بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کرنا چاہتا ہے؟
  24  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

گذشتہ ایک ماہ سے بھارت ایل او سی پر جارحانہ کاروائیاں کررہا ہے اس نے حال ہی میں دریائے نیلم کے قریب پاکستان کی ایک فوجی جیپ کو نشانہ بنایاجسکے نتیجہ میں چار پاکستانی فوجی شہید ہوگئے، اسکے علاوہ وہ لائن آف کنٹرول کے قریب شہری آبادی پر بھی گولیاں برساتا رہتاہے، جسکے نتیجہ میں کئی افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں شہید ہوگئے ہیں، یقیناًبھارت کی جانب سے کی جانے والی ان اشتعال انگیز کاررائیوں کا پاکستان کی فوج کی جانب سے بھر پور جواب دیا جارہا ہے جسکے نتیجہ میں بھارت کے کئی سپاہی واصل جہنم ہوچکے ہیں، اقوام متحدہ کے مبصرین اس صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں، لیکن ان کی جانب سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جسکے مطابق یہ کہا جائے کہ بھارت جو لائن آف کنٹرول کے علاوہ انٹرنیشنل باؤنڈری پر غیر اعلانیہ گولہ باری کررہاہے، اسکو فی الفور روکا جائے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ اقوام متحدہ نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کی جانے والی جارحانہ کارروائیوں پر آنکھیں بند کر لی ہیں بھارت اقوام متحدہ کے اس رویے سے پورا پورا فائدہ اٹھاکر اپنی جارحانہ کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ پاکستان کے فوجیوں اور شہریوں کی شہادت پر پاکستان کے دفتر خارنہ نے بھارت کے ہائی کمشنر کو طلب کیا ہے اور انہیں حالات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے انہیں متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کی کاررائیوں کو فوراً روک کر بات چیت کے ذریعہ حالات کو معمول پر لایا جائے، نیز بھارتی ہائی کمشنر کو یہ بھی گوش گذار کیا ہے کہ وہ بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں پر پاکستان کے صبر وتحمل کو کمزوری نہ سمجھے بلکہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے ہائی کمشنر کو جو تبہہ دی گئی ہے اس سے بھارت کو یہ احساس ضرور ہوا ہوگا کہ وہ پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا، اسکو یہ ادراک ضرور ہے کہ پاکستان پر بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں پاکستان کی فوج اور عوام اپنے ملک کی سا لمیت کا دفاع کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اسکے لئے ہمہ وقت تیار بھی ہیں ،دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر غیر معمولی اشتعال انگیز کاروائیاں کرکے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی توجہ نہ صرف پاکستانی عوام سے بلکہ عالمی سطح پر ہٹانا چاہتا ہے، جس میں اسکو ہنوز کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام گذشتہ سترسالوں سے اپنی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں ،بھارت کی قابض فوج کے ظلم وبربریت اور تشدد کو برداشت بھی کررہے ہیں لیکن ان کا جذبہ جدوجہد معدوم نہیں ہواہے، بھارت کے جنونی اور مسلم دشمن وزیراعظم نریندرمودی کو اسبات کا ادراک ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد کشمیریوں کی مقامی طورپرکی جانے والی تحریک ہے جسکا پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اسکے باوجود بھارت طاقت، تشدد اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو اپنی قابض فوج کے ذریعہ دبانا چاہتاہے، جس میں وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا، تاہم عالمی سطح پر کئے جانے والے تبصروں سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ بھارت کسی نہ کسی بہانے پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے، اسکی اس سوچ کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے تقویت مل رہی ہے، اسرائیل اپنے ناجائز قیام کے روز اول ہی سے پاکستان کے وجود کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتاہے، اس لئے یہ نسل پرست ملک بھارت سمیت ان تمام ممالک سے اپنا رشتہ استوار کرکے پاکستان کے خلاف محاذ بنائے ہوئے ہے، لیکن بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے سے قبل کئی بار سوچنا پڑیگا ، کیونکہ پاکستان بھارت کی طرح ایک نیوکلیئر پاور ہے دونوں کے پاس بڑی تعداد میں ایٹم بم موجود ہیں، جنگ کی صورت میں کوئی بھی فریق حالات کی سنگینی کے پیش نظر ایٹمی ہتھیار استعمال کرسکتاہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس خطے میں ایسی تباہی پھیلے گی جسکا کئی دہایوں تک ازالہ نہیں ہوسکے گا،امریکہ بھی یہ نہیں چاہے گا کہ دونوں ایٹمی طاقتیں باہم دست وگریباں ہوجایں، چین بھارت کی پاکستان کے خلاف اور خود اپنے خلاف حکمت عملی کا گہرا ادراک واحساس رکھتا ہے، اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائی کی تو چین خاموش نہیں بیٹھے گا، وہ بھی بھارت کے خلاف سکم اور آسام کے علاقوں میں فوجی کاروائیاں کرنے کا حق رکھتاہے، ان تمام علاقوں پر چین کے موقف سے پوری دنیا آگاہ ہے ، خودبھارت بھی اس حقیقت سے واقف ہے۔ چنانچہ بھارت کو چاہئے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات کو سدھارنے اور سنوارنے پر توجہ دے نہ کہ وہ پاکستان کے خلاف لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز کاروائیاں کرکے اس خطے میں امن کے امکانات کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے، پاکستان مسلسل بھارت پر کشمیر سمیت تمام معاملات پر مذاکرات کرنے پر زور دے رہاہے، بلکہ اسکے لئے تیار بھی ہے، لیکن بھارت پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے گریزاں نظر آرہاہے، بھارت کے اس رویے سے جنوبی ایشیاء میں مسلسل تلخی بڑھ رہی ہے، یہ تلخی کسی بھی دن ان دونوں ملکوں کے مابین ایک بڑے تصادم کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے، جسکی وجہ سے دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا، ا س اکیسویں صدی میں دنیا جنگ نہیں کرنا چاہتی ہے، اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف ایٹم بم کا استعمال کرنا چاہتی ہے، بلکہ اپنے اپنے عوام کی معاشی حالات کو بہتر بنانا چاہتی ہے جسکی اشد ضرورت ہے پوری دنیا کی آدھی آبادی غربت، افلاس اور محرومیوں کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، ان معاشی محرومیوں کی وجہ سے بھی عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے، کیونکہ دنیا میں پھیلتی ہوئی انتہا پسندی کی ایک سب سے بڑی وجہ معاشی محرومی ہے جسکو ختم کرنا تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے، بھارت میں اس خطے میں سب سے زیادہ غربت وتنگ دستی پائی جاتی ہے اس لئے بھارت کو چاہئے کہ وہ اپنے ملک میں غربت کو ختم کرنے پر توجہ دے اور اپنے ملک کے وسائل کو عوام کی بہتری وبہبود کیلئے استعمال کرے نہ کہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرے جو خود اسکے لئے غیر معمولی تباہی کا موجب بنے گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved