کیا اشرف غنی کو یہ زیب دیتا ہے؟
  12  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی شہریت کے حامل افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی کچھ زیادہ ہی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں 6جون 2017کو کابل میں ہونے والی چھ فریقی کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کسطرح اس خطے کے ممالک باہم ملکر افغانستان میں خانہ جنگی ختم کراکر قیام امن کی کوششیں تیزکرسکتے ہیں، پاکستان بڑے خلوص کے ساتھ اس کانفرنس میں شریک ہوا تھا دیگر ممالک میں امریکہ، روس، بھارت، چین ، ایران اور افغانستان شامل تھے، لیکن وہاں موجود شرکاء کو افغانی صدر کی تقریر اور اس میں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے ضمن میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ سے نہ صرف مایوسی ہوئی بلکہ ان میں شدت کے ساتھ یہ احساس جاگزیں ہوا کہ افغانستان کی قیادت اپنے ملک میں امن کے قیام میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے، بلکہ وہ اپنے محسن بھارت کی ایما پر پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بد نام کرنا چاہتا ہے، جوکہ مسئلہ کا حل نہیں ہے، ظاہر ہے کہ یہ چھ فریقی کانفرنس اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہوگئی ہے، اور اسکی ناکامی کی تمام ترذمہ داری جناب اشرف غنی پر عائد ہوتی ہے جو اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی کو چھپانے کی غرض سے پاکستان پر دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگا رہے ہیں، یہ زبان دراصل بھارت کی زبان ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رکھنا چاہتاہے، دوسری طرف پاکستان کی عسکری قیادت نے ایک بار پھر اشرف غنی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور برملا کہا ہے کہ وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ وہ کسطرح افغانستان کا نظم و نسق چلارہے ہیں، نیز پاکستان نے اس خطے میں اور عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کے انسداد کے سلسلے میں جو قربانیاں دی ہیں اس سے تمام دنیا واقف ہے اور اگر واقف نہیں ہے تو وہ جناب اشرف غنی ہیں جو اپنی صدارت کو بچانے کی غرض سے پاکستان کو خواہ مخواہ بدنام کررہے ہیں ، ظاہر ہے کہ اس طریقہ کار سے افغانستان میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکے گا، جسکا نقصان افغانستان اور پاکستان کے علاوہ پورے خطے کو کوہوگا، کیونکہ افغانستان کا پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی رویے سے افغانستان میں چھپے ہوئے داعش کے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں جو دونوں ملکوں میں دہشت گردی کا ارتکاب کرکے حالات کو خراب سے خراب تر کررہے ہیں، اسوقت افغانستان میں ملا فضل اللہ کا گروپ بھی خاصہ محترک ہے جو موقع ملتے ہیں پاکستان کے اندر خصوصیت کے ساتھ افغانستان کے ساتھ ملے ہوئے علاقوں پر دہشت گردانہ کارراوئیوں سے باز نہیں آرہاہے، ملا فضل اللہ کو افغانستان اور بھارت کی ہمدردیاں حاصل ہیں بلکہ بھارت ان دہشت گردوں کی مالی مدد بھی کررہاہے، پاکستان کی عسکری قیادت ہر موقع پر اشرف غنی کے الزامات کا انتہائی موثر اور مدلل جواب دیتی ہے تاکہ ریکارڈ کو درست کرلیا جائے لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت اس اہم مسئلہ پر مسلسل خاموش ہے، ایسا لگتا ہے کہ سیاسی قیادت کاکام صرف حکومت کرنا ہے، جبکہ ملک کو چلانے اور دشمنوں سے بذدآزما ہونے کی تمام تر ذمہ داریاں عسکری ادارے پرعائد ہوتی ہے، یہ صورتحال کسی بھی لحاظ سے مناسب یا تسلی بخش نہیں ہے، سیاسی قیادت کو آگے بڑھ کر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے الزامات کا موثر جواب دینا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہورہاہے، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہاہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن کے قیام سے کوئی خاص دلچسپی نہین ہے، ساری ذمہ داری عسکری قیادت پر آن پڑی ہے جسکو وہ احسن طریقے سے پورے کررہے ہیں، اس لئے اگر پاکستان کی سیاسی قیادت عوام اور خواص میں اپنا بھرم رکھنا چاہتی ہے تو اسکو چاہئے کہ وہ خارجی امور پر توجہ دے کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین کرے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا موقف کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے، دراصل اشرف غنی بڑی چالاکی اور عیاری سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرکے دراصل پاکستان کی عسکری قیادت کو بد نام کرنا چاہتے ہیں جس میں انہیں نہ تو کامیابی حاصل ہورہی ہے اور نہ ہی وہ اس طرح اس خطے کے ممالک کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، ماسوائے بھارت کے! اس پس منظر میں امریکہ افغانستان میں امریکی فوجوں میں اضافہ کرنا چاہتاہے، جس حکمت عملی کو بارک اوباما نے 2009میں اپنایا تھا ، لیکن کامیابی نہیں ہوسکی تھی، اب صدر ٹرمپ پھر ایک بار امریکی فوجوں میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں ، دراصل میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان کی پالیسی سے متعلق غلط مشورہ دیا جارہاہے، جب ماضی میں امریکہ کی ایک لاکھ سے زائد فوج افغان طالبان کو زیر نہیں کرسکی تو دوبارہ امریکہ کسطرح افغان طالبان پر فتح حاصل کرسکے گا،؟ دراصل افغانستان میں حکومت کرنے والوں میں اپنے ملک میں امن کے قیام میں دلچسپی ہوتی تو وہ ایسے اقدامات ضرور اٹھا سکتے تھے جسکی مدد سے حالات بہتری کی طرف جاتے، لیکن 16سال گذر جانے کے باوجود افغانستان میں خانہ جنگی جاری ہے جسکو مزید جاری رکھنے میں افغان وارلارڈ کے واضح مفادات شامل ہیں مزیدبراں بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں افغان طالبان فتح حاصل کرسکیں اور وہاں عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہوسکے، کیونکہ جس دن کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تو اسوقت افغانستان میں یاتو افغان طالبان کابل پر قابض ہوجائیں گے، یاپھر بھرپور انداز میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے، اس صورت میں یہ ممکن ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے کی صورت میں اقوام متحدہ کی فوج کو امن کے قائم کرنے کیلئے اترنا پڑے جیسا کہ ماضی میں بعض افریقی ممالک میں ایسا ہوا ہے بہر حال افغانستان میں اسوقت تک امن قائم نہیں ہوسکتاہے، جب تک غیر ملکی فوجیں وہاں موجود ہیں اور جس کے خلاف افغان طالبان لڑرہے ہیں پاکستان پر الزامات عائد کرکے حالات کو نہیں بدلا جاسکتاہے، اور نہ ہی اس طرح افغانستان میں امن قائم ہوسکتاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved