنے وعدے کررہا ہے ان کے پورے ہونے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں تو پھر گلا اور ہونٹ خشک ہو ہی جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس شعبدہ بازی پر وفاقی وزیر خزانہ کو وزیراعظم اور صوبائی خزانوں کے وزراء کو وزرائے اعلیٰ خصوصی طور پر مبارکباد پیش کرنا آئین اور اپنے حلف کا تقاضا تصور کرتے ہیں۔ کسی زمانے میںسال میں صرف ایک ہی بجٹ پیش کیاجاتا تھا اور عوام تک اس کے ''ماڑے موٹے'' اثرات بھی پہنچتے ہوئے دکھائی دیتے تھے لیکن آج عوام کو سالانہ کے علاوہ ماہانہ بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بجٹوں کا ظلم و ستم سہنا اور کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مسلسل پانچویں بجٹ کو مضبوط جمہوریت کا عکاس قرار دیا ہے۔ جناب والا! بجٹوں سے بھی کبھی جمہوریت مضبوط ہوئی ہے کاش جمہور کی آپ تک رسائی ہوتی یا آپ کی عقابی نگاہیں جمہور کی حالت زار تک پہنچ پاتیں تو آپ کو یہ اندازہ ہوتا کہ جمہور جمہوریت کے ثمرات سے کوسوں دور ہے ۔ ایک اقتصادی سروے کے مطابق ترقی کا دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ معیشت ساڑھے تین سو کھرب ہوگئی ہے جبکہ جاری خسارہ بے قابو اور قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عام آدمی کے لئے اس نوعیت کی خبر سمجھناتو درکنار پڑھنا بھی مشکل ہوتاہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی ترقی ہے کہ جس میں خسارہ بھی بے قابو اور قرضوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بندہ ناچیز کو روز اول سے ہی حساب سے ''دلی چڑ'' رہی ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ یہ نکلتا تھا کہ حساب کے پرچے میں ناکامی کانوں کے پاس سے گزر جایا کرتی تھی۔ اقتصادی سروے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ غربت میں کمی کے علاوہ فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سروے کرنے والوں نے نہ جانے یہ سروے کہاں کیا ہے۔ یہ سروے کسی ایسے علاقے میں کیاجاتا جہاں لوگ یہ سوچتے سوچتے رات گزار دیتے ہیں کہ کل ان کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا۔ حکومت کے ''پتلی گھر'' میں ناچنے والی ''پتلیاں'' بجٹ کی تعریف میں تعریف و توصیف کے قلابے ملارہی ہیں کیونکہ ان کی نوکری بھی یہی ہے اور ان کی چاکری بھی یہی ہے۔ جیسے جیسے بجٹ کے خدوخال واضح ہو رہے ہیں لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بالخصوص خواتین کے چہروں کی رنگت اڑی اڑی سی دکھائی دے رہی ہے انہیں یہ شکوہ ہے کہ بنائو سنگھار کے سامان اور امپورٹڈ کپڑوں کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور اب آن ملو ''سجنا' کے لئے بھی سجنا اور سنورنا انتہائی مہنگا پڑے گا۔ یہ ملک کی 55 فیصد خواتین کے ساتھ ظلم ہے۔ دوسری جانب بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ریٹائرڈ سرکاری ''بابے'' بھی یہ پوچھتے تھے اور ''بابیاں دا کی نبڑوں'' بجٹ میں جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ان کی پنشن میں صرف دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے تو ان کی امیدوں کے دیپ بھی ٹمٹانے لگے کیونکہ گھر میں ان کا عزت و وقار پنشن کا ہی مرہون منت ہے۔ ہماری وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے یہ درخواست ہے کہ انہوں نے بجٹ میںجو اربوں کھربوں روپے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے رکھے ہیں وہ خرچ کریں یا نہ کریں لیکن کم از کم ایک بار نوٹوں کے وہ انبار عوام کو ٹی وی چینلز پر ہی دکھادیں تاکہ جمہور کا جمہوریت پر اعتبار قائم رہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved