سیاسی کارکن ،سعد رفیق سے جمشید دستی تک
  5  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جمشید دستی کے ساتھ جو ہواکم ہوا ، بہت دیر سے ہوا،اس کا جرم ہی اتنا بڑا تھا جسکی سزا اسے ہر حالت میں ملنی تھی طرفہ تماشہ وہ ایک عام آدمی اور سیاسی کارکن ہے ، عام آدمی اور سیاسی کارکن کی آ واز پاکستان میں ہمیشہ دبا نے کی کوشش کی جاتی ہے اور دستی کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ جاگیرداروں کے سامنے رکن اسمبلی بنے ۔ مجھے یاد ہے مسلم لیگ(ن) کی حکومت اپنے موجودہ دور حکومت کا آخری بجٹ پیش کر نے جا رہی تھی عالم پناہ جو ایوان میں کم کم ہی آتے ہیں اس دن جونہی ایوان میں تشریف لائے تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔میرے سمیت ملک بھر سے آئے بے شمار صحافی بھی حکومت کی دعوت پر بجٹ اجلاس کی کاروائی دیکھنے کیلئے پریس گیلری میں موجود تھے۔احتجاج پوری اپوزیشن کر رہی تھی، پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف ،ایم کیو ایم اور کئی دوسرے مگر گو گو اور چورچور کہنے کی آ واز دستی کی ذرا زیادہ ہی بلند تھی۔میں نے اپنے ساتھ بیٹھے کئی صحافی دوستوں سے کہا کہ بیچارہ دستی ضرور رگڑا کھائے گا سو وہ رگڑا کھا رہا ہے۔افسوس وہ ایک سیاسی کارکن ہے اور اس نے کچھ نیا نہیں کیا وہی کیا جو تمام سیاسی کارکن اور جماعتیں پارلیمنٹ میں احتجاج کے دوران کرتی ہیں۔دستی کے ساتھ جیل میں بھی وہی ہوا جو اس جیسے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہوتا ا یا ہے ۔مجھے یہ بھی یاد ہے موجودہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی ایک سیاسی کارکن تھے۔ انکے والد محترم خواجہ رفیق شہید اور والدہ مرحومہ بیگم فرحت رفیق کی سیاسی جدوجہد کا ذکر تاریخ میں سنہری الفاظ میں کیا جاتا ہے۔جیل میں سیاسی کارکن جس طرح دن گزارتا ہے اس کا اندازہ خواجہ سعد رفیق کو بہت زیادہ ہے اس لئے وہ سیاسی کارکن کی سیاست چھوڑ کر سیاسی ر ہنما کی سیاست کر رہے ہیں۔ اس لئے شائد انہیں اپنے ساتھی رکن قومی اسمبلی اور ایک سیاسی کارکن جمشید دستی اور اس کے گھر والوں کی تکلیف کا احساس نہیں ہوگا۔ویسے بھی خواجہ سعد رفیق ان دنوں اقتدار کا کھیل کھیل رہے ہیںاس لئے ان کے پاس فالتو وقت نہیں ہوتا۔خواجہ صاحب سے میری محبت سٹوڈنٹ پالیٹیکس کے دور سے ہے۔محبت کی ان یادوں کو کسی اور دن تازہ کروں گا۔فی الحال ایک اور سیاسی کارکن کا ذکر جو مجھے جمشید دستی کی جیل مشکلات سے یاد آ یا۔ پرویز مشرف کا دور حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ۔چودھری صاحب کی وضعداری ہمیشہ انکی وزارت اعلیٰ پر مقدم ہوتی تھی ۔انہی دنوں لاہور کے ایک مشہور سیاسی کارکن کے بارے میں مجھے پتہ چلا کہ چودھری صاحب کسی سے کہ رہے تھے کہ اسے سمجھاو مجھ پر بہت پریشر ہے ،وہ سیاست کرے مگر ایک حد کے اندر۔وہ کارکن میرا بھی دوست تھا میں اسے جانتا تھا وہ رکنے والا نہیں تھا کیونکہ اس وقت اسکی جماعت کی طرف سے اس پر بہت پریشر تھا کہ وہ اندر کھاتے فوج سے ملا ہوا ہے اور میاں صاحبان کیلئے آواز بلند نہیں کر رہا۔وہ پکڑا گیا اور اسے کیمپ جیل لاہور میں بھیج دیا گیا۔مجھے انکے بھائی اور گھر سے فون ا?تے تھے کہ انکے کپڑے بھجوانے ہیں ،کھانا نہیں جانے دیا جا رہا وغیرہ وغیرہ ۔ ان دنوں مفتی سرفراز انسپکٹر جنرل جیلخانہ جات تھے۔وہ میرے مہربان تھے میں انکے توسط سے سیاسی کارکن بھائی کو جیل کے اندر سہولتیں دلوانے کیلئے تگ و دو کرتا رہتا اور کسی حد تک کامیاب بھی رہا ،میرا موقف تھا کہ وہ کوئی عادی مجرم نہیں سیاسی قیدی ہے اور سیاسی قیدی ہیرو ہوتا ہے۔ایک دن اچانک مفتی صاحب کا فون آ یا کہ جلدی سے میرے پاس آئیں میں پہنچا تو انکا چہرہ پسینے سے تر تھا ، کہنے لگے آپکے سیاسی کارکن بھائی کی وجہ سے آ ج میری آئی جی شپ چلی جانی تھی۔پھر انہوں نے بتایا کہ ہم نے پریشر کے باوجود ہتھ ہولا رکھا ہوا تھا مگر وہ اندر موبائل فون استعمال کر رہے تھے جو ایک ایجنسی نے ٹریس کر کے جنرل مشرف کو رپورٹ دے دی اور اس پر پنجاب حکومت کی بڑی سبکی ہوئی کہ آ پ انہیں کچھ نہیں کہ رہے۔لہذٰا آ ج کے بعد آپ نے اسکی سفارش نہیں کرنی ، مگر میری سفارشیں نہ صرف ان کیلئے بلکہ کئی دوسرے سیاسی کارکنوں کیلئے بھی جاری ہیں۔ آ ج انہی سیاسی کارکنوں اور ر ہنماوں کی حکومت ہے جو حکومتوں کے مظالم کا خود شکار رہے اور اب ان کے دور میں ایک سیاسی کارکن جمشید دستی کو تنگ کیا جا رہا ہے بلکہ اسے دہشت گرد بنایا جا رہا ہے۔ ایک جمہوری حکومت میں اس کے ساتھ جو ہوا اس پر حکمران ضرور خوش ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک مخالف کو سبق سکھا دیا مگر ہمارے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا یہ دہشت گرد جمشید دستی اب رہا ہو چکا ہے حیرانگی کی بات ہے(باقی صفحہ5بقیہ نمبر18) کہ ہمارے ملک میں ہمیشہ دو طرح کے قوانین پائے جاتے ہیں ایک خواص کے لیے اور دوسرا عوام کیلئے ،بلوچستان کا کوئی امیر رکن اسمبلی عام آ دمی کو مار دے تو اسے حوالات میں کولر لگا دیا جاتا ہے اور جمشید دستی جیسا غریب رکن اسمبلی عام آ دمی کی آ واز بنے تو اسے دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے ۔میرے خیال میں جمشید دستی کو ابھی اور سزا ملنی چاہیے اسے نشان عبرت بنا دیا جانا چاہئے تاکہ آئندہ کوئی اور ایسی جرات نہ کرے۔ کالم


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved