پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات
  11  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

خطے کی صورتحال پر غور کیا جائے تو پاک چین دوستی کی اہمیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اگر ہم پاکستان میں گوادر اور سی پیک جیسے ترقیاتی منصوبوں پر نظر دوڑائیں تو چین ہمیں ہر کام میں صفِ اول پر کھڑا نظر آ تا ہے۔آج اگر پاکستان اور خصوصاً بلوچستان میں ہمیں مستقبل کی روشن کرنیں نظر آ رہی ہیں تو اس میں چین کی مددکو صدیوں یاد رکھاجائے گا۔پاکستان پر جب بھی اور کسی بھی طرح کا کڑا وقت آیا تو چین نے سب سے پہلے پاکستان کو سہارا دیا۔پاکستا ن اور خاص کر مسلم لیگ ’’ن‘‘ کی حکومت نے چین کی دوستی کی اہمیت کو شدت سے محسوس کیا۔2103ء میں سابقہ حکومت وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینے کے فوراً بعد چین ہی کا دورہ کیااور مختلف میگا منصوبوں میں سرمایہ کاروں کے لئے چین کو آمادہ کیا ۔وہ منصوبے آج کسی نہ کسی طرح مراحل کی آخری تکمیل پرہیں ۔یہ منصوبے چین سے ہی شروع ہوئے۔اور شمال ریاستوں سمیت سارے پاکستان سے گزر کر گوادر تک پھیلے ہوئے ہیں۔پچھلے دنوں طاقت کے نشے میں بد مست ہاتھی امریکہ کے صدرٹرمپ نے پاکستان کے خلاف بیان دیا تو پاکستان سے بھی پہلے چین نے اس کے دھمکی آمیز بیان کا جواب دیا۔چین کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ پاکستان اور افغانستان دو پڑوسی ور مسلمان ملک ہیں۔ان میں امن رکھنے کے لئے افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہیئے۔ امریکہ اور ہندوستان افغانستان میں مسلمانوں کے لئے خلاف یا مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لئے خونی پنجے گاڑھے ہوئے ہیں اور یہاں ان کی موجودگی یا ان کے اتحاد کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ہندوستان کی بلوچستان میں مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ سب چوری چھپے خود کش قسم کے حملے کر ا رہا ہے۔اگر کہیں ہندوستان کھلم کھلا جنگ کی بات کرتا ہے تو اسی دن چین کی طرف سے واضح بیان آ جاتا ہے کہ پاکستا ن کو تنہا نہیں چھوڑ اجائے گا اور یہی بیانات ہندونستان کے غبارے میں سے ہوا نکال دیتے ہیں ۔ موجودہ پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات نے بھی پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔اس ملاقات میں بھی چین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ زبردست اظہارِ یکجہتی کا اظہارکیا۔چینی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے مقابلے میں پاکستان کی قربانیوں کی دل کھول کر تعریف کی۔پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن کے قیام کے لئے افغانستان میں امن کا قیام بہت ضروری ہے۔میری ذاتی رائے ہے کہ صرف پاکستان ہی یہ سوچتا رہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوبلکہ افغانستان کو بھی پاکستان کے امن کا خیال رکھنا چاہیئے۔ آج پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی ہو رہی ہے وہ کسی نہ کسی طرح افغانستان سے بھی کرائی گئی لیکن چین آج بھی افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتا ہے۔یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ افغانستان سے دہشت گرد فاٹا میں آتے رہے اور ایک وقت وہ آ گیا کہ پورے فاٹا پر دہشت گردوں کی پنیریاں وہاں سے تیار کر کے پاکستان میں بھیجی جاتی تھیں۔لیکن پھر فاٹا کو دہشت گردوں سے خالی کرانے کے لئے ضربِ عضب کا آغاز کیا گیا۔جس کے لئے پاک فوج نے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ بلکہ اس کے ساتھ فاٹا کے عوام نے خود بھی بہت زیادہ قربانیاں دیں۔گو کہ افغانستان کی طرف سے آ ج بھی پاکستانی چوکیوں پرحملے ہوتے رہتے ہیں لیکن آج فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے وہاں بچوں کے بہترین تعلیمی ادارے ، بہترین ہسپتال اور سڑکوں کے جال بچھانے کا آغا زکردیاگیا ہے۔لیکن فاٹا میں بھی بعض جگہوں پر بلوچستان جیسے حا لات ہیں۔ جس طرح بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہاں کے نواب اور سردار ہیں ۔اسی طرح فاٹا میں بھی کئی جگہوں پر ان کے اپنے ہی نمائندے رکاوٹ رہے ہیں جو شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہاں پر تعلیم اور سڑکیں آ گئیں تو شاید وہاں پھر ہمیں ’’ملک ‘‘ یا ’’ خان ‘‘ کہنے والا کوئی نہ ہو۔اب وقت آ گیا ہے کہ فرعونی ذہنیت کے نوابوں ، سرداروں اور خانوں سے جان چھڑانے کے لئے وہاں کے علاقوں میں تعلیم کو عام کیا جائے۔ پاکستان میں اس وقت تک خوشحالی نہیں آ سکتی اور نہ امن قائم ہو سکتا ہے جب تک کہ معاشرے میں تعلیم کو فروغ نہ دیا جائے۔6ستمبر کو جنرل ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگارِ شہداء کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے دنیا پر واضح کر دیا کہ اب ہم کسی بھی ملک کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے اور ڈو مور کا حکم نہیں مانیں گے ۔ ہم نے جو کرنا تھا بہت کچھ کر لیااب دنیا ڈو مور کر لے۔ انہوں نے دنیا کا کہہ کر دنیا کے منصفوں کو سنا دیا کہ ہم آ پ کے زیرِ تسلط نہیں ہیں۔پاکستان کی اپنی پالیسیوں پر کام کیا جائے گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس بیان کو بہت مثبت انداز میں لیا گیا اور پاکستان میں اس بیان کی کافی پذیرائی ہوئی۔یہ حقیقت ہے کہ دلیر اور بہادر لوگوں کے ساتھ اللہ کی مدد بھی پہنچ جاتی ہے۔ راولپنڈی میں آرمی چیف کی قیادت میں کور کمانڈر کانفرنس ہوئی گو کہ آرمی کے اندر ایسی کانفرنس روٹین کی بات ہوتی ہے اور فوج اپنے لائحہ عمل پر غور کرتی رہتی ہے لیکن اس کور کمانڈر کا نفرنس میں خاص طور پر ردالفساد پر غور کیا گیا۔ضربِ عضب کے بعد ردالفساد ایسا کام ہے جس نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی۔ردالفساد کا کام پورے پاکستان میں ایک ساتھ شروع کیا گیا اور اس میں وسیع پیمانے پر کامیابیاں بھی ہوئیں ۔خاص طور پر پاکستان کے وہ علاقے جہاں وہ شرفا ء کے روپ میں رہ رہے تھے اور مقامی طور پر وارداتیں کر رہے تھے وہاں سے ان کا قلع قمع کر دیا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان عوام سے گزارش ہوگی کہ وہ فوج اور دوسرے حساس اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں ۔ مشکوک لوگوں کی فوری طور پر اطلاع کریں ۔پولیس بھی عوام کی نظروں میں اپنا اعتماد بحال کرے کہ وہ شکایت کنندہ کا نام صیغ�ۂ راز میں رکھیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved