ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار کا ذمہ دار کون؟
  21  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) یہی صورت حال، قیام پاکستان سے پہلے مسلمانوں کی تھی جس کے تدارک کے لئے پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوئے دس سال سے زیادہ ہوگئے لیکن ابھی تک مسلمانوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ مودی کے ہندوتا کے اس دور کی دھند میں لوگ بھول جاتے ہیں کہ نہرو کے سیکولر دور میں بھی مسلمان ترقی اور خوش حالی کی اس منزل سے ہم کنار نہیں ہوئے تھے جس کی آزاد ہندوستان میں توقع تھی۔ نہرو کے دور میں چنیدہ مسلمانوں کو علامتی طور پر اہم عہدے دئے گئے لیکن ووٹوں کے حصول کے لئے مسلمانوں کی خوشنودی کا اظہار کیا گیا لیکن ان کے مسایل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے، بلکہ اس دور میں ہندو قوم پرست جن سنگھی منظم طور پر مسلمانوں کی اقتصادی قوت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ ۔ اُن شہروں میں جہاں مسلمانوں کی صنعتیں تھیں ، مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکائی گئی ۔ علی گڑھ میں تالے کی صنعت تباہ کرنے کے لئے خونریز فسادات ہوئے جن کی گ نے مسلم یونیورسٹی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یونیورسٹی کا اقلیتی کردارختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ فیروز آباد میں فسادات نے چوڑیوں کی صنعت کو کرچی کرچی کر دیا ۔ میرٹھ میں قینچیوں اور چھریوں کی صنعت کو تباہ کرنے کے لئے فسادات برپا کئے گئے اور مراد آباد میں برتنوں کی صنعت مسلم کُش فسادات کی بھینٹ چڑھ گئی۔ بہرحال اس وقت نریندر مودی کے دور میں مسلمانوں اور دوسرے اقلیتوں میں جو خوف اور اپنے تحفظ کے بارے میں جو تشویش ہے اس کا کھلم کھلا اظہار ہندوستان کے سابق نایب صدر حامد انصاری نے اپنے عہدے سے سبک دوش ہونے سے پہلے ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔انہوں نے اس پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل ہندوستانی اقدارنا پید ہوتی جارہی ہیں او ر بہت سے شہریوں سے ان کی ہندوستانیت کا سوال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم کی تجدید اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے اور یہ بات باعث تشویش ہے کہ مسلمان ا پنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور ان میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔ حامد انصاری اکیلے نہیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں بے چینی اور خوف ہراس کے احساس کی بات کہی ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سمیت کئی ممتاز سیاست دانوں نے مسلمانوں اور عیسایوں میں بڑھتے ہوئے خوف کے رجحان کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ کڑوڑ ہے،یہ کوئی چھوٹی اقلیت نہیں ہے۔اتنی بڑی تعداد اگر خوف و ہراس میں گھری رہے تو یہ بات یقینا باعث تشویش ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ بلاشبہ ہندوستان کی حکومت پر اولین ذمہ داری ہے کہ وہ محض ''سب کا ساتھ سب کا وکاس( ترقی) کا نعرہ لگا کر مسلمانو ن کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ یہ مودی حکومت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ ہندوستان کے سارے عوام ، مسلم ،ہندو ، سکھ ،عیسائی ، بودھوں اور جینوںکے حقوق کا یکساں تحفظ کرے۔ پاکستان کے سیاست دانوں اور عوام پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ اپنے دل کو ٹٹولیں کہ انہوں نے اپنا الگ ملک تو حاصل کر لیا ۔ کیا ان کا فرض نہیں کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بھی سوچیں ۔ کیا وہ ہندوستان کے آزار میں گرفتار مسلمانوں کو آسانی سے فراموش کر سکتے ہیں جنہیں وہ ہندوستان میں چھوڑ آئے؟ کیا وہ کسی صورت بھی ان کے مونس و غم خوار نہیں بن سکتے اور کیا ہندکے مسلمانوں کے آزار کا ان کے پاس کوئی مرہم نہیںہے ؟ ۔ نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے کا کیسے ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved