گرجدار آواز او ر کلاسیکل القابات
  14  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جھپٹنا پلٹنا… پلٹ کر جھپٹنا… لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ … یہ شعر نہ جانے کون سے موسم میں کس پس منظر کے پیش نظر لکھا ہے جبکہ ہمارے دھکا سٹارٹ دماغ کے مطابق شاعر نے یہ شعر پوہ ' ماگھ یعنی دسمبر جنوری کی کسی سرد رات میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے دوران لکھا ہے کیونکہ سرد موسم میں جسم اور لہو کو گرم رکھنے کے لئے چولہے یا ہیٹر کے ''سیک'' کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرمیوں میں جھپٹے پلٹنے اور جھپٹ سے لپکے بغیر ہی لہو اور جسم گرم رہتا ہے بالخصوص اس وقت تو لہو کی گرمائش ناقابل برداشت ہو جاتی ہے جب کئی کئی گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا لوگوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام کو اپنی اوقات میں رکھنے کے لئے کیسے کیسے انوکھے حربے آزمائے جاتے ہیں۔ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کرکے رگوں میں دوڑنے والا لہو مزید ٹھنڈا کر دیا جاتاہے اور گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کرکے گرم لہو کو مزید گرم کر دیا جاتا ہے۔ مکافات عمل کے نظام سے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ عوام کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے والوں کا اپنا لہو گرم اور دماغ گھوما ہوا ہے۔ بیس اپریل کو سپریم کورٹ سے فیصلے کے بعد مٹھائیاں تقسیم کرنے اور جھپیاں ڈالنے والوں کو یہ ادراک ہوا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) والے اب عید الفطر پر بھی کسی کو مٹھائی نہیں کھلائیں گے اور نہ ہی کسی سے جپھی ڈالیں گے۔ رمضان المبارک کے دوران برسنے والی بارشوں سے گرم موسم کی شدت کسی حد تک کم ہوچکی ہے لیکن سیاسی موسم دن بدن گرم ہو رہا ہے۔ سرخ چہروں کی باڈی لینگوئج' تلخ لہجے' گرجدار آواز اور کلاسیکل القابات زبان زد عام ہیں۔ بڑے لوگوں کا بڑا پن کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ تمہید باندھے بغیر چند القابات اور خطابات شیئر کررہا ہوں جو تعلیم یافتہ اور اعلیٰ خاندانوں کے چشم و چراغ روزانہ ٹی وی چینلز پر اپنے سیاسی مخالفین کو عطا کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی راہنما شیریں مزاری کو اسمبلی فلور پر ٹریکٹر ٹرالی کہا۔ پانی و بجلی کے ''نکے'' وزیر عابد شیر علی نے تحریک انصاف والوں کو ریلوکٹے' پاگل اور بائولے قرار دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک میں اس وقت نہ بجلی ہے نہ پانی۔ لیکن دو وزیر ضرور موجود ہیں۔ سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ بنی گالہ میں ''چھوٹو گینگ اور لٹو گینگ'' نامی دو فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون آصف کرمانی نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی نابالغوں کا ٹولہ ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ سی پیک میں نے بنوایا تھا لیکن لٹیروں نے لوٹ لیا ہے۔ ہم لوٹا ہوا پیسہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف عرف شوباز کے پیٹوں سے نکلوالیں گے۔ یاد رہے کہ جب آصف علی زرداری برسر اقتدار تھے تو شہباز شریف نے آصف علی زرداری کوگلیوں میں گھیسٹ کر ان کے پیٹ سے پیسہ نکالنے کا دعویٰ کرتے ہوئے جوش خطابت میں ڈائس پر لگے ہوئے مائیک بھی گرا دیئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں دانیال عزیز' طلال چوہدری اور مائزہ حمید نے تو جے آئی ٹی پر بھی دھاوا بول دیا ہے اور کہا کہ یہ تحقیقاتی ادارہ ہے یا قصائی کی دکان۔ جہاں لوگوں کو بلاکر انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے شیخ رشید احمد کو رگڑا لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھگ ہے جو مسلم لیگ میں آنے سے پہلے راولپنڈی کا شیدا ٹلی تھا۔ یہاں تک پہنچا ہی تھا کہ یہ بریکنگ نیوز آگئی کہ نہال ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ انہیں اپنے مسلم لیگی ہونے کا بڑ ا زعم تھا ۔ اپنی فراغت سے ایک دن قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ میں کل بھی مسلم لیگی تھا ' آج بھی ہوں اور کل بھی رہوں گا جبکہ اگلے ہی دن سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ان کی غلط فہمی یہ کہہ کر دور کردی کہ نہال ہاشمی کا مسلم لیگ سے کوئی تعلق تھا نہ ہے اور نہ ہی ہوگا۔ نہال ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے وزیراعظم نواز شریف کے کہنے پر استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی ان کے کہنے پر واپس لیا ہے۔ لیکن عابد شیر علی کہتے ہیں کہ نہال ہاشمی نے وزیراعظم کی ہدایت پر ہی استعفیٰ دیا ہے۔ ایک خاتون کو یہ غلط فہمی تھی کہ اس کی آنکھیں ہمامالنی سے ملتی ہیںلیکن دیکھنے والے یہ کہتے تھے کہ خاتون کی آنکھیں آپس میں نہیں ملتیں تو ہما مالنی سے کیسے ملیں گی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) والوں کے اپنے خیالات اور بیانات آپس میں نہیں ملتے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اپنی سیاسی زندگی کی مشکل ترین اننگز کھیل رہے ہیں۔ جہاں سے سرخرو بھی ہوسکتے ہیں اور ''دبڑ دوس'' بھی ہوسکتے ہیں۔ طلالوں اور دانیالوں سے جو روش اپنا رکھی ہے اس سے تو یہی دکھائی دیا ہے کہ جیسے انہوں نے یہ تہہ کر رکھا ہے کہ انہوںنے ہر صورت بیل کو یہ دعوت دینی ہے کہ 'آبیل مجھے مار' اس کا مقصد اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ سیاسی شہادت کا رتبہ حاصل کیا جائے۔ اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں حالانکہ یہ تاریخ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی رقم کرچکے ہیں۔ وطن عزیز کا سنگین مسئلہ کرپشن کی انتہا ہے جس طرح گرمیوں میں تربوز فروخت کرنے والے یہ صدا لگاتے ہیں کہ … جہیڑا کپو اُہ ای لال اے… یعنی جو تربوز کاٹیں وہی اندر سے لال نکلے گا۔ بالکل اسی طرح جس وزیر ' مشیر' سیاست' ادارے اور اس کے سربراہ کا نام لیا جائے وہ اندر سے لال ہی نکل رہا ہے۔ لاکھوں کی کرپشن کو توہین سمجھا جاتا ہے۔ جو جتنے کروڑ اور ارب کی کرپشن کرے گا اس کا نام اور مقام اتنا ہی اونچا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے پاس منی لانڈرنگ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ جن کی موجودگی میں کسی وعدہ معاف گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے بے ضرر اور بے حد ممنون صدر پاکستان ممنون حسین کو بھی بدعنوان لوگوں سے بدبو اور کراہت آتی ہے لیکن اس کا اظہار وہ صرف اپنے خطابات میں ہی کرتے ہیں۔ شاید ایوان صدر میں موجودگی کے دوران ان کی سونگھنے کی حس' بے حس ہو جاتی ہے… اعلیٰ منصب کا یہی تو کمال ہے کہ ساری حسیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved