ویل ڈن ،ڈاکٹر یاسمین راشد
  19  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

این اے 120 سے نو منتخب رکن قومی اسمبلی بیگم کلثوم نواز ایک معزز اور شریف خاتون ہیں، وہ ان دنوں بیمار بھی ہیں انکی جیت کی اصل حقدار مریم نواز شریف ہیں لیکن مجھے خراج تحسین پیش کرنا ہے ڈاکٹر یاسمین راشد کو، جو ہار کر بھی جیت گئیں ۔این اے ایک سو بیس کامعرکہ صرف ایک حلقے کا معرکہ نہیں تھا یہ ہر لحاظ سے ملک کے مستقبل کے انتخابات کا تعین کرنے والا حلقہ تھا اور اس حلقے نے کافی حد تک آئندہ کے سیاسی حالات کا تعین کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ن لیگ کی مریم نواز کی صورت میں نئی قیادت ابھر رہی ہے تو وہیں پی ٹی آئی اور خصوصا ڈاکٹر یاسمین راشد اس حلقے کا انتخاب ہار کر بھی عوام کے دلوں میں گھر کر گئی ہیں ،انہیں حلقے میں جو عزت ملی وہ قابل قدر ہے ۔اس حلقے میں 2013کے انتخابات میں میاں نواز شریف اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے درمیان مقابلہ ہوا تھا جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے تقریبا 52ہزارو ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ میاں نواز شریف نے اس حلقے سے بانوے ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔ موجودہ انتخاب کے دوران جہاں نون اور جنون مدمقابل تھے وہیں ن لیگ اور پی ٹی آئی کی وجہ سے عدلیہ او راس کے فیصلے بھی اس انتخاب میں زیربحث تھے ۔ ن لیگ یہ انتخاب جیت گئی ہے مگر وہ اس انتخاب کے دوران اپنے سابقہ ووٹوں سے گئی گنا کم ووٹ حاصل کرسکی ہے دوسر ی طرف پی ٹی آئی نے گزشتہ ووٹوں سے کچھ ہزار ووٹ ہی کم لیے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے جلسوں اور کارنر میٹنگز میں تو وہ دم نہیں تھا جو ڈاکٹر یاسمین راشد کی ڈور ٹو ڈور مہم میں تھا مگر جس طرح انہوں نے اس حلقہ میں کام کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ چاہے نواز شریف کے ہی مدمقابل اتریں لیکن وہ ایک انتہائی مضبوط امیدوار ہوں گی اور انہیں ہرانا اتنا آسان نہیں ہوگا ۔وہ تن تنہا لڑیں مگر حکومت جیت گئی ۔اگلی بار شاید ہوا کا رخ بھی مختلف ہو گا اور ن لیگ حکومت میں بھی نہیں ہوگی ۔ ن لیگ کے لیے ووٹوں میں اس قدر کمی ایک لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن ایک طرف عدلیہ کے ساتھ کشمکش میں مبتلا ہے اور اس کی تمام قیادت ملک سے باہر ہے اور دوسرا ان کے سر پر نیب کی تلوار لٹک رہی ہے ان حالات میںاس حلقے کے نتائج بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی آسان ہے جن علاقوں سے انہوں نے دونوں دفعہ تقریبا پچاس پچاس ہزار ووٹ حاصل کیے ہیں اب وہ ان علاقوں کی طرف مزید توجہ دیں تو مستقبل میں وہ بہت بہتر پوزیشن میں ہوں گی۔ این اے 120کے اس معرکے میں دو مزید اہم واقعات دیکھنے کو ملے ہیں ایک تو پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کی جس طرح ووٹروں نے حالت خراب کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب میں پی پی پی پی کے لیے بہت ہی نا مساعد حالات ہیں۔ حالانکہ ہمارے استاد محترم وارث میر کے بیٹے فیصل میر نے بہت محنت کی۔ بلاول بھٹو نے بھی اس حلقے کا دورہ کرنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے پی پی کے ووٹر یا تو گھر سے نکلے نہیں یا پھر وہ اپنا قبلہ اور نظریہ تبدیل کرچکے ہیں۔ میرے خیال میں پیپلز پارٹی کا ووٹر گھر سے نہیں نکلا وہ اپنی قیادت کے ان فیصلوں سے نالاں ہے جو اس نے مسلم لیگ ن کے ساتھ فرینڈلی اپوزیشن کے طور پر کئے رکھا ۔ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار یعقوب شیخ نے پانچ ہزار کے قریب اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے حمایت یافتہ امیدوار شیخ اظہر نے سات ہزار کے قریب ووٹ لے کر پورے ملک کو حیران کر دیا ہے۔اندونوں امیدواروں کو مذہبی ووٹ ملا ہے ۔ان دونوں کا ووٹ جماعت اسلامی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ آئیندہ الیکشن میں کیا کرتے ہیں لیکن سیاسی گٹھ جوڑ کے لیے تحریک لبیک یا رسول اللہ اور ملی مسلم لیگ کی اہمیت ضرور بڑھ گئی ہے۔لوگ جو بھی کہیں اور تحریک یا رسول اللہ اور ملی مسلم لیگ کے حوالے سے کچھ بھی پراپیگنڈہ کیا جائے دونوں جماعتوں نے اس انتخاب میں حصہ لے کر جہاں اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے وہیں انہوں نے اس امر کا بھی عندیہ دے دیا ہے کہ وہ اب بھرپور سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

این اے 120مریم نواز کے لیے بھی ایک امتحان سے کم نہیں تھا انہوں نے اگر ڈور ٹو ڈور مہم نہ چلائی ہوتی اور ہر گلی محلے میں جا کر خود اس مہم کی نگرانی نہ کی ہوتی تو کلثوم بی بی کو اتنے ووٹ نہ ملتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مریم نواز کی سیاسی لانچنگ کو بہترین بنانے کے لیے اس حلقے میں دوسرے مسلم لیگی رہنماوں کو خاموشی سے کام کرنا پڑا اب پتہ نہیں یہ پارٹی کی پالیسی تھی یا پھر کچھ اور لیکن جس طرح مریم نواز کی پذیرائی کی جارہی ہے اور ان کے لیے لیڈر شپ کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں لگتا ہے کہ مریم نواز آئندہ سیاست میں بہت اہم کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔اگر کسی طرح ن لیگ اس حلقے میں نوے ہزار ووٹ حاصل کرلیتی تو شاید کہا جا سکتا تھا کہ عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا لیکن ان نتائج کی روشنی میں اب ن لیگ کے لیے چیلنجز میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اور مزید مشکلات نیب کی کارروائی کی صورت میں نظر آرہی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
100%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved