وزیراعظم غیر ملکی میڈیا کے روبرو
  19  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

غیر ملکی میڈیا اس وقت سب سے زیادہ پاکستان اور افغانستان کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔وہ زبان سے کچھ کہیں نہ کہیں ، ان کا قلم کچھ لکھے یا نہ لکھے لیکن ان کا دل پاکستان کے صبر کی داد ضرور دیتا ہوگا۔آج پوری دنیا یہ جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے کتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں۔قیمتی جانوں کے علاوہ 120ارب ڈالر کا مالی نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا۔پاکستان آرمی کے جرنیل سے لے کر سپاہی تک ہزاروں شہادتوں کے علاوہ دوگنے تگنے لوگ شدید زخمی ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معذور اور ناکارہ ہو گئے۔یہ وہ قربانیاں جن کو پوری دنیا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھ چکی ہے اور دیکھ رہی ہے۔افغانستان میں امریکہ اور ہندوستان جیسے شیش ناگ اور کوبرا سانپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے مغربی اور مشرقی طویل ترین بارڈرملتے ہیں جہاں سے پاکستان کے اندر وارداتیں ہو رہی ہیں۔مغرب کے بارڈر کا میں نے یہاں ذکر اس لئے کیا ہے کہ خیبر پختونخواہ، فاٹااور بلوچستان میں دہشت گردی کی جتنی وارداتیں ہو رہی ہیں ان کے پیچھے کسی نہ کسی طرح ہندوستان کی ذہنیت ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔لیکن اتنی زیادتیاں اور اتنے ظلم سہنے کے باوجود پاکستان نے کبھی افغانستان کے اندرمداخلت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وزیراعظم نے غیر ملکی میڈیا کے سامنے جو کچھ بیان کیا بالکل یہ جواب امریکہ سمیت پوری دنیا کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 6ستمبر کو جنرل ہیڈ کوارٹر میں یادگارِ شہداء پر دے چکے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے گی۔ یہی بات وزیراعظم نے کہی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو دعوت دی کہ آپ خود جا کر فاٹا میں دیکھیں کہ ہم نے کتنا بڑا علاقہ دہشت گردی سے خالی کرایا ہے۔ کتنی اسلحہ اور بارود کی فیکٹریاں تباہ کی ہیں۔اب پاکستان میں کسی بھی جگہ دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔پاکستان میں جب سے ردالفساد کا آغاز ہوا ہے یہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا موجود ہونا کسی صورت ممکن ہی نہیں رہا۔میڈیا کے ایک نمائندے کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ہمیں پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں یا موجودگی کی کوئی لسٹ نہیں ملی۔امریکہ پاکستان کو لسٹیں کیسے مہیا کر سکتا ہے جبکہ گزشتہ16سال سے وہ49بلکہ اب تو کہا جاتا ہے کہ 54ملکوں کی فوج لے کر افغانستان میں بیٹھا ہو اہے۔جبکہ شروع شروع میں امریکہ نے اپنے رعب کی دھاک بٹھانے کے لئے تورا بورا کے پہاڑوں میںکاپٹڈبمباری کی تھی۔ اب دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ 54ملکوں کی فوج (بقول امریکہ کے)امن کی بحالی کیلئے افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہے۔ آج اگر امریکہ سے صرف ایک سوال پوچھا جائے کہ کیا افغانستان میں امن بحال ہو گیا ہے یا آپ نے امن بحال کر لیا ہے ؟ کیا افغانستان سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ کیا اب افغانستان میں دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے؟تو یقینی طور پر دنیا کی اتنی بڑی افواج کا جواب نفی میں ہوگا۔آج بھی اتنے ملکوں کی حمایت کے باوجود افغانستان میں حکومت کی گرفت انتہائی کمزور ہے۔دہشت گرد جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں بہت بڑی واردات کر دیتے ہیں۔صرف افغانستان میں نہیں بلکہ دہشت گرد افغانستان سے بلوچستان اور فاٹا میں داخل ہو کر وارداتیں کر رہے ہیں۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ اب ہم کسی کی ڈکٹیشن لے کر ڈو مور کا حکم نے مانیں گے۔دنیا ہماری کامیابیوں اور قربانیوں کا اعتراف کرے گی۔وزیر اعظم نے بھی بالکل اسی قسم کے الفاظ کا اظہارغیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کے سامنے کیا۔اب موجودہ حکومت نے فاٹا میں قانونی اصلاحات کے ترقیاتی پیکیج کا جو اراداہ ظاہر کیا ہے اس سے ترقی کا بہت بڑا انقلاب آئے گا۔ اس وقت ہندوستان نے کشمیر میں بھی قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جس دن بے گناہ کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹتے ہوں۔اقوامِ متحدہ کے ضمیر کو جگانے کے لئے ضروری ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے انصاف کے دروازے کو زور سے کھٹکھٹائیں ۔پاکستانی حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ وقتاً فوقتاً انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں کو پاکستان بلا کر ہندوستان کی کارستانیوں سے آ گاہ کیا جائے۔کشمیر، فاٹا اور بلوچستان کے دورے کرا کے انہیں پورے حالات سے آگاہ کیا جائے۔جو لوگ بلوچستان کے متعلق گمراہ کن خبریں پھیلاتے ہیں کہ وہاں علیحدگی پسند تنظیمیں زور پکڑ رہی ہیں غیرمیڈیا کے ذریعے انہیں پتہ چلے گا کہ وہاں وہ تنظیمیں اپنا دم توڑ چکی ہیں۔اکا دکا جو دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ان میں 95فیصد ہندوستان کی مداخلت شامل ہوتی ہے۔

پاکستان میں ''ن'' لیگ کی حکومت کو پانچ سال پورے ہونے والے ہیں ۔ نئے الیکشن سر پر ہیں ۔اس موقع پر ہندوستان پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ کرا سکتا ہے۔اس کے لئے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ کر ا سکتا ہے۔اس کے لئے پاکستانی سیاستدانوں اور خاص کر اپوزیشن کو ہوش کے ناخن لے کر سیاسی اکھاڑے میں اترنا ہوگا۔ایسا نہ ہو کہ وہ صرف حکومت کو بدنام یاناکام بنانے کے لئے دشمن کو وارداتوں کا موقع فراہم کرتے رہیں۔آنے والے الیکشن صرف سیاسی طور پر ہی نہیں بلکہ امن و امان کی بحالی کے لئے انتہائی اہم ہونگے۔پاکستان کو موجودہ فوجی کمانڈ سے انتہائی محفوظ اور مضبوطی سے سیاسی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی دہشت گردی اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی چوکس اور چوکنا رہنا ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved