نظریات ،ووٹ بنک اور سیاسی حالات
  16  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کے سیاسی افق پر کم و بیش گزشتہ پچاس سالوں سے بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوتی آ رہی ہیں۔ ستر کی دہائی میں پاکستان کی سیاست دو دھڑوں میں تبدیل ہوئی تھی جس میں ایک طرف بھٹو اور دوسری طرف بھٹو کے مخالف تھے۔ بھٹو نے پاکستان میں ایک نظریاتی عوامی سیاست کی داغ بیل ڈالی تھی جسکی وجہ سے پیپلز پارٹی حقیقت میں عوام کی پارٹی بنی مگر اب پیپلز پارٹی سمیت باقی جماعتوں کی سیاسی سوچ اور نظریے میں بھی تبدیلی واقع ہوچکی ہے، ایک طویل عرصے تک دائیں بازو کے ووٹ کو تنہا کیش کرانے والی مسلم لیگ( ن) کے اس ووٹ میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں ۔ نواز شریف کے دائیں بازو کے ووٹ کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے چیلنج کر رکھا ہے یہ درست ہے کہ پنجاب کی سیاست پورے ملک کی سیاست کا اس وقت دھارا متعین کرتی ہے اور جو پارٹی پنجاب میں واضع اکثریت حاصل کر لے وہ پورے ملک میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اسی وجہ سے پاکستان کے سیاسی افق پر ن لیگ چھائی ہوئی ہے۔ اب پانامہ کیس میں بننے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی ملکی سیاست میں ایک ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔اس فیصلے کے حوالے سے جہاں ن لیگ کی حکومت پر بہت سے سوالات کھڑے ہوچکے ہیں وہیں مخالفین کے لیے بھی یہ فیصلہ ایک امید کی کرن ہے۔ چونکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ن لیگ کے حق میں نہیں آئی اور اس کے بعد وزیراعظم نے قوم سے کیے گئے وعدے کے مطابق ابھی تک اپنے استعفی کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا اسکی وجہ سے مسلم لیگ( ن) کو اخلاقی طور پر سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ن لیگ کی پوری جماعت اس حوالے سے قانونی جنگ لڑنے کے لیے تیاری کررہی ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق قوی امکان ہے کہ ن لیگ کو جہاں اخلاقی لحاظ سے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہیں انہیں اب قانونی لحاظ سے بھی بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اسی دوران حکمران جماعت کے دوسرے سب سے اہم ترین لیڈر چوہدری نثار نے کھل کر وزیراعظم کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتادیا ہے کہ کس طرح امیچور مشیران کے مشوروں کی بدولت نواز شریف اور ن لیگ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اور ان حالات میں ان کا بچنا کسی معجزے کی صورت ہی ممکن ہے۔چوہدری نثار کے رویہ سے واضع ہورہا ہے کہ ن لیگ کو اندرونی طور پر بھی مسائل کا سامنا ہے اور یہ مسائل کسی سازش کی پیداوار نہیں بلکہ ان سیاستدانوں کی رائے ہے جنہوں نے پارٹی کے لیے ہر برے وقت میں قربانیاں دی ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو اکثریت نواز شریف کے استعفیٰ تک تو متحد نظر آرہی ہے۔اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آتا ہے اگر یہ فیصلہ ن لیگ کے کے حق میں آتا ہے تو پھر اپوزیشن جماعتیں شاید اپنے اس انٹی نواز شریف سیاسی اتحاد کے بغیر کبھی میدان میں نہ اتر سکیں اور اگر یہ فیصلہ ن لیگ کے خلاف آگیا تو پھر ان اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے کے سہارے کی اس قدر ضرورت محسوس نہ ہواور وہ آئندہ انتخابات میں اپنے اپنے قد کے مطابق علیحدہ علیحدہ اتریں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی اس سوچ میں یہ تبدیلی اس لیے واقع نہیں ہوئی کہ ملک میں ن لیگ کے متبادل کوئی اور سیاسی جماعت نہیں، اس حوالے سے دو بڑی جماعتیں موجود ہیں جن میں ایک طرف پی ٹی آئی ہے اور دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی۔ پیپلز پارٹی نے اپنی اب تک کی سندھ حکومت اور اپنی پانچ سالہ مرکزی حکومت میں کوئی ایسی کارکردگی سرانجام نہیں دی جس کی بنا پر وہ ووٹ مانگ سکے۔ پیپلزپارٹی شاید اس دفعہ پھر سے سند ھ میں اکثریت لے لے اور کراچی کی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں سے یہ امکان بھی موجود ہے کہ پیپلزپارٹی کے بعد سندھ کی سیاست کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کا ووٹ بھی تقسیم ہو جائے گا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے اس صوبے میں مزید مضبوط ہونے کی امید ہے لیکن وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی سندھ کے علاوہ باقی قومی حلقوں میں اپوزیشن ووٹ کو تقسیم کرنے کے علاوہ کوئی بڑا کارنامہ شاید سرانجام نہ دے سکے۔ دوسری طرف اس بات میں کوئی شک نہیں پی ٹی آئی پاکستان کے سیاسی افق پر سٹیٹس کو کی مخالف جماعت کے طور پر ابھری اور 2013کے انتخابات میں انہوں نے ملک کے ہر صوبے سے ووٹ حاصل کرکے ایک بڑی سیاسی جماعت ہونے کا ثبوت دیا لیکن عمران خان کی سیاست اور کے پی کے میں اپنی حکومت کی کارکردگی پر زور دینے کی بجائے ن لیگ کی مسلسل مخالفت کی وجہ سے اس وقت پی ٹی آئی کی سیاست ایک ایسے موڑ پر آکھڑی ہوئی ہے کہ ان کے آئندہ انتخابات میں کارکردگی کا زیادہ دارومدار پانامہ کیس کے فیصلے کے مرہون منت ہے۔اگر پانامہ کیس کا فیصلہ ن لیگ کے خلاف آگیا تو شاید اس کا سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو ہو کیونکہ انکی وجہ سے ہی حکمرانوں کی تلاشی ممکن ہو سکی ہے اسی وجہ سے انہیں آئندہ انتخابا ت کے لیے ایک نئی تحریک اور نعرہ مل جائے گا ۔ ان حالا ت میں آئندہ چند روز بہت اہم ہیں، سیاسی اتحادوں کے لیے پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، ق لیگ اور پاکستان عوامی تحریک کے بڑے آپس میں سرجوڑے بیٹھے ہیں اور ایک ایسے سیاسی اتحاد کے خواہاں ہیں کہ اینٹی نواز شریف ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچا لیا جائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved