منشور اور حکومتی کارکردگی
  26  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

حکمران مسلم لیگ(ن) اپنے رواں اقتدار کے آخری سال میں ہے ۔ ہمیں یہ جائزہ ضرور لینا چاہئے کہ جن دعووں ،وعدوں اور منشور کی بنیادپروہ تیسری مرتبہ وفاق میں حکومت کر رہی ہے کیا وہ سب پورے ہو گئے یا ہونے کو ہیں؟ ویسے تو آجکل حکومت خود پر ہر طرح کی تنقید کو سازش کا نام دے رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن حکومت پر الزامات اور تنقید کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں جانے دے رہی۔ ان حالات میں جہاں سچ اور جھوٹ کی پہچان بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے وہاں اس حوالے سے مناسب تحقیق ہونا بھی ہمارے ملک میں مشکل کام ہے۔جو ادارے اس حوالے سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ بڑا کام کر رہے ہیں۔ موجودہ وفاقی حکومت کی کارکردگی پر ان کے منشور میںکیے گئے دعوئوں کے حوالے سے ان دنوں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے ، یقیناً ن لیگ کا بینڈ باجا سکواڈ اسے بھی ایک سازش قرار دے گا جس کے تانے بانے کبھی عدلیہ اور کبھی فوج سے ملائے جانے کی کوشش بھی کی جائے گی لیکن اس ادارے کی یہ پہلی رپورٹ نہیں ہے۔اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک پرائم پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی نے اپنی نویں ٹریکر رپورٹ جاری کی ہے۔یہ ن لیگ کے موجودہ چار سالہ دور میں پیش کی جانے والی نویں رپورٹ ہے۔اس رپورٹ میں بنیادی طور پر ن لیگ کے منشور کے انرجی سیکیورٹی اور اکنامک ریوائیول یا معاشی بحالی کے وعدوں پر تحقیق کی گئی ہے۔ جس سے پتہ چلا ہے کہ ن لیگ نے اپنے منشور میں مقرر کردہ 89اہداف میں سے صرف 6میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں سے بھی چند ایک پر سوالیہ نشانات ہیں۔ جبکہ باقی تمام اہداف کے حصول میں موجودہ حکومت اپنے چار سالہ دور میں بری طرح ناکام رہی ہے۔حتیٰ کہ کچھ معاشی پراجیکٹس پر حکومت نے شروع میں تیزی سے کام کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں بھی کسی قسم کی کوئی اچھی کارکردگی سامنے نہیں آسکی۔ رپورٹ کے مطابق وی آئی پی کلچر کے خاتمے پر منفی پیش رفت دیکھنے میں آئی،حکومتی بڑے اداروں پر آزاد پروفیشنلز کے بورڈز کے قیام پر بھی کسی قسم کی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے،سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے اقدامات اور وعدے بھی پورے نہیں ہوئے اورنیپرا کے ٹیرف کو نوٹیفائی کرنے میں بھی ناکامی رہی۔ اس تھنک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان تمام سیکٹرز کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا گیا ہے جن میں ن لیگ نے اپنے منشور میں انقلابی تبدیلیوں کے حوالے سے وعدے کیے تھے اس وقت یہ کسی بھی جماعت کی طرف سے کیے گئے معاشی وعدوں میں سب سے پرکشش تھے مگر ان پر اپنی پرفارمنس کی بنیاد پر ن لیگ کا اگلے انتخابات میں اترنا مشکل نظر آرہا ہے۔ابھی اس حوالے سے سب سے بڑا فیکٹر سی پیک ہے جس کی وجہ سے ملک میں معاشی طور پر ایک نئی انرجی نظر آتی ہے جبکہ اسی وجہ سے روزگار کے مواقع میں بھی بہتری آئی ہے جبکہ سی پیک کی ہی بدولت ملک میں انرجی سیکٹر میں بہت سے منصوبے لگانے کے باعث ایل این جی ، کول اور متبادل انرجی سورس کے منصوبوں میں خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں اائی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان چند پوائنٹس میں جن پر ن لیگ کی حکومت کی کارکردگی بہتر ہے ان میں سے چار پوائنٹس تو درج بالا ہیں جبکہ ٹریڈڈ یفیسٹ میں کمی او رملک میں مہنگائی کی شرح بھی بین الاقوامی طور پر تیل کی قیمتوںمیں کمی کی مرہون منت ہے۔ تھنک ٹینک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں جن 89پوائنٹس اور منشور کے وعدوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سب سے اہم پوائنٹ وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا تھا لیکن اس میں حکومت نے شروع میں دکھاوے کی کارروائی تو کی لیکن اب گزشتہ کئی سالوں سے ان پوائنٹس پر منفی پیش رفت ہورہی ہے۔جبکہ دوسری طرف جہاں حکومت نے جی ڈی پی کی گروتھ کو 3سے 6فیصد پر لے کر جانے کا دعویٰ کیا تھا اس پر حکومت کی کارکردگی کو دس میں سے صرف 4.9نمبر سکور دیے گئے ہیں۔اسی طرح بجٹ کے خسارے کو چار فیصد سے کم کرنے میں بھی کامیابی نہیں ہوسکی۔ انڈسٹری اور ٹریڈ کے حوالے سے بھی حکومتی کارکردگی کو پانچ سے کم نمبر دیے گئے ہیں جبکہ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے میں بھی حکومت بری طرح ناکام رہی ہے۔ان تمام پوائنٹس پر پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کا کہنا ہے کہ بقیہ چھ ماہ یا ایک سال میں کوئی معجزہ ہی حکومت کو اپنے اہداف پورے کرنے میںکامیاب کرسکتا ہے۔ اس رپورٹ پر حکومت کی رائے اپنی جگہ مقدم ہے وہ اس تحقیقاتی رپورٹ کو بھی شائد ایک سازش قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا مشورہ دے گی مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ن لیگ نے اپنے دیے گئے کسی بھی منشور پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا ہے۔جہاں تک بات ہے موجودہ حالات کی تو ملک اس وقت ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے جہاں ایک طرف ملک میں گومگو کا عالم ہے کسی کو نہیں پتہ کہ کل کیا ہونے والا ہے جبکہ ن لیگ نے بھی وزیراعظم کی نااہلی او ران کے ذاتی کاروبار کو سٹیٹ بزنس بنا دیا ہے جس کی وجہ سے پورے ملک کی سیاست ساکھ او رمستقبل دائو پر لگا ہواہے۔ اپنے انجام کے قریب دہشت گرد بھی کچھ سرگرم ہورہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح ملک کو غیر مستحکم کریں۔اس رپورٹ کے پیرائے میں ایک سب سے اہم پہلو شامل نہیں ہوسکا وہ ہے دہشت گردی۔ اس حوالے سے ملک میں حالات کافی بہتر ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں انویسٹمنٹ بھی بڑھ رہی ہے جو قابل تعریف ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved