یہ شخص چاہتا کیا ہے؟
  14  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں نے گذشتہ کسی کالم میں لکھا تھا کہ مسلم لیگ ن کے قائدین پاکستان میں خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں، میری یہ پیش گوئی اب بھی قائم ہے، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نا اہل اور کرپٹ سابق وزیراعظم مسلسل عدلیہ اور فوج کو اپنی تقریروں کے ذریعہ بے جا اور بے بنیاد تنقید کررہے ہیں، ان کا یہ عجیب وغریب منطق ہے کہ مجھے پانچ جج صاحبان نے چند منٹ میں اقتدار سے علیحدہ کردیا، وہ اپنے ریلی کے راستوں پر ان پڑھ لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ عدلیہ سے پوچھیں کہ انہیں کیوں اور کس بنیاد پر فارغ کیا گیا ہے؟ ان کی تقریر یں سن کر ہنسی آتی ہے، حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاناما پیپرز میں سپریم کورٹ نے انتہائی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی تھی جس میں میاں صاحب کو اپنی صفائی کا پورا پورا موقع دیا گیا تھا، لیکن وہ اپنی ناجائز دولت سے متعلق کسی قسم کا حساب کتا ب دینے میں نا کام رہے، تھے، پھر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی قائم کی جس میں چھ سو600افراد میں سے چھ6افراد کومیاں صاحب کے کرپشن کی تحقیقات کی ذمہ داری سوپنی گئی تھی، میاں صاحب اور ان کی کابینہ نے جے آئی ٹی کے قیام کا خیر مقدم کیا تھا، اور خوشی ومسرت کے جذبات میں سرشار ہوکر مٹھائی بھی تقسیم کی تھی، جے آئی ٹی نے 60دن کی شب وروز محنت کے بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کی تھی جس میں میاں نواز شریف پر کرپشن کے واضح ثبوت موجود تھے، لیکن اسکے بعد بھی سپریم کورٹ نے انہیں ایک بار پھر اپنی صفائی کا موقعہ دیا لیکن اس دفعہ بھی وہ اپنی ناجائز دولت کا MoneyTrailثابت کرنے میں بری طرح ناکام ونامراد رہے، پھر انہیں اقتدار سے محروم کر دیا ہے، لیکن پارلیمنٹ کو تحلیل نہیں کیا ہے، بلکہ اسوقت خاقان عباسی کی صورت میں نیا وزیراعظم موجود ہے ان کا نمائندہ ہے، اور ملک کا نظم ونسق چلارہاہے، اسکا مطلب صاف ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت چل رہی ہے، اور اپنا کام بھی کررہی ہے، اسکے بر عکس میاں نواز شریف’’ عوامی عدالت‘‘ میں اپنے آپکو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں، عدلیہ کے خلاف انتہائی نازیبا اور نا مناسب الفاظ ادا کررہے ہیں، جو قانونی ماہرین کی نگاہ Contempt of Courtکے زمرے میں آتاہے، عدلیہ چاہے تو انہیں فوراً سپریم کورٹ میں طلب کرکے انہیں جیل بھیج سکتی ہے جیسا کہ سپریم کورٹ کی توہین کرنے کے الزام میں یوسف رضا گیلانی کو اقتدار سے فارغ کردیا تھا، دراصل میاں نواز شریف کو معلوم ہے کہ آئندہ ان کے خلاف بہت کچھ ہونے والاہے، نیب میں ان کے خلاف کم ازکم تین ریفرنس داخل ہوچکے ہیں، ان میں ان کی دھاندلیوں سے متعلق مکمل ثبوت موجود ہیں، چنانچہ وہ نیب کی کاروائیوں کو بے اثر بنانے کے سلسلے میں ریلیاں نکال رہے ہیں، اور ان پڑھ عوام کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوئی ہے، اور کیونکہ وہ اقتدار میں نہیں رہے ہیں اس لئے جمہوریت کا سفر خطرے میں پڑگیا ہے، معیشت بھی تباہ ہورہی ہے، اور چین اور پاکستان کا اقتصادی منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہوگیاہے، میاں صاحب کی یہ تمام باتیں لغو ، بے بنیاد اور حقائق سے عاری ہیں ملک چل رہاہے، ان کی پارٹی کی حکومت قائم ہے، یعنی اقتدار کا تسلسل بر قرار ہے، اگر نہیں ہے تو میاں صاحب کے ذاتی اقتدار کا سورج غروب ہوچکاہے، یہ خاندان تیس سالوں سے حکومت کررہاہے، جبکہ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کے حوالے سے ان کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش رہی ہے، لیکن اس چالاک اور عیار تاجر خاندان نے اپنے سیاسی منصب سے بھر پور فائدہ اٹھاکر بڑے بڑے پروجیکٹوں میں کمیشن کھائے اور اس ناجائز پیسے کو بیرونی ملک کے بینکوں میں منتقل کردیاہے، پاکستا ن کے با شعور عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ میاں صاحب اپنے ہی کرتوتوں کی وجہ سے اس انجام کو پہنچے ہیں انہیں مزید گمراہ کرنے میں ان کے چند حواری اور کرپٹ صحافیوں کا بہت بڑا دخل ہے، جنہوں نے ان کو ریلی نکالنے ، عدلیہ کو بد نام کرنے اور فوج سے ٹکر لینے کا مشورہ دے رہے ہیں، مزید براں وہ ریلی کے راستوں پر جس قسم کی عدلیہ اور فو ج کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کررہے ہیں ان پڑھ عوام کو اداروں سے ٹکرانے کا مشورہ دے رہے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکلنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ وہ ملک کو خصوصیت کے ساتھ پنجاب کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں، اگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو عدلیہ اور فوج خاموش تماشائی نہیں بننے رہیں گے، ملک کو بچانے اور افراتفری کو ورکنے کے لئے ان کے پاس بہت سے آپشن ہیں نیز اگر اس دفعہ فوج نے ان کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف اقدامات اٹھائے تو پھر انہیں ملک سے فرار ہونے کی فرصت بھی نہیں ملے گی، تاہم یہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب نے سپریم کورٹ کے فیصلہ آنے سے قبل کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ ماننے کو تیار ہیں، چنانچہ اب کیا ہوا؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیوں نہیں مانا جارہاہے؟ ایسا لگتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر فوج کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں، تاکہ ان کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو لوگ بھول کر فوج کے خلاف سڑکوں پر آجائیں یہ ان کی خطرناک چال ہے، باشعور عوام ان کی اس وطن دشمنی ، حکمت عملی کا ادراک رکھتے ہیں اور اسکو ناکام بنانے کے لئے عدلیہ اور فوج کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved