''ہاڑ میں ساڑ''
  5  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ساون رت کی آمد میں ابھی چند دن باقی ہیں لیکن پری مون سون کا آغاز ہوچکا ہے ۔ پورا ملک حبس اور گھٹن کی اذیت سے دوچار ہے جس میں آئندہ چند دنوں میں اضافہ متوقع ہے ۔ موسم کی ''بھڑاس'' کو تو کبھی کبھار چلنے والی تیز ہوائیں اور اچانک برسنے والے بادل کم کر ہی دیتے ہیں لیکن شہر اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں کے مکینوں کی ''بھڑاس'' چوبیس گھنٹے سنٹرلی ائیرکنڈیشنڈ میں رہنے کے باوجود کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ماتھے پر ''تریلیاں'' اور بدن پسینے بلکہ ٹھنڈے پسینے سے شرابور ہیں۔ موسم کی گرمی اور جے آئی ٹی کی تپش سے حکومتی مشنری سے ''ریڈی ائیر'' نے پانی باہر پھینکنا شروع کر دیا ہے جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کا اپنی پارٹیوں کو خیر آباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کے اعلان نے حکمران جماعت کا پارہ مزید چڑھا دیا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والی شخصیات میں بابر اعوان نمایاں ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے ملکی سیاست میں ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے ۔ ڈاکٹر بابر اعوان کا اکیس برس کی طویل رفاقت کے بعد پیپلزپارٹی کو چھوڑنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس پر پیپلزپارٹی کے نظریاتی اور سنجیدہ حلقے دلگیر ہیں۔ جبکہ کارکن پیپلزپارٹی کے قائدین کے سردرویوں سے انتہائی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ دکھ اور ''ساڑ'' میں واضع فرق ہے ۔ بابر اعوان کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت پر پیپلزپارٹی والوں کو دکھ اور مسلم لیگ (ن) والوں کو ''ساڑ'' ہے۔ ''ہاڑ'' کے مہینے میں ویسے بھی ''ساڑ'' زیادہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ ڈاکٹر بابر اعوان وہ سیاستدان اور قانون دان ہیں جنہیں کسی بھی سیاسی جماعت کا دل اور دماغ کہا جاسکتا ہے۔ ان کی سیاسی زندگی ایک کھلی کتاب ہے۔ ایک پرندہ بھی بلاوجہ اپنا گھونسلا اور ''بنیرا'' نہیں چھوڑتا۔ بعض لوگوں کی قیمت صرف پیار کے دو میٹھے بول اور تحریم و تکریم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان بھی پیپلزپارٹی سے جدائی پر یقینا افسردہ ہوں گے ان کی یادوں کے دریچوں میں بیتے ہوئے ماہ و سال کا عکس بھی ابھرتا ہوگا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا گولڈن عرصہ پیپلزپارٹی کے نام کیا ہے۔ جس پودے کو سبز و شاداب رکھنے کے لئے خون پسینے سے سینچا جائے اسے سوکتا ہوا دیکھے تو دل ضرور کڑھتا ہے ڈاکٹر بابر اعوان کا تعلق شہیدوں ' غازیوں اور غیرت مندوں کے اس خطے سے ہے جہاں کے باسی اپنی جان نچھاور کر دیتے ہیں۔ اپنا لہو بہا دیتے ہیں۔ لیکن دھرتی کی سانچ پر آنچ تک نہیں آنے دیتے اصولوں پر سودا بازی کی ۔ان کی سرشت میں ہی شامل نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر بابر اعوان کو میں تقریباً چالیس برسوں سے شب و روز ایک جہد مسلسل میں دیکھ رہا ہوں۔ ان کا نام اور مقام کسی کی عنایتوں اور نظر کرم کا مرہون منت نہیں ہے۔ ان کی عزت رب ذوالجلال کی دین والدین کی دعائوں اور ان کی انتھک محنت کا ثمر ہے یہاں تو لوگ مذہب اور مفادات کے لئے اپنا ایمان بیچنے سے بھی دریغ نہیں کرتے لیکن ڈاکٹر بابر اعوان اپنے ایمان کی خاطر منصب آسائشوں اور مراعات کو بھی ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ رسول اللہۖ سے عشق اور عقیدت ان کی نس نس میں بسا ہوا ہے۔ ذکر رسول اللہۖ پر ان کی آنکھیں نمدیدہ نمدیدہ سی ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں پارٹی اور قیادت کے لئے انہوں نے جو قربانیاں دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ اب مورخ ہی اس امر کا تعین کرے گا کہ خطا کس کی تھی اور سزا کسے ملی اقدار اور عہدوفا نبھانے کے لئے ڈاکٹر بابر اعوان کو آزمائشی اور ابتلا کا ایک دریا عبور کرنا پڑا ہے عدلیہ بحالی تحریک اور بھیرہ انٹر چینج کے ایک نمایاں کردار نے ایک سازش کے تحت پیپلزپارٹی کی قیادت کو یہ مشورہ دیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا مورد الزام ڈاکٹر بابر اعوان کو ٹھہرایا جائے اور ان سے کسی طرح بھی یہ بیان حلفی لے لیا جائے کہ ان (بابر اعوان) سے مشورے پر وزیراعظم نے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا۔ لیکن ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی کوئی ''کچے بنٹے'' نہیں کھیلے ہوئے تھے۔ ان کا وجدان یہ کہہ رہا تھا کہ ان کے ساتھ کوئی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر بابر اعوان سے بہت سی باتوں کو سیاست کے کھیل کا حصہ سمجھ کر درگزر کرتے رہے لیکن جب انتہا ہوگئی تو ان کے دل میں بال آگیا اور انہیں شدت سے یہ احساس ہوا کہ مستقبل میں ان کا پیپلزپارٹی کے ساتھ چلنا مشکل ہ وگا جس پر انہوں نے وزارت بلکہ وزارتوں سے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ بعدازاں کسی کی آشیرباد اور اشارے پر ڈاکٹر بابر اعوان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی اور انہیں بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ہمیشہ ڈاکٹر بابر اعوان کی رائے کو مقدم اور انہیں بے انتہا عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھیں۔ یہی وہ اسباب تھے کہ جن کے باعث ڈاکٹر بابر اعوان نے اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور مصلحتاً خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ان پر تنقید کرنے والے آج اپنے کئے پر شرمسار ہیں۔ اس کے باوجود پیپلزپارتی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے جب بھی ڈاکٹر بابر اعوان سے مشاورت کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے خندہ پیشانی سے اس کا جواب دیا۔ اور ان سے ملاقاتیں بھی کیں۔ آصف علی زرداری نے ڈاکٹر بابر اعوان کو ان کے گلے شکوے دور کرنے کا یقین بھی دلایا۔ لیکن چونکہ بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔ اس لئے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ ڈاکٹر بابر اعوان جیسا زیرک سیاستدان اور ماہر قانون دان کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے ایک مضبوط پلر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کو ڈاکٹر بابر اعوان کی کمی کا شدت سے احساس آنے والے عام انتخابات میں ہوگا ڈاکٹر بابر اعوان کا یہ خاصا ہے کہ وہ کوئی بھی اہم فیصلہ کرنے سے قبل طویل عرصہ تک اس کے تمام پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ اپنے قابل اعتماد دوستوں اور حلقہ نیابت سے مکمل مشاورت بھی کرتے ہیں وزراتیں اور عہدے کبھی بھی ڈاکٹر بابر اعوان کی ضرورت اور مطمع نظر نہیں رہے۔ وہ ایک ایسی محب وطن شخصیت ہیں جو ملکی وقار کے لئے کوئی بھی رسک لے سکتی ہے۔ ان کے عرصہ وزارت کے دوران ایک بار انہیں امریکی سفارتخانے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مدعو کیا گیا۔ تقریب میں شرکت کے لئے جب وہ استقبالیہ گیٹ پر پہنچے تو وہاں متعین امریکی سیکورٹی فورسز کے افسران نے ان سے کہا کہ وہ اپنی گاڑی پر لگا ہوا پاکستانی پرچم اتار کر سفارتخانے میں داخل ہوں۔ لیکن بابر اعوان نے کہا کہ اس سبز ہلالی پرچم کی عزت و وقار کے لئے تو وہ اپنا تن من دھن نچھاور کر سکتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی تقریب میں شریک نہیں ہوں گے جس کی خاطر انہیں وطن عزیز کا جھنڈا اتارنا یا سرنگوں بھی کرنا پڑے۔ ڈاکٹر بابر اعوان کا اپنے بیٹوں بیرسٹر عبدالرحمن بابر اعوان اور بیرسٹر عبداللہ بابر اعوان کے علاوہ ہزاروں دوستوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان پارٹی کی قوت اور ساکھ میں اضافے کا باعث بنے گا جو آئندہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کا ضامن ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved