چاند ستارے' پھول کلیاں اور پاپا جانی
  21  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہزاروں قدم مسافت طے کرنے کے لئے پہلا قدم اٹھانا ہی پڑتاہے اور جب طویل راہ کے مسافر کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا حقوق العباد کی ادائیگی اور یتیم بچوں کے سروں پر دست شفقت رکھنا ہو تو پھر راستوں کے نشیب و فراز' موسموں کی سختیاں اور زمانے کی تلخیاں بھی ثانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ جو لوگ رب ذوالجلال پر توکل کرکے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں انہیں ہمیشہ اس ذات بابرکات کی مدد اور راہنمائی حاصل رہتی ہے۔ چند برس قبل تک پاکستان سویٹ ہوم کے سرپرست اعلیٰ زمرد خان کی پہچان ایک سیاستدان اور قانون دان کی تھی لیکن آج ان کی پہچان سویٹ ہوم کے ہزاروں پھولوں کلیوں اور چاند ستاروں کے پاپا جانی کی ہے۔ ہر انسان کامیاب زندگی بسر کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کرتا ہے اس کی یہ خواہش ہوتیہے کہ معاشرے میں اسے اعلیٰ مقام حاصل ہو لیکن۔ایک میری چاہت ہے۔ اور ایک تیری چاہت ہے۔ ہوگا وہی جو میری چاہت ہے کے مصداق ہوتا وہی ہے جو کاتب تقدیر کی چاہت ہو۔ زمرد خان آج اس حقیقت کی روشن مثال بن چکے ہیں۔2008 ء کے عام انتخابات کے بعد جب زمرد خان نے پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر کا منصب سنبھالا تو عوام کی اکثریت اس بات سے بھی ناآشنا تھی کہ ملک میں کوئی ایسا ادارہ بھی قائم ہے جس کا کام مستحق افراد کی دادرسی کرنا ہے لیکن زمرد خان نے صرف چند ماہ میں ہی پاکستان بیت المال کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک بھی ایک باوقار ادارہ ثابت کیا۔ پاکستان بیت المال کی تاریخ میں زمرد خان کا دور ہمیشہ ایک روشن باب کی طرح روشن رہے گا۔ 2009 ء میں سوات کے علاقے میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے سوات آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کے باعث لاکھوں افراد کو بے سروسامانی کے عالم میں اپنے گھر بار چھوڑنے پڑگئے۔ جن کی عارضی آباد کاری کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے جبکہ زمرد خان کی قیادت میں پاکستان بیت المال اپنے تمام وسائل اور افرادی قوت آئی ڈی پیز کی خدمات پر معمور کر دی ہے۔ یہ ان ہی ایام کا تذکرہ ہے کہ ایک دن زمرد خان امدادی کیمپ میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے رہے تھے کہ ان کے سامنے چار سال کا ایک معصوم خوبصورت سا بچہ لایا گیا ان کے استفسار پر بتایا گیا کہ بچے کے والدین کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ معصوم بچے کے چہرے سے ایک انجانا سا خوف چھلک رہا تھا یہی وہ تاریخی اور یادگار لمحہ تھا جب زمرد خان نے بچے کو اپنی کفالت میں لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ دن اور آج کا دن انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ زمرد خان کے دل و دماغ میں ایک ہی سودا سماگیا کہ انہوں نے ماں باپ کی شفقت سے محروم بچوں پر اپنے وسائل اور آرام و سکون نچھاور کر دینا ہے۔ یہ زمرد خان اور ان کی ٹیم کی کاوشوں اور خلوص نیت کا ہی ثمر ہے کہ آج اسلام آباد کے علاوہ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر' گلگت بلتستان میں بھی پاکستان سویٹ ہومز کے مراکز قائم ہوچکے ہیں جن میں چار ہزار سے زائد بچے مقیم ہیں جبکہ اسلام آباد سویٹ ہومز میں چھ سو بچے زندگی کا سفر طے کررہے ہیں۔ ان بچوں کو ہر وہ سہولت اور آسائش میسر ہے جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ صاف شفاف کشادہ رہائش' جدید تعلیم' طبی سہولیات' بہترین معیاری خوراک اور دینی تعلیم کا ایسا منظم نظام قائم ہے کہ جسے جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے 'کم ہے۔ زمرد خان نے آج سے آٹھ برس قبل آئی ڈی پیز کے امدادی کیمپ سے پہلا بچہ گود لے کر جب کٹھن سفر کا پہلا قدم اٹھایا تھا وہ سفر آج بھی جاری و ساری ہے اس سفر کے دوران یقینا انہیں مصائب و مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہوگا لیکن بات پھر اس حقیقت پر آکر ٹھہرتی ہے کہ جب رب کائنات کی چاہت کے مطابق فریضہ سرانجام دیا جائے تو پھر اس کے نتائج یہی نکلتے ہیں کہ ۔ ہوگا وہی جو میری چاہت ہے یعنی اگر تم نے سپرد کر دیا اپنے آپ کو اس کے جو میری چاہت ہے تو میں تجھے وہ بھی دوں گاجو تیری چاہت ہے۔ زمرد خان کی چاہت بھی یہی ہے کہ ان کے ہزاروں بچے تعلیمی مراحل طے کرنے کے بعد معاشرے میں سر اٹھاکر جی سکیں۔ جس لگن اور جانفشانی سے پاکستان سویٹ ہوم کے چاند ستاروں اور پاپا جانی کے راج دلاروں کی پرورش کی جارہی ہے اس سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ انشاء اللہ ایک دن ان کی روشنی چہار سو پھیل جائے گی اور ان پھولوں اور کلیوں کی مہک فضائوں کو معطر کر ے گی۔ بظاہر ہزاروں بچوں کی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن زمرد خان کے چہرے پر کبھی بھی تفکرات کی پرچھائیاں دکھائی نہیں دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا یقین کامل ہے کہ جس ذات اقدس نے مجھے اس نیک کام کے لئے منتخب کیا ہے وہی اسباب بھی پیدا کرے گا۔ پاکستان سویٹ ہوم پر اندھا اعتماد کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے مخیر حضرات اور بعض پرائیویٹ اداروں کے تعاون سے سویٹ ہوم اسلام آباد میں افطاریوں کے سلسلے کا آغاز کیا گیا ہے ۔ اس اقدام سے بچوں کی خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ شرکاء جب بچوں سے اپنائیت اور شفقت کا اظہار کرتے ہیں تو ان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ والدین کی کمی کا خلا تو دنیا بھر کے خزانے لٹانے کے باوجود بھی پُر نہیں کیا جاسکتا لیکن ان بچوںپر پیار و شفقت کے پھول نچھاور کرکے انہیں یہ احساس دلایا جاسکتا ہے کہ وہ پوری قوم کے بیٹے اور بیٹیاںہیں۔ زمرد خان کو یہ چاند ستارے اور پھول کلیاں دل و جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ بچے پایا جانی کہہ کر میرے گلے لگتے ہیں تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تب میرے دل سے یہی دعا اور صدا نکلتی ہے کہ اے پروردگار تو نے مجھے جو مقدس فریضہ سونپا ہے اس میں مجھے سرخرو کرنا ۔ پاکستان سویٹ ہوم کے انتظامی امور میں ڈاکٹر شازیہ راشد کا کردار بھی نمایاں ہے وہ بچوں کی دیکھ بھال میں اپنے حقیقی بچوں سے بھی بڑھ کر دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں۔ عبد الوحید بابر ایڈووکیٹ بھی زمرد خان کے شریک سفر ہیں۔ زمرد خان نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ عیدالفطر کے بعد وہ مزید یتیم بچوں کو سویٹ ہوم کا مہمان بنانے کے لئے آزاد کشمیر ' گلگت بلتستان اور ملک کے پسماندہ علاقوں تک بھی جائیں گے لیکن ان بچوں تک رسائی کے لئے انہیں زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افراد کا تعاون درکار ہے۔ اس کارخیر میں حصہ ڈالنے اور مزید معلومات کے لئے فون نمبر051-4865857-8 اور 0333-5172422 پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved