قوم متحد ہے
  28  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاست دان نہیں ہیں ، وہ ایک بہت بڑے تاجر اور سرمایہ دار ہیں ، وہ عالمی سیاست کے پیج و خم کو کلی طورپر سمجھنے کی فہم نہیں رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنوبی ایشیا سے متعلق جس پالیسی کا اعلان کیا ہے وہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ پاکستان کے خلاف دھمکیوں سے آراستہ ہے ان کا خیال ہے(جس میں ان کے انتہا پسند پاکستان دشمن حواری بھی شامل ہیں) کہ پاکستان کو دھمکیوں کے علاوہ امریکی امداد روک کر اسکو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، ٹرمپ اور ان کے نادان مشیروں کا خیال ہے کہ افغانستان میں 16سالوں سے امریکی فوج کی مسلسل ناکامی کا ذمہ دار پاکستان ہے جو افغان طالبان کی مدد کررہاہے، حلانکہ افغان طالبان کا پاکستان سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے، وہ اپنے وطن کے غیر ملکی تسلط یعنی امریکی اور نیٹو کی فوجوں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں، جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود رہنگی، افغانستان میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتاہے، افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت جسکو امریکہ اور ان کے یورپین دوستوں نے ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر اقتدار پر بٹھایا ہے ، وہ ایک ناکام نا اہل اور نا سمجھ حکومت ہے، جو صرف امریکی امداد پر زندہ ہے، جبکہ دوسری طرف یہ کٹھ پتلی حکومت امریکہ کو یہ تاثر دے رہی ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ پاکستان کی وجہ سے ہورہی ہے، حلانکہ حقیقت اسکے بر عکس ہے جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے ،تاہم اس ضمن میں حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لئے بھارت کی حمایت حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے، حلانکہ بھارت کا افغانستان میں تجارت کرنے اور وہاں کے وسائل کو لوٹنے کے علاوہ اور کوئی کردار نہیں ہے، بھارت کا دوسرا کردار پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا ہے، اسکے تربیت یافتہ ایجنٹ افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، تخریبی کاروائیاں کرکے فرار ہوجاتے ہیں، یا پھر پاکستانی فوجیوں کے ذریعہ مارے جاتے ہیں، اسوقت افغانستان میں ملا فضل اللہ کے علاوہ کئی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں، جنکو افغان حکومت اور بھارتی قونصلیٹ کی بھر پور حمایت حاصل ہے، امریکہ کو افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نظر نہیں آتے ہیں، اسکو صرف پاکستان میں ’’دہشت گردوں‘‘ کے ٹھکانے نظر آتے ہیں، حلانکہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اپنی کٹھ پتلی حکومت کو یہ واضح پیغام دے کہ وہ ان تمام دہشت گردوں کے اڈے اور ٹھکانے فوری طورپر ختم کرے جو پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرکے پاکستان کو عدم استحکام کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی طورپر بھی کمزور کرنا چاہتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کی جنوب ایشیا کی پالیسی بھارت کی نظر سے تشکیل دی گئی ہے، جو اس خطے میں مزید کشیدگی پھیلانے کا سبب بنے گی ، بھارت کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتاہے، اگر ایسا ہوتا تو بر صغیر کی تقسیم کیوں عمل میں آتی؟ اسکے علاوہ بھارت کا انتہا پسند اور نسل پرست وزیراعظم نریندرمودی سی پیک کے بھی خلاف ہے، وہ اعلانیہ اس عظیم منصوبے کو ناکام بنانا چاہتاہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے اپنے تمام پڑوسیوں سے تعلقات اچھے نہیں ہیں وہ امریکہ کی حمایت سے چین کے خلاف ایک حصار قائم کرنا چاہتا ہے، جس میں اسکو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، اس لئے امریکہ کی یہ خام خیالی ہے کہ بھارت کا افغانستان میں قیام امن سے متعلق کوئی کردار ہوسکتاہے، حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی کی صرف دو وجوہات ہیں پہلا یہ کہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ پاکستان کو مسلسل حالات جنگ میں رکھنا چاہتاہے، تو دوسری طرف وہ افغانستان کے وسائل کو بے دریغ استعمال کرکے اپنے ملک میں لے جارہاہے، اور اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کررہاہے، امریکہ غالباً یہ بھول گیا ہے کہ ماضی میں بھی اور اب بھی پاکستان دہشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑرہاہے، شاید پاکستان کی اس حکمت عملی کی وجہ سے دنیا کا امن بر قرار ہے ورنہ یہ دہشت گردعالمی سطح پر بھیانک کردار ادا کرسکتے ہیں، پاکستان دہشت گردی کے انسداد کے خلاف بے پناہ اور بے مثال قربانیاں دے رہاہے، جس کا امریکہ اعتراف کرنے سے گریزاں ہے ، بلکہ اسکے بر خلاف Do Moreکا مطالبہ کررہاہے، تاہم امریکہ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان تنہا نہیں ہے، روس اور چین نے بڑے واضح انداز میں امریکہ کی جنوبی اشیا کی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کررہاہے، کسی دوسرے ملک نے دہشت گردی کے خاتمہ اور روک تھام کے لئے اتنی قربانیاں نہیں دی ہیں، جتنی پاکستان نے دی ہیں، اس قسم کے خیالات روسی حکومت کے بھی ہیں، دراصل ٹرمپ نے اپنے نادان مشیروں کی ایما پر جس پالیسی کا اعلان کیا ہے وہ افغانستان کے مسلے کے حل میں معاون ومددگار ثابت نہیں ہوگی، یہ ایک ایسی پالیسی ہے جس کو طالبان بھی مسترد کرچکے ہیں، افغان مسئلہ کا حل طاقت یا پھر مزید طاقت کے استعمال میں نہیں ہے، بلکہ ڈائیلاگ میں پوشیدہ ہے افغان طالبان امریکی انتظامیہ سے براہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے امریکی صدر کے نام ایک کھلے خط میں کیا گیاہے، پاکستان اب بھی افغان طالبان اور امریکہ کے مابین بات چیت کرانے کے لئے تیار ہے جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا تھا، لیکن امریکہ کا دھمکی آمیز رویہ پاکستانی قوم کو قبول نہیں ہے، وہ متحد ہیں اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے، جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی کا مضحکہ خیر پہلو یہ ہے کہ وہ افغانستان کے مسئلہ کا حل بھارت کی مدد سے کرنا چاہتا ہے، جبکہ بھارت افغانستان میں ایک پرابلم ہے، بھارت نہیں چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، کیونکہ اگر ایسا ہوگیا یعنی امن قائم ہوگیا تو بھارت کو افغانستان سے اپنا بوریا بستر سمیٹنا ہوگا، امریکہ اس پہلو پر بھی غور کرے؟ پاکستانی قوم متحد اورجنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی کو مسترد کرتی ہے،۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved