وزرا ء اور پانامہ کا سبق
  21  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پانامہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے؟یہ اب عقل کے اندھوں کو بھی نظر آ رہا ہے ،اب تو اس پر لکھ لکھ اور بول بول کر اہل دانش تو تھک گئے ہیں مگراپنی اپنی سیاست بچانے والوں کے عزائم کچھ اور ہیں ان کے نزدیک سیاست عبادت نہیں روزی روٹی ہے اس لئے وہ ابھی تک جھوٹ اور سچ ملائے جا رہے ہیں۔کاش یہ وزرا کوئی سیاسی بات ہی کر لیا کریںچاہے وہ کیسی ہی ہو ۔ وفاقی وزرا کی تو بات ہی نہ کریں، دھیمے لہجے میں اچھی بات کرنے والا ایک پرویز رشید ہی تو تھا ،وزیر نہ رہا ۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ زبان کے تیز ہیں مگر ان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہیکہ وہ اپنی جماعت اور میاں صاحبان کیلئے عقل و خرد پر مبنی بات کرتے ہیں اور مخالفین کا جواب بھی سیاسی انداز میں دیتے ہیں۔مجھے تو لگتا ہے کہ پنجاب میں شائد وہی ایک وزیر ہیں باقی سب شامل باجہ ہیں ۔ایک وزیر شائد اور بھی ہیں خلیل طاہر سندھو۔پچھلے دنوں جب اکثر وزرا ملک سے باہر یا ملک کے اندر غائب ہو رہے تھے تو وزیر انسانی حقوق خلیل سندھو نے برطانیہ کا دورہ کینسل کر دیا ۔مجھے کسی نے بتایا کہ خلیل سندھو کی فیملی نے برطانیہ سے فون کیا کہ مسلم لیگ(ن) پر مشکل وقت ہے آپ کا پاکستان سے برطانیہ آنا اس وقت نہیں بنتا جس پر خلیل سندھو نے اپنے بچوں سے ملنے جانے کیلئے برطانیہ کا دورہ کینسل کر دیا۔صوبائی وزیر میاں عطا مانیکا مجھے بہت عزیز ہیں سمجھدار انسان اور بڑے آدمی ہیں ،مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس وزیر کو اپنے وزیر اعلی سے ٹائم مانگتے دو سال ہو چکے ہیں مگر اذن حاضری نہ ملا ،ویسے وہ اکیلے تھوڑے ہیں یہ فہرست تو بہت لمبی ہے ۔بصد احترام عرض کروں مانیکا صاحب یہ وقت استعفی دینے کا نہیں تھا۔ ان حالات میں کیا ہم سب نے پانامہ سے کچھ سبق سیکھا ہے ؟مجھے نہیں لگتا کیونکہ ان میں سے اکثر کی ترجیح پاکستان نہیں ان کے ذاتی مفادات ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اس وقت بین الاقوامی تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کیا ہیں؟کیا اس وقت پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی ہے بھی یا نہیں ۔کیا ملک میں کوئی گورننس کا نظام بھی موجود ہے کہ نہیں کیونکہ ہمارے تو سارے کے سارے ہی حکومتی وزرا اور کارندے اس وقت اپنے کام چھوڑ چھاڑ کر پانامہ میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں اور اپنی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔جہاں اپوزیشن نے پانامہ کے معاملے کو بڑھایا وہیں حکومت اور ان کے انہی کارندوں نے اسے ایک ہنگامہ بنادیا ۔کاش یہ وزرا کوئی سیاسی اور عقل کی بات ہی کر دیا کریں۔ میں آج لکھنے سے پہلیاپنے سینئرز لکھاریوں اور دانشوروں کے کالمز اور مضامین پڑھ رہا تھا تو محسوس ہوا اس محاذ پر فکری راہنمائی کرنے والے ابھی ہوش و خرد کی باتیں کر رہے ہیں۔کسی نے کیا خوب لکھا کہ ابھی بھی وقت ہے پاکستان کی ساری سیاسی اشرافیہ کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور یا تو سیاست فرشتوں کے حوالے کردے یا پھر بیٹھ کر ایک دفعہ فیصلہ کرلے کہ سیاستدانوں کے احتساب کا عمل کیسا اور کتنا آزاد ہونا چاہیے نہیں تو شاید اس حوالے سے مستقبل میں عمران خان بھی محفوظ نہ رہ سکیں کیونکہ یہ دنیا جائے مکافات عمل ہے آج جو ن لیگ نے کیا وہ انہیں بھگتنا پڑرہا ہے اور کل شاید تحریک انصاف یا باقیوں کو بھی بھگتنا پڑے ۔پاکستان میں سیاست کے طالب علموں کے لیے موجودہ سیاسی حالات میں سے کچھ ایسی چیزیں سامنے آرہی ہیں جن کی بنا پر انہیںمستقبل کے فیصلوں میں آسانی ہوگی ۔پانامہ کا سب سے بڑا فائدہ یا نقصان نوازشریف کی شخصیت کو ہو گا۔اب وقت ہے کہ وہ فیصلہ کرلیں کہ کیا وہ ایک شخص ہیںیا پاکستان کے لیڈر، اس حوالے سے ماضی میں بھٹو کی مثال موجود ہے جن کا عدالتی ٹرائل جتنا بھی متنازعہ رہا ہو کبھی پیپلز پارٹی نے عدالتوں کا مذاق نہیں اڑایا یہی وجہ ہے کہ آج اس(باقی صفحہ5بقیہ نمبر16) لیڈر کے نام پر زرداری قبیلہ بھی اس ملک پر حکومت کررہا ہے۔ پانامہ کیس کا سب سے اہم سبق جو نواز شریف کو سیکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اگر وہ 2013کے انتخابات کے فوری بعد ملک میں عمران خان کے مطالبات کو مانتے ہوئے چار حلقے کھول دیتے تو شاید ان کے حالات اس قدر خراب نہ ہوتے اور نہ ہی ملک کی سیاست اس قدر مکدر ہوتی۔دیکھا جائے تو اس میں نواز شریف کی مبینہ کرپشن یا منی لانڈرنگ کی بجائے ان کی عاقبت نا اندیشی کا زیادہ کردار ہے کہ انہوں نے اپنی راہ میں کانٹے بچھالیے ہیں جن سے اب انہیں نہ صرف خود گزرنا پڑرہا ہے بلکہ ان کی فیملی سمیت پوری قوم ایک عجیب عذاب میں مبتلا ہے۔دوسرا اہم ترین سبق یہ ہے کہ باوجود کہ آپ کو بہت بڑا مینڈیٹ یا قوت ملی ہوئی ہو اوراپوزیشن کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو آپ کو چاہیے کہ آپ اپوزیشن کو اس قدر دیوار کے ساتھ نہ لگا دیں کہ حالات ایسے ہوجائیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی جیسی جماعت جو کہ دھرنے کے دوران ن لیگ کا ساتھ دے رہی تھی اب حکومت کے درپے ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پی پی پی پی کی قیادت نے کوئی بڑی سازش کی ہے یہ ایک سادہ سا فارمولا ہے کہ آپ نے میثاق جمہوریت کی پاسداری نہیں کی جس کے جواب میں اب ان کے لیے بھی اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہا کہ وہ تحریک انصاف کی ہاں میں ہاں ملائیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved