نیا عمرانی معاہدہ کیا ہوسکتاہے؟
  10  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

نا اہل سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اسوقت ملک کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور تمام اہل شعور کو باہم ملکر ملک کے مستقبل سے متعلق سوچ بچار کرنی چاہئے، انہوںنے کہا کہ اسوقت ملک کونئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے شاید اب اقتدار سے ہٹنے کے بعد انہیںنئے عمرانی معاہدے کی ضرورت پیش آرہی ہے، حالانکہ گڈ کورننس ہی تیسری دنیا میں نیا عمرانی معاہدہ کہلاتا ہے، اگر وہ گذشتہ چار سالوں کے دوران سیر سپاٹے کرنے اور اپنے تجارتی مفادات کو آگے بڑھانے کے بجائے شفاف اور عوام دوست طرزحکمرانی کا آغاز کرتے تو انہیں یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے، لیکن اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اب یہ محسوس ہورہاہے کہ انہوںنے تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد نہ تو اپنے انداز حکمرانی میں کوئی تبدیلی لائے ہیں اور نہ ہی پاکستان کو آگے لے جانے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی تیار کی تھی، وہ روز مرہ کی بنیاد پر حکومت کررہے تھے، جو کسی بھی لحاظ سے پاکستان کی ترقی کا باعث نہیں بن رہی تھے، بیورکریسی انہیں بے وقوف بناکر ان سے اپنے کام کروارہی تھی جسکا نہ کوئی سر تھا نہ پیر! وہ عوام میں اپنی حکومت کی اعلی کارکردگی کا مظاہرہ ادھورے پروجیکٹوں کا افتتاح کرکے کررہے تھے، جنکو مکمل ہونے میں مزید کئی سال درکار ہیں ، میاں صاحب غالباً یہ سمجھتے ہیں کہ عوام بے وقوف ہیں انہیںآسانی سے گمراہ کیا جاسکتا ہے، حالانکہ عوام بے وقوف نہیں ہیں ، سپریم کورٹ کا فیصلہ جب آیا تو پاکستان کے اندر اور باہر اس تاریخی فیصلے کا زبردست خیرمقدم کیا گیا ، فیصلے کو اگر نہیں تسلیم کیا ہے تو مسلم لیگ ن کے دوسرے درجے کے رہنمائوں نے یہ وہی عناصر ہیں جنہوںنے میاں نواز شریف کو یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ عوام میں جائیں اورپارلیمنٹ کی بجائے سڑکوں پر عوام کی تائیدد حمایت حاصل کرنی چاہئے حالانکہ یہ حکمت عملی کسی بھی لحاظ سے ملک میں استحکام پیدا کرنے کا سبب نہیں بن سکتی، جبکہ میاں صاحب خود کہہ رہے ہیں کہ ملک کسی قسم کے انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، ٍ دوسری طرف اگر میاں صاحب واقعی نیا عمرانی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں (عمرانی کا مطلب بھی انہیں نہیں معلوم ہوگا) تو سب سے پہلے وہ دولت جو انہوںنے لوٹی ہے اور جو باہر بینکوں میں جمع ہے، اسکو واپس پاکستان لائیں اور ان افراد کو بھی مجبور کریں جنہوںنے ناجائز طریقوں سے دولت اکھٹی کی ہے، اسکو باہر بھیج دیاہے جبکہ پاکستان میں معیشت کی ترقی اور اسکے استحکام کے لئے بیرونی ممالک میں جمع شدہ سرمائے کی اشد ضرورت ہے، خود اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے فلور پر واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستانیوں کا 22ارب ڈالر سوئز ر لینڈ کے بینکوں میں جمع ہے اگر یہ کثیر روپیہ واپس آجاتا ہے تو پاکستان کی معیشت مضبوط ہوسکتی ہے، ہمیں آئی ایم ایف کے پاس کشکول گدائی لے کر جانا نہیں ہوگا، مزید براں نئے عمرانی معاہدہ کی پہلی شرط میرٹ ہے یعنی اگر میرٹ کی بنیاد پر ملک کے پڑھے لکھے افراد کو حکومت میں یا پھر حکومت کے تحت چلنے والے دیگر اداروں میں شامل کیا جائے تو بہت حد تک ملک میں تبدیلی رونما ہوسکتی ہے، رشوت کا سلسلہ ختم ہوسکتاہے، اور معاشرے میں سدھار اور اصلاح کے آثار نمایاں ہوسکتے ہیں، پولیس کے محکمہ میں اصلاحات کے ذریعہ اسکو عوامی اور مددگار پولیس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، تاہم یہ سب کچھ کرنے کے لئے بڑے ویژن اور حوصلے کی ضرورت ہے جو میاں نواز شریف میں نہیں ہے انہیں صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان کے چند افراد میں دلچسپی ہے اور ان کی ہر لمحہ کوشش یہ ہوتی ہے بلکہ نظر میں آتی ہے کہ اقتداران کے اور ان کے خاندان سے باہر نہیں جانا چاہئے، میاں صاحب کی اس سوچ سے نہ تو نیا عمرانی معاہدہ تشکیل پا سکتاہے، اور نہ ہی معاشرے میں کسی قسم کی تبدیلی کے آثار پیدا ہوسکتے ہیں، ایک اور سوچ جو میاں نواز شریف کے لئے آئندہ مصائب کا باعث بن سکتی ہے وہ ان سازش کی تھیوری ہے، انہیں جب بھی اقتدار سے فارغ کیا جاتا ہے تو موصوف اسکو اپنے خلاف ایک گہری سازش کی تعبیر کرتے ہیں، حالانکہ وہ اقتدار سے خود اپنے کرتوتوں کی وجہ سے فارغ ہوتے ہیں، اس دفعہ انہیں ملک کی اعلیٰ عدالت نے کرپشن کے ضمن میں اقتدار سے ہٹایا ہے، جبکہ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیںکہ انہوںنے کرپشن کا ارتکاب کیا ہے، حالانکہ وہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ دونوں جگہ منی ٹریل ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں مزید براں انہوںنے 80کی دہائی کے بعد کسطرح41کارخانے قائم کرلئے؟ یہ روپیہ کہاں سے آیا؟ وہ خود تین ملین ڈالر کی گھڑی پہنتے ہیں اور معاشرے سے عدم مساوات کو ختم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں

دراصل میاںنواز شریف اب کھل کر سپریم کورٹ کے خلاف محاذ بنانے پر تل چکے ہیں، وہ جے آئی ٹی کی طرح سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کو ''عوام'' کی نگاہوں میں متنازعہ بنانا چاہتے ہیں، جس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوگی، بلکہ انہیں مزید شرمندگی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑیگا، ویسے بھی نیب نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا ہے، نیب میں ان کے خلاف پہلے بھی پندرہ مقدمات درج ہیں جس پر ماضی میں سیاسی بنیادوں پر کاروائی نہیں ہوسکی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہوگا، ایک اور نفسیاتی مسئلہ جو میاں صاحب کیلئے سوہان روح بن چکا ہے اور وہ جس سے باہر نہیں نکل سکے ہیں وہ فوج کی دبے دبے الفاظ میںمخالفت بھی کرتے رہتے ہیں ، ڈان لیکس اسکی واضح مثال ہے، نیز نریندرمودی کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم ہر لحاظ سے پاکستان دشمنی پر مبنی ہیں، اب وہ سویلین بالادستی کے باتیں کررہے ہیں، حالانکہ انہیں ہر کام کرنے کی اجازت تھی کس مقام پر ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈالی گئی اور کن اداروں نے ؟ دراصل وہ بھارت کے ساتھ تعلقات محض اپنے تجارتی مفادات کیلئے قائم کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کے مفادات کے خلا ف ہے، ان کی یہ حکمت عملی فوج ، عدلیہ اور عوام کو پسند نہیں ہے دنیا میں کسی حکومت کو مادر پدر آزادی حاصل نہیںہوتی ہے یہاں تک کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں بھی، سویلین بالادستی ملک کے مفادات سے وابستہ ہوتی ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیںہوتاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved