اور اب چیف میٹروپولیٹن پولیس افسر
  25  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنانے کا الزام ہر دور کی اپوزیشن جماعت لگاتی رہتی ہے جبکہ ہر حکومتی جماعت پولیس کے دفاع اور تھانہ کلچر کی بہتری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہوئے کبھی شرم محسوس نہیں کرتی کیونکہ اس نے پولیس کو اپنے سیاسی عزائم پروان چڑھانے کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ پنجاب بھی وہیں کھڑا ہے اور عوام بھی پولیس کے ہاتھوں اسی طرح ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں،پولیس کی کالی وردی کم ہو گئی مگر کالے کرتوتوں والے پلسیے کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے وہ اب بھی اپنا پرانا کام نئی رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومتوں کے آنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔معروف کالم نگار اور صحافی علی احمد ڈھلوں نے بہت پہلے بہت اچھا تبصرہ کیا تھا ۔میں نے پوچھا تھا ایک حکومت کے جانے کے بعد شائد دوسری جماعت کی حکومت میں عوام کو کوئی ریلیف مل جائے گا؟انہوں نے برجستہ کہا ریلیف نہیں عوام کو مزید جوتے پڑیں گے۔ ہمارے ملک میں یہی ہو رہا ہے ۔پولیس کو عوام کے ماتحت کرنے یا نہ کرنے سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی حکومتوں کی تبدیلی کوئی فرق ڈال سکی ہے ۔آزاد پریس ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور عدلیہ کے فعال ہونے کی وجہ سے کچھ فرق پڑ اہے یا پھر ایماندار ،محنتی اور درد دل رکھنے والے پولیس افسروں نے اپنے محکمے کی تھوڑی سی عزت رکھی ہوئی ہے۔ پولیس کے حوالے سے پنجاب حکومت نے ایک بار پھر پرانی شراب کو نئی بوتل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی سی پی او لاہور کو چیف میٹروپولیٹن پولیس افسر لاہور کا نیا نام دیا جا رہا ہے ،اس سے پولیس کلچر میں کیا فرق پڑے گا ؟سپیشل برانچ کے افسروں کو ڈیٹیکٹر کا نام دینے سے کیا انکی سوچ اور کام بدل جائے گا؟ عوام کو سی سی پی او کا عہدہ بڑی مشکل سے یا د ہوا تھا اب نیا نام دیا جا رہا ہے نام میں کیا رکھا ہے بھائی کام اور اس کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔لوگوں کو اب بھی سی سی پی او کی بجائے کیپٹن امین وینس زیادہ یاد ہے کیونکہ وہ لوگوں کیلئے اپنے دفتر کے دروازے کھلے رکھ کر بیٹھتا ہے ،انہیں ملتا ہے انکے جائز کام کرتا ہے اس نے لاہور پولیس کو کمیونٹی پولیس بنا کر کرائم کو کنٹرول کیا ہے۔پولیس افسروں کو اس جیسا بنائیں پولیس کا نظام بہتر ہو جائے گا۔ آئی جی پولیس کا نام پروونشل پولیس افسر رکھا گیا تھا وہ کس کو یاد ہے۔عمر شریف نے اپنے ایک شو میں کہا تھا کہ پولیس میں نام کے لحاظ سے سب سے بارعب عہدہ تو ہیڈ کانسٹیبل کا محسوس ہوتا ہے اور آئی جی کا نام تو سب سے معصوم لگتا ہے ۔اگر آپ اپنے گھر میں اپنی ہمشیرہ کو بلائیں تو وہ کمزور سی آواز میں کہتی ہے آئی جی جس طرح آپ پی آئی اے کے جہاز میں ائیر ہوسٹس سے پانی مانگیں تو وہ معصومیت سے کہتی ہے پی آئی اے۔ڈپٹی کمشنراور میجسٹریٹ کے نام ضلعی حکومتوں کے دور سے پہلے بارعب انتظامی عہدے ہوتے تھے ۔آپ نے ڈی سی زیرو کردیا ۔ایک بار پھر ڈپٹی کمشر کا نام بحال کیا گیا ہے مگر اب اس کے پلے ہی کچھ نہیں ہے۔کام اور اختیار کی بات ہوتی ہے نام کی نہیں۔ محکمہ پولیس میں اصلاحات اور عوام کی خدمت کے دعوے پنجاب میں گزشتہ کئی دہائیوں سے کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں بہت سے اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں جس میں سب سے اہم فیصلہ پولیس آرڈر 2002تصور کیا جاتا ہے مگر وہ آرڈر بھی کچھ نہ کر سکا اور پولیس پہلے سے بڑھ کر آزاد ہو گئی۔آپ نے پی سی ایس پولیس افسروں کی ترقیاں روک کر ہر طرف پی ایس پی اوں کی لائینیں لگا دیں ۔ اس لحاظ سے بہت سے قانون دا نوں اور پولیس کے ریٹائرڈ افسروں کا کہنا ہے کہ اگر اس پولیس آرڈر کو اس کی اصل روح کے ذریعے نافذ کیا جاتا تو پولیس کے محکمہ کی حد تک تمام مسائل ایڈریس ہو سکتے تھے دوسری طرف ناقدین اس لحاظ سے اکثر اس فیصلے کی مخالفت کرتے رہے اور پولیس کلچر میں تبدیلی کے لیے پولیس پر چیک اینڈ بیلینس کی بات کرتے۔ سنا ہے ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے پولیس آرڈر 2002کی جگہ پر صوبے میں پنجاب پولیس ایکٹ 2017کو نافذ کرنے کے مسودہ قانون کو حتمی شکل دے دی ہے جس میں مزید ترامیم شامل کی گئی ہیں جن میں پنجاب حکومت کو بااختیار کرنے کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے والی شقیں ختم کی جارہی ہیں۔ جبکہ حکومت پنجاب نے نئے مسودہ میں سلیکشن پینل میں عدلیہ کے کردار کو بھی ختم کردیا ہے۔ نئے نظام کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پولیس کے آئی جی کے پاس ایکس آفیشیو سیکرٹری کے اختیارات کو ختم تو نہیں کیا گیا لیکن پولیس کو محکمہ داخلہ کے ماتحت کیا جارہا ہے جو کہ ایک لحاظ سے انتہائی مثبت اور اہم قدم ہے۔اس حوالے سے عرصہ دراز سے بیوروکریسی اور پولیس کے در میان ایک بحث چل رہی تھی جس کے تحت پولیس خود کو چیف سیکرٹری کے زیر انتظام کہلواتی تھی جب کہ پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس کے تحت محکمہ پولیس اور صوبائی سیکرٹری داخلہ کے ماتحت دکھایا جاتا رہا ہے۔ اس سے پہلے آئی جی کو ہٹانے کا اختیار پبلک سیفٹی کمیشن کے پاس ہوتا تھا جبکہ آئی جی کو چننے کے لیے بھی پبلک سیفٹی کمیشن کو تین نام بھجوائے جاتے تھے جبکہ اب یہ تین نام صوبائی حکومت کو بھیجوائے جائیں گے جن میں سے ایک حکومت فائنل کرے گی جبکہ اس نئے قانون کے تحت پولیس کو مقامی حکومتوں کے اثر و رسوخ سے نکا ل دیا گیا ہے ۔نئے قانون کے تحت ڈی پی اوز اور سی سی پی اوز کی تعیناتی کے اختیارات صوبائی حکومت کے ماتحت ہی رہیں گے۔ اس حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوچکا ہے کہ کیا اس تبدیلی سے پولیس کلچر پر کوئی مثبت اثر ہوگا کہ نہیں لیکن سب سے اہم امر یہ ہے کہ جس طرح پرانے پولیس آرڈر کو پوری طرح نافذ نہیں کیا گیا تھا اسی طرح اگر اس نئے قانون پر بھی عمل نہ کیا گیا تو پولیس کلچر میں تبدیلی کا خواب شاید شرمندہ تعبیر نہ ہوپائے گا اس لئے بہتر ہے کہ نئے پولیس آرڈر کا اچھی طرح بلکہ بار بار جائزہ لے لیا جائے تاکہ اس کے بعد پھر جلد ہی کوئی نیا پولیس آرڈر نہ لانا پڑے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved