سازش؟
  8  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جاتی عمرہ کے مکین وہاں پکے پکے ڈیرے لگانے کل پہنچ رہے ہیں،یہاں وہ اس سازش کو بے نقاب کریں گے جو ان کے بقول ان کے خلاف کی گئی ہے۔ساری قوم یہ جاننے کیلئے بے تاب ہے کہ میاں نواز شریف بتائیں ان کے خلاف سازش کس نے کی ہے کیونکہ انکی نا اہلی کا فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کیا ہے۔سپریم کورٹ تو سازش نہیں بلکہ انصاف کرتی ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد اپنے ہی نامزد کردہ وزیر اعظم کیلئے جو کابینہ تشکیل دی ہے اسکی ہئیت اور ترکیب کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ وار کیبینٹ ہے اور اس سازش کو بے نقاب کرنے میں انکی معاونت کرے گی۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اب پاکستان میں محاذ آرائی اور اداروں سے ٹکراو کی سیاست زور پکڑ ے گی اور شائد بات نوے کی دہائی سے بھی زیادہ خوفناک ہو ۔یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر شائد میاں شہباز شریف بڑے بھائی کے سامنے اپنی رائے منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ،چودھری نثار کی باتیں بھی سچ ثابت ہو رہی ہیں،یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں راہنما اسے سازش نہ سمجھتے ہوں۔نااہل ہونے کے بعد میاں نواز شریف کی اپنے شہر لاہور واپس آنے کیلئے موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کرنا بھی اسی بات کی غمازی ہے کہ مسلم لیگ (ن) آنے والے وقت میں اداروں کے ساتھ کسی بھی بڑی لڑائی کا ارادہ رکھتی ہے شاید اس لڑائی سے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی شہادت تو ہوجائے لیکن پتہ نہیں اس لڑائی کے نتیجے میں اس نظام کا کیا بنے گا۔ یہ کئی صدیوں پہلے کی بات نہیں ابھی چار سال پہلے تک وزیر اعلیٰ شہباز شریف ، زربابا اور چالیس چوروں کو پکڑنے کے دعوے کرتے ہوئے آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کررہے تھے لیکن وقت کا پہیہ غضب کی چال چل گیا ۔آصف علی زرداری کو جیل میں رکھنے والے اور اسے زربابا اور چالیس چور کہنے والے آج خود بھی اسی طرح کے معاملات کا شکار ہو چکے ہیں۔ لیکن کیا عجب معاملہ ہے کہ اپنے اور اپنے خاندان کے گنتی کے چار پانچ افراد کے خلاف ہونے والی کارروائی کو پورے پاکستان کی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف کارروائی بلکہ سازش قرار دے رہا ہے۔ میاں نواز شریف کہتے تھے کہ جب ان کے خلاف ایک بھی الزام ثابت ہوگیا تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر سیاست سے پورے خاندان سمیت کنارہ کشی کرلیں گے لیکن کیا وہ وعدہ بھی میاں شہباز شریف کی تقریروں اور وعدوں جیسا ہو گا ؟ نوازشریف کہتے ہیں کہ انہیں تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کا شوق نہیں تھا یہ تو اچانک جماعت کی ضد کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا تو کیا ان کی جماعت کی ضد سے آئین میں ترمیم کی گئی تھی کہ وزیراعظم کا عہدہ رکھنے کی حد ختم کی جائے؟ بات صرف یہیں تک نہیں رکتی الزامات اب لگائے جارہے ہیں کہ مشرف اور زرداری کو سزا تو نہیں ملی تو انہیں کیوں ملی ؟ زرداری صاحب تو جیل بھی کاٹ چکے لیکن انہوں نے آج تک اتنی معصومیت سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ انہیں کس جرم کی سزا دی گئی جبکہ دوسری طرف مشرف کو چھوڑنے والا کوئی اور نہیں خود نوازشریف ہیں ان کے ہوتے ہوئے اگر مشرف کا احتساب نہیں ہوا تو ان کا اپنا ہی قصور ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف ملک کے مقبول لیڈر ہیں جنہیں پہلی دفعہ صدر پھر آرمی چیف اور اب عدلیہ نے فارغ کیا ہے اس پر مظلوم اور معصوم بننے کی بجائے سوچنے کی ضرورت ہے۔ آخر ایسی کیا خرابی ہے کہ اس قدر عوامی طاقت کے باوجود آپ اپنا دور پورا کیوں نہیں کر پاتے ؟ اب نواز شریف عوام میں جاکر عوام کے دبائو سے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بھی فیصلہ انارکی پھیلا سکتا ہے۔ لیکن یہی نواز شریف جب تخت اسلام آباد پر براجمان تھے تو اپنی کچن کیبنٹ سے باہر کسی سے ہاتھ ملانا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ میاں صاحب کو اب سہانے خواب دیکھنا چھوڑ کر اپنے خلاف بھیجے جانے والے ریفرنسز پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اب جو معاملہ شروع ہوا ہے یہ ان کی نااہلی پر ختم نہیں ہوگا بلکہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

پراپیگنڈہ میں ایک ٹرم ہوتی ہے جسے Cognitive Dissonanceکہتے ہیں اس میں جو شخص کچھ غلط کرتا ہوا پایا جائے اور اسے اس کے حوالے سے کچھ کہا جائے تو وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اس کی توجیحات نکالنا شروع کردیتا ہے اور ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کررہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس لیے میرا اپنے سابق وزیراعظم کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں سے حقیقت میں سبق سیکھیں وہ بے شک ایک عوامی لیڈر اور عوامی سیاست دان ہیں لیکن وہ ایک حکمران ثابت ہونے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ ملیں ان میں جائیں لیکن کسی سازش کے لیے نہیں پاکستان کی سالمیت کے لیے انہیں اب یہ نہیں کہنا چاہیے کہ کسی اور کی چوری نہیں پکڑی گئی بلکہ انہیں کہنا چاہیے کہ اب جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس ملک میں کوئی بھی ایسا حکمران نہیں آنا چاہیے جو کسی اقامے یا اپنی اولاد کے پیسے پر پلے۔اب وقت ا?گیا ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوںکو تسلیم کرلینا چاہیے جیسا کہ ماضی میں چارٹر آف ڈیموکریسی کے وقت کیا گیا تھا۔ مجھے امید ہے میاں صاحب آپ کو اب چارٹر آف ڈیموکریسی یا د آ رہا ہو گابلکہ با ر بار یا د آ رہا ہو گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved