پاناما،ملکی سیاست کا فیصلہ
  28  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پانامہ کیس آج اپنے حتمی انجام کو پہنچ رہا ہے ۔تین یا پانچ رکنی بنچ ہونے کے بارے میں بھی معاملہ گزشتہ شام کلیئر کر دیا گیا تھا ۔ اعلی عدلیہ کے پانچ رکنی بنچ کی طرف سے یہ صرف پانامہ اور شریف فیملی کا نہیں عملی طور پر پاکستان کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ ہے ۔ بنچ کے سربراہ جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ اور دیگر ممبران جسٹس اعجاز افضل،جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن جو بھی فیصلہ دیں گے وہ یقینآ ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہو گا ۔بنچ کے دو معزز جج صاحبان پہلے ہی وزیر اعظم کو نا اہل قرار دے چکے ہیں جبکہ باقی تین نے وزیر اعظم کو کلیئر نہیں کیا تھا مگر انہوں نے اس کیس کی مزید تفتیش کرانے کیلئے ایک جوائینٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں عملی طور پر وزیر اعظم کو گناہ گار قرار دیا ہے اور اس ٹیم کے فیصلوں پر حکمران لیگ کی طرف سے اعتراضات کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی جاری رہا ۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ یقینی طور پر پوری دنیا میں اس کیس کے اثرات مرتب ہوں گے ۔ قطری خطوط بھی اس کیس کا ایک اہم حصہ رہے جسے شریف فیملی کلیئر کر سکی نہ قطری شہزادہ اسے کلیئر کرنے پاکستان آیا ۔ منی لانڈرنگ ،دوسرے ممالک میں کاروبار۔ٹیکسوں کی ادائیگی جیسے معاملات کے متعلق آئندہ رہنمائی بھی اس کیس کے ابتدائی فیصلے میں دی جا چکی ہے مگر اب اس پر زیادہ اہم رہنمائی سامنے آئے گی۔ قوی امکان ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے کیس کا فیصلہ جو بھی ہو گا وہ ملک کے مستقبل کی ترجیحات طے کرنے کیلیے راہنمائی ثابت ہوگا۔ پانامہ کیس نے سپریم کورٹ کے کئی چکر لگائے، پہلے وزیراعظم نے خط لکھ کر سپریم کورٹ کو دعوت دی،پھر عمران خان کے لاک ڈاون پر سابقہ چیف جسٹس جمالی صاحب نے سوموٹو ایکشن لیا اور اس کے بعد ان کے جانے پر پانچ رکنی بنچ نے ایک جے آئی ٹی بنا دی جس کی رپورٹ پر پھر سے سپریم کورٹ میں بحث ہوتی رہی ، ہر طرف ایک ہی سوال گونجتا رہا کہ اگر کوئی منی ٹریل ہے تو دے دیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کیس کے حوالے سے پاکستان کی عدلیہ نے انتہا ئی تحمل کامظاہرہ کیا ۔ نوازشریف اوران کی فیملی کو پورا پورا موقع دیا کہ وہ اپنی صفائی دے دیں ۔پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے اقدامات کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوسکا ہے کہ آج کوئی بھی پارٹی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکاری نہیں ہے اس حوالے سے بہت سے لوگوں نے خصوصا ن لیگ کی بینڈ باجہ بریگیڈ نے سپریم کورٹ کے معاملات کو متنازعہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن سب نے دیکھا کہ سپریم کورٹ نے سب کو باربار موقع دیا۔ پاناماکیس کا فیصلہ جو بھی آئے ، اہم سیاسی سبق جو میاں نواز شریف کو سیکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اگر وہ 2013کے انتخابات کے بعد فوری طور پر ملک میں عمران خان کے مطالبات کو مانتے ہوئے چار حلقے کھول دیتے تو شاید ان کے حالات اس قدر خراب نہ ہوتے اور نہ ہی ملک کی سیاسی فضا اس قدر مکدر ہوتی۔دیکھا جائے تو اس میں نواز شریف کی مبینہ کرپشن یا منی لانڈرنگ کی بجائے ان کے دوستوں کی عاقبت نا اندیشی کا زیادہ کردار ہے کہ انہوں نے اپنی راہ میں کانٹے بچھالیے ہیں جن سے اب انہیں گزرنا پڑرہا ہے۔ اس حوالے سے چوہدری نثار کی پریس کانفرنس بھی بہت زیادہ معنی خیز ہے انہوں نے آج پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد،وزارت ،رکنیت اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے جو مسلم لیگ (ن) اور شریف فیملی کیلئے بہت بڑا دھچکہ ہے ۔ آج فیصلہ آنے سے پہلے ہی ن لیگ میں دھڑے بندیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور اگر فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آتا ہے تو ن لیگ کے اندر جوتیوں میں دال بٹے گی۔نوازشریف کو بہت بڑا مینڈیٹ ملا تھا لیکن انہوں نے اپنے ماضی کی روش کوجاری رکھا جس کے باعث نہ صرف ان کے تعلقات اپوزیشن کے ساتھ خراب رہے بلکہ انہوں نے اپنے رویے کی بدولت پی ٹی آئی کو اپوزیشن سے بھی بڑی اپوزیشن بنا لیا اور دوسری طرف انہوں نے ملکی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی بھی جاری رکھی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت ملک کے آئینی ادارے ایسی پوزیشن میں آگئے ہیں کہ وہ اب اپنی حدود میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر احترام کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے اسے باقی اداروں کی مکمل سپورٹ ملے گی۔ گزشتہ دنوں آرمی چیف کا سی پیک کے حوالے سے دیا گیا بیان بھی اہم تھا ۔ ن لیگ پانامہ کے فیصلے کو سی (باقی صفحہ5بقیہ نمبر7) پیک کے خلاف ایک سازش قرار دے رہی تھی ۔اس حوالے سے ان کی تمام کانسپریسی تھیوریاں فوج نے غلط ثابت کر دیں۔ نوازشریف کی غلطیوں کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی جیسی جماعت جو عمران خان کے دھرنے میں ن لیگ کا ساتھ دے رہی تھی، آج اس سے کوسوں دور ہے ۔ سیاستدان ایک بار پھر آپس میں بٹے ہوئے ہیں اگر ایوب نے مارشل لا لگایا تو اس میں بھی سیاستدانوں کی غلطی تھی ۔ جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کے مارشل لا کو بھی ساستدانوں نے خوش آمدید کہا اور اب بھی شاید کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے کہ معاملات ذاتی انا کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ملک کی کسی کو فکر نہیں ہے۔دعا ہے کہ آج کا فیصلہ سیاستدانوں کیلئے سبق حاصل کرنے اور ملک کے لئے استحکام کا باعث بنے ۔ کالم محسن گورایہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved