میرے وچ میرا یار بولدا
  7  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں نہیں بولدی' لوکو میرے وچ میرا یار بولدا' شاید یہ کیفیت عشق کی معراج ہے۔ لیکن یہ کیفیت ہر ایرے غیرے' پر طاری نہیں ہوتی اس کے لئے محبوب کے سحر میں ڈبکیاں لگانی پڑتی ہیں۔ اور اگر اس عشق سمندر میں مناسب گہرائی تک ڈبکی لگائی جائے تو عاشق کے ڈوبنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور اگر گہرائی کا اندازہ لگائے بغیر ڈبکی لگائی جائے تو ڈوبنے کا احتمال حتمی ہو جاتا ہے اور ڈوبنے والا اپنے بچائو کے لئے بالکل ایسے ہی ہاتھ پائوں مارتا ہے جیسے ان دنوں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی ہاتھ پائوں مار رہے ہیں 28مئی کو شاید ان کے اندر بھی ان کا کوئی یار بول رہا تھا نہال ہاشمی جوش خطابت میں اس قدر نہال ہوئے کہ انہوں نے اداکار سلطان راہی (مرحوم) کی یاد تازہ بلکہ تروتازہ کر دی سلطان راہی کی گھن گرج اور بڑھکیں بھی ایسی ہی ہوا کرتی تھیں۔ نہال ہاشمی نے جذبات کی رو میں بہہ کر وفاداری اور تابعداری کی ایک درخشاں مثال قائم کر دی ہے مذکورہ تقریب یوم تکبیر کے حوالے سے تھی۔ لیکن نہال ہاشمی نے تقریب کو لالو کھیت کا جلسہ بنا دیا۔ توقع کی جارہی تھی کہ وہ پاکستان کے ایٹمی صلاحیت ہونے پر فخر کا اظہار اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ اللہ کے فضل و کرم سے فیس بک اور الیکٹرانک میڈیا نے پوری قوم کو ہی تجزیہ نگار بنا دیا ہے جنہیں گھر میں ان کی اہلیہ دوسری بار سالن نہیں دیتی وہ بھی ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبصرے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اگر کسی کا بچہ سکول نہ جانے کی ضد کرے' کسی کا مرغا' ''بانگ'' نہ دے ۔ گھر میں کام کرنے والی ماسی اچانک چھٹی کرلے۔ حتیٰ کہ ہانڈی میں گوشت بھی نہ گلے تو اس پر بھی مشکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ان محرکات کے پیچھے یقینا کوئی خفیہ ہاتھ ہے۔ نہال ہاشمی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ انہوں نے ''میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے'' کے مصداق ''کسی اور'' کے جذبات اور خیالات کی ترجمانی کی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو وڈیو کلپ وائر ہوئی ہے اس میں نہال ہاشمی نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے بھرپور جوہر دکھائے ہیں۔ ان کے پیچھے کھڑا ایک شخص اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے ۔ نہال ہاشمی کی پرفارمنس پر ان کے قائدین اور پارٹی رہنمائوں نے یقینا داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکن جاوید ہاشمی کی طرح نہال ہاشمی کو بھی ایک بہادر آدمی سمجھ بیٹھے تھے۔ لیکن جب انہوں نے معافیاں تلافیاں مانگنا شروع کر دی تو پتہ چلا کہ وہ صرف آدمی ہیں۔ بہادر نہیں بلکہ اب تو لوگوں نے جاوید ہاشمی کو بھی بہادر آدمی کہنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان کی بہادری بھی کسی کام نہ آئی۔ دوران خطاب نہال ہاشمی وجد میں ڈوب کر تیزی اور روانی میں نہ جانے کیا کیا کہہ گئے۔ مادہ پرستی کے اس دور میں کون کسی سے اس حد تک عشق کرتا ہے کہ اس کا اپنا ہی کباڑہ ہو جائے۔ وقتی طور پر محض دکھاوے کے لئے ہی سہی نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت معطل اور سینٹر شپ سے ان کا استعفیٰ سینٹ سیکرٹریٹ کو موصول ہوچکا ہے جس کی تصدیق کے لئے وہ چیئرمین سینٹ کے طلب کرنے کے باوجود مقررہ دن اور وقت پر پیش نہیں ہوئے۔ نہال ہاشمی کے خلاف کراچی کے تھانہ بہادر آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 112/2017 کے مطابق انہوں نے اپنی تقریر میں دھمکی و تضحیک آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں اور عدلیہ اور سرکاری تحقیقاتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور عوام میں عدلیہ کے خلاف نفرت انگیز جذبات پیدا کرنا پایا گیا ہے۔ ایف آئی ار کا متن تھوڑا طویل ہے اس لئے مختصراً تحریر کرنا پڑ رہا ہے نہال ہاشمی کا الفاظ کا چنائو جو ش و جذبہ اور انداز بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اس کی باقاعدہ ریہرسل کی ہے وفاقی وزراء اور مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کا لہجہ دن بدن تلخ اور ترش ہوتا جار ہا ہے دوران گفتگو آداب گفتگو اور اداروں کے وقار کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ وہ جس طرف آنکھ اٹھاتے ہیں انہیں اپنے محبوب قائد کی تصویراں بھی دکھائی دیتی ہے یعنی ''جس طرف آنکھ اٹھائوں' تیری تصویراں ہے'' وفاقی وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل پر کہہ رہے تھے کہ ججوں کو کون سا اللہ میاں نے عدالتوں میں بٹھایا ہے کہ ان پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا فرمان ہے کہ ہم لوہے کے چنے ثابت ہوں گے یہ تو وہ گفتگو ہے جو منظر عام پر آچکی ہے جبکہ پس چلمن جن خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے ان میں مصالحہ جات کی مقدار اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے اپنے تاریخی خطاب کے بعد نہال ہاشمی جب سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے تو ان کی رنگت اڑی اڑی اور بال بکھرے بکھرے سے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی نیندیں بھی اڑ چکی ہیں اور وہ سوچ رہے ہیں کہ ''دس میں کی پیار وچ کھٹیا'' نہال ہاشمی اللہ تعالیٰ قوم اور عدلیہ سے برملا معافی مانگ چکے ہیں ۔ یعنی ان سے عشق کا امتحان ابھی جاری ہے ان کا موقف ہے کہ میں نے تیزی میں کچھ زیادہ ہی کہہ دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ نہ صرف زیادہ بلکہ بہت ہی زیادہ اور تیز ہے اور لگ رہا ہے کہ انہیں اپنی زیادتی اور تیزی کا کفارہ ادا کرنا ہی پڑے گا ۔ عطاء الحق قاسمی نے اپنے ایک کالم میں نہال ہاشمی کی تیزی کا مدا عمران خان پر ڈال دیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ایسے رویوں کا ذمہ دار عمران خان ہے اور اس وقت عمران خان سے بڑا سیاسی بلیک میلر کوئی نہیں ہے کسی کی سیاسی وابستگی اور نظریات پر تنقید تو کی جاسکتی ہے لیکن اس پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ لیکن حق وفا نبھانے کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بھی ہوتا ہے اکثر عمران خان کا طرز خطابت اور گفتگو بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ جسے مہذب نہیںکہا جاسکتا ۔ یہ بھی کوئی فرض نہیں ہے کہ گالی کا جواب گالی سے دیا جائے ' اس کے لئے کوئی مہذب طریقہ بھی اپنایا جاسکتا ہے جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے حکومت گرداب میں پھنستی اور دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے بلکہ اب تو وزیراعظم میاں نواز شریف کے مستعفی ہونے کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے ادھر مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین قومی اسمبلی نے مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے پیش نظر منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا ہے اس ضمن میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے انسٹھ اراکین قومی اسمبلی اب تک مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے خفیہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ موضوع سخن کے مطابق نہال ہاشمی کے استعفیٰ کی تصدیق میں تاخیر اور گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر ان کی خوداعتمادی' سنورے ہوئے بال اور روشن چہرہ یہ ظاہر کر رہا تھا کہ میں نہیں بولوی لوکو میرے وچ میرا یار بولدا' کا خدشہ درست ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved