غریب کی تھالی میں پلائو
  24  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے انتخابی نتائج کا اونٹ توقع کے عین مطابق اس کروٹ بیٹھ چکا ہے جس کروٹ پر اس کے بیٹھنے کا غالب بلکہ ''مرزا غالب'' امکان تھا جبکہ یہ ایک الگ قصہ ہے کہ اس اونٹ کو اپنی کروٹ پر بٹھانے کے لئے اونٹ کے ''ساربانوں'' کو کن کن دشواریوں' تشنوں اور صلواتوں کا سامناکرنا پڑا۔ یہ اونٹ ابھی بمشکل اپنی کروٹ بیٹھا ہی تھا کہ انتخابی مہم کے دوران تنگ و تاریک گندی گلیوں میں گندے مندے اور میلے کچیلے ''بہن بھائیوں'' میں گھل مل جانے والی ان کی بہن اور بیٹی مریم نواز شریف اور بوقت ضرورت مریم صفدر اپنے شوہر نامدار کیپٹن (ر) محمد صفدر اور بیٹے کے ہمراہ اپنی والدہ محترمہ بیگم کلثوم نواز شریف کی عیادت کے لئے راتوں رات لندن چلی گئیں۔ بعض ذرائع یہ تصدیق کررہے ہیں کہ بیگم صاحبہ کی طبیعت حقیقتاً کافی ناساز ہے اور ابھی ان کے مزید چند آپریشن ہوں گے جس کے بعد ان کی کیموتھراپی کا عمل شروع ہوگا جو ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے جس کی وجہ سے میاں نواز شریف اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کا لندن میں قیام طویل بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری صدق دل سے یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیگم صاحبہ کو جلد از جلد صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے تاکہ وہ پاکستان واپس آکر نہ صرف ممبر قومی اسمبلی کا حلف اٹھا کر سیاست میں فعال کردار ادا کرسکیں بلکہ گاہے بگاہے… میں آئی … میں آئی … کہہ کر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ''تراہ'' بھی نکالتی رہیں۔ این اے 120 میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز شریف کے ووٹر سپورٹر تو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ کامیابی کے بعد مریم نواز شریف گھر گھر جاکر اسی طرح ہنستے مسکراتے اور ترو تازہ چہرے کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کریں گی۔ ان کا منہ گھی شکر سے بھر دیں گی۔ جس طرح انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مسکرا مسکرا کر ووٹ مانگے تھے نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے ایک یہ سپایا کرتے رہے کہ … مجھے کیوں نکالا۔ مجھے کیوں نکالا … اور دوسرا یہ کہہ کر عوام کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کرتے رہے کہ عدالتوں کے فیصلے سے ووٹ کے تقدس کو پامال اور بے توقیر کیا گیا ہے۔ میاں نواز شریف بظاہر تو اتنے سیانڑیں نہیں لگتے لیکن ان کی باتوں سے لگتاہے کہ وہ صرف چہرے سے ہی بھولے بھالے لگتے ہیں۔ لیکن اندر سے وہ ''جانو کپتی'' کی طرح اچھے خاصے ''گھنے'' لگتے ہیں کیونکہ انہوں نے راستے میں عوام سے جتنی بار بھی خطاب کیا انہوں نے ایک بار بھی ووٹر کے تقدس اور حقوق کی پامالی کا ذکر نہیں کیا جو ستر برسوں سے کی جارہی ہے۔ یہ امر ظاہر کرتاہے کہ نہ صرف میاں نواز شریف بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں بلکہ ان کے نمائندوں کو بھی ووٹر کے بجائے ووٹ کے تقدس اور حرمت کا زیادہ احساس ہے۔ اس لئے مریم نواز شریف ووٹوں کی گنتی مکمل ہوتے ہی ووٹروں کو ان کے حال پر چھوڑ کر سات سمندر پار چلی گئی ہیں۔ این اے 120 میں جتنے دن بھی انتخابی مہم جاری رہی انتخابی دفاتر کے علاوہ پورے حلقے میں پلائو اور بریانی کی دیگیں کھڑکتی رہیں اور قیمے والے نان بٹتے رہے یہاں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ قیمہ کس جانور کے گوشت کا تھا۔ کسی گائے ' کسی ویہڑے یا کسی کھوتے کے گوشت کا تھا۔ غریب کی تھالی میں پلائو تب ہی آتاہے جب شہر میں چنائو آتا ہے۔ تب ہی تو لاہوریوں کی تھالیاں پولنگ کے اختتام تک پلائو سے بھری رہیں جبکہ سترہ ستمبر کے بعد پلائو تو درکنار ووٹروں سپورٹروں کو کسی نے خیالی پلائو کی پیشکش بھی نہیں کی ۔ اب لاہور کے علاوہ ملک بھر کے عوام اور ووٹروں کو اگلے چنائو تک پلائو کا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ اس کے علاوہ تو غریب آدمی کوپلائو تب ہی کھانے کو ملتا ہے جب محلے میں کوئی ''ماڑی موٹی'' شادی ہو رہی ہو یا کوئی فوت ہوگیا ہو۔ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے نتائج اثر انداز ہونا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ بیک جنبش قلم بجلی کی قیمتوں میں دس پیسے کم چار روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کو … اک واری فیر شیر… کہا جاسکتا ہے۔ یہ شیر کبھی کبھی ہوشیاری اور چالاکی دکھانے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن بعد میں اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مریم نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران متعدد بار یہ دعوی کیا کہ ان کے مقامی عہدیداروں کو نامعلوم افراد رات کے اندھیرے میں اٹھا کر لے گئے ہیں۔ لیکن انتہای معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سارا ڈرامہ عوام کی توجہ اور ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے رچایا گیا تھا کیونکہ جن عہدیداروں کے اغوا کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ اپنے گھروں اور بعض اپنے قابل اعتماد دوستوں کے گھروں میں موجود تھے۔ علاوہ ازیں خبر یہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف لندن سے امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے گزشتہ دنوں لندن میں امریکی سفارتخانے میں جاکر امریکی سفیر رووڈلی جانسن سے نوے منٹ تک ملاقات کی۔ میاں نواز شریف لندن میں چین کے سفیر لیوشیانگ کے ساتھ بھی ملاقات کرچکے ہیں۔ ان ملاقاتوں سے میا ں نواز شریف نے کیا حاصل کیا ہے یہ آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا ۔

ادھر وزیراعظم پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنی بھابھی بیگم کلثوم نواز شریف کی عیادت کے بعد میاں نواز شریف کو یہ باور کرانے کی حتی الامکان کوشش کی کہ ''پہاجی'' اسٹیبلشمنٹ سے ''پنگا'' کسی صورت بھی ''چنگا'' نہیں ہوگا۔ اس سے ملکی مفادات اور مسلم لیگ (ن) کو مزید نقصان پہنچے گا۔ لیکن میاں نواز شریف اس طرح کوئی بھی مشورہ سننے پر آمادہ نہیں ہیں کیونکہ وہ سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی کے فیصلے پر سخت ''تپے'' ہوئے ہیں اور ان کی یہ ''تپش'' لندن کے سرد موسم میں بھی کم نہیں ہو رہی۔ میاں نواز شریف' آصف علی زرداری کو بھی دانہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ آصف علی زرداری میاں نواز شریف کو ''لارے'' میں رکھ کر انہیں گیم ڈالنے کے چکر میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اس صورتحال پر تشویش میں مبتلا نہیں اور اکثر اپنی آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ وہ اس ''ٹوہ'' میں بھی ہیں کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا لہجہ تلخ اور الفاظ کڑوے کیوں ہوگئے ہیں۔ کہیں انہیں کوئی اشارہ تو نہیں مل گیا' میاں نواز شریف کے مسائل اور پریشانیوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ حمزہ شہباز بھی اپنے تایا کی فیملی سے سخت ناراض ہیں جو میاں نواز شریف کے کئی بار ٹیلی فون کرنے کے باوجود بھی راضی نہیں ہوئے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے میاں نوا ز شریف اور ان کی فیملی خفا خفا سی ہے شاید اسی لئے جب اسحاق ڈار ان سے ملنے کے لئے ان کے فلیٹ پر آگئے تو کئی بار گھنٹیاں دینے کے بعد تھوڑی تاخیر سے دروازہ کھولا گیا۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کے لئے دروازے بند ہونے شروع ہوگئے ہیں اور اگر یہی صورتحال رہی تو پھر غریبوں کو اپنی تھالی میں پلائو کے لئے طویل عرصے تک چنائو کا انتظار کرنا پڑے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved