مغل ایمپائر سے شریف ایمپائر تک
  13  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس وقت ملک کا قانون جو بھی کہتا ہے نوازشریف کو چاہیے کہ وہ جمہوریت کی خاطر ہی سہی تھوڑی دیر کے لیے اقتدار سے علیہدہ ہوجائیں اس میں سرف ان کی ہی نہیں ان کے خاندان اور جماعت سمیت پورے ملک کی بہتری ہوگی،اور یہ بات اکثر تجزیہ نگار ،اپوزیشن اور درون پردہ حکومتی ارکان کی ایک تعداد بھی کہ رہی ہے ۔ سیاست کے میدان میں بعض اوقات ایسے مراحل بھی آتے ہیں کہ آپ کو لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہوجائے گا لیکن اس طرح ہوتا نہیں ہے ، اگر ایسا ہوتا تو مشرف کے دور کے بعد اس طرح ن لیگ کے دوبارہ حکومت میں آنے کی کوئی امید ہی نہ رہتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی جے آئی ٹی کی رپور ٹ کوئی پرفیکٹ یا ہر لحاظ سے مکمل رپورٹ نہیں ہے اس پر وکلا، عوام اور سیاستدان بہت سے سوالات اٹھا رہے ہیں اور اس طرح کے بہت سے سوالات اٹھتے بھی رہیں گے ،اس پر حتمی فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے مگر یہ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے خود بنائی ہے ۔ ن لیگ نے تو شروع سے ہی اس جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر بھی غور طلب ہے کہ اگر ن لیگ کے سربراہ کے گھر میں تمام معاملات ٹھیک ہی ہوتے تو کبھی بھی نہ تو ان کا نام پانامہ میں آتا ،نہ ہی انکے خلاف سپریم کورٹ میں معاملات جاتے اور نہ ہی انہیں اس طرح کی کسی جے آیی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑتا۔ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ اب ایسا موقع آن پہنچا ہے کہ جناب نواز شریف صاحب کو اپنے ملک اور ملک میں جمہوری نظام کی خاطر اپنے کیے گئے وعدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے کم از کم اتنے عرصے کے لیے اقتدار سے علیحدہ ہوجانا چاہیے جب تک کہ ان کی معصومیت ثابت نہیں ہوجاتی اور اگر اس معاملے میں ان پر ان کی جماعت کا بھی دباو ہے تو انہیں ایک میچور اور سمجھدار سیاست دان کی طرح تیسری دفعہ وہ غلطی نہیں دہرانی چاہیے جو کہ وہ اس سے پہلے بھی دو دفعہ دہرا چکے ہیں۔اب شاید اگر ان کے ساتھی بھی انہیں مجبور کریں یا ان کا خود بھی فائٹ کرنے کو دل کررہا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ وقتی طورپر پسپائی اختیار کرکے اپنی مرضی کی گراونڈ پر مخالفین کو مقابلے کے لیے آمادہ کریں نہیں تو موجودہ حالات میں ان کی اپنی ذات ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور اگر اب ملک میں ایسا کوئی خطرہ نظرآیا یا درپیش ہوا تو وہ موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات خصوصا چاروں طرف ہماری سرحد پر کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ثابت ہوں گے اس لیے اب نواز شریف کو صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان نہیں بلکہ پورے ملک کی سالمیت کے لیے فیصلہ یا پھر اگر وہ سیاسی طور پر کہیں تو انہیں اپنی اس کرسی کی قربانی دینا ہوگی جو کہ جلد یا بدیر ان کے نیچے سے نکل ہی جانی ہے۔ اگر نوازشریف اب بھی سٹیپ ڈاون ہوجاتے ہیں تو اقتدار پر وہ اپنی اہلیہ یا پھر شہباز شریف کو بٹھا سکتے ہیں۔لیکن اگر انہوں نے میں نہ مانوں کی گردان ہی کی تو آہستہ آہستہ یہ پانامہ معاملے کی دلدل ان کے تمام فیملی ممبرز کو اپنی لپیٹ میں لیتی جائے گی اور ایک وقت آئے گا کہ شریف ایمپائر کا حال بھی مغل ایمپائر کی طرح ہوجائے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ محترم نواز شریف صاحب ایسے ہی حالات میں سابق وزیر اعظم گیلانی کے حوالے سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ پارلیمنٹ کے احترام کی خاطر ہی استعفی دے کر اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں جبکہ انہوں نے خود قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کے خلاف کسی کمیشن میں انگلی بھی اٹھی تو وہ اقتدار سے علیحدہ ہوکر گھر چلے جائیں گے ۔اب وقت آگیا ہے کہ میاں صاحب اپنا وعدہ پورا کردیں ۔ جوحالات اس وقت نظر آرہے ہیں امید یہی کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ بھی آسکتا ہے اور شریف فیملی کے خلاف مجرمانہ گراونڈز پر مقدمات کا آغاز کر دیا جائے اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے کہ فوج کہاں کھڑی ہے تو سب جانتے ہیں کہ فوج کہاں کھڑی ہے؟ اس حوالے سے ملک کے سپہ سالار بے شک تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے پیش رو سے زیادہ تدبر سے کام لیتے ہوئے جہاں ملک کے موجودہ حالات میں ایک مرد آہن کی طرح قوم کو امید بندھائی ہے وہیں وہ اس طرح کے ملکی حالات میں کسی بھی طرح فوج کی طرف کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔معاملہ چاہے ڈان لیکس کا ہو یا پانامہ لیکس کا پاک افواج نے ملک کی عدلیہ کو اپنے کام میں پورے طور پر آزاد چھوڑا ہوا ہے۔جب کہ اس وقت نہلے پہ دہلا یہ کہ ملک میں عمران خان کی صورت میں ایک ایسا اپوزیشن لیڈر موجود ہے جو کسی بھی صورت میں اب عدلیہ کے خلاف ویسی کاروائی نہیں کرنے دے گا جو کہ نوے کی دہائی میں کی جاچکی ہے۔ان تمام حقائق ، ملک اور بیرون ملک معاملات کو دیکھتے ہوئے اس وقت پاکستان کی خاطر ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف خود کو ایک قدم پیچھے ہٹا کر اپنے بھائی یا کسی اور کو آگے کردیں نہیں تو شاید 99والا کام پھر نہ ہو جائے جب سب نے کہا تھا کہ قد م بڑھاو نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اس نعرے پر جب انہوں نے قدم بڑھایا تو پیچھے کوئی بھی نہ تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved