وزیراعظم کے زیرِ صدارت اہم فیصلے
  3  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

حیران کن بات یہ ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہندو مسلمان کا کبھی دوست نہیں ہو سکتا۔وہ اس برتن میں کھانا پسند نہیں کرتا جس میں کوئی مسلمان کھانا کھا لے۔بعض ہندو تو مسلمانوں سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے مسلمانوں سے اس قدر شدید نفرت تو پھر انہیں افغانستان کے مسلمان اتنے پیارے کیوں لگتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے مسلمانوں سے بھی وہ اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی پا کستان اور کشمیر کے مسلمانوں سے کرتے ہیں۔لیکن یہاں وہ انتہائی چالاکی اور دوغلی پالیسی سے کام لے کر مسلمانوں کو مسلمانوںسے مروا رہا ہے۔افغانستان میں دہشت گردی کی پنیریاں تیا رکر کے بلوچستان اور فاٹاکے راستے پاکستان بھجوا کر دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتیں کرواتا ہے۔یہ بات افغانستان سمجھنے سے قاصر ہے ۔ افغانستان میں بھی دہشت گردی کی تمام وارداتوں کے پیچھے ہندوستان کی گھٹیا سوچ ہی ہے۔اس وقت بھی افغانستان کے آدھے سے زیادہ حصے پر افغانستان کی حکومت نہیں ہے۔اگر افغانستان صرف کابل شہر کو سمجھا جائے تو وہاں افغانستان کی حکومت ہے۔افغا نستان حکومت کو ہندوستان کی چالوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ہندوستانیوں کو اپنے ملک سے نکال دیں ۔ آج اگر ہندوستان افغانستان سے نکل جائے تو پاکستان اور افغانستان دو ممالک میں امن و سکون ہو جائے ۔میں اپنے تجربے کے مطابق کافی عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی ہونے والی ہر واردات کے پیچھے ہندوستان کی سوچ ہے۔بلوچستان ایک مکمل پُر امن صوبہ ہے۔وہاں کوئی لسانی یا مذھبی جھگڑے نہیں۔ اگر کوئی تھوڑا بہت اختلاف ہے بھی تو وہ اس قدر شدید نہیں کہ اس کے پیچھے دہشت گردی کی اتنی بڑی بڑی وارداتیں ہوں ۔ اس سال یومِ آزادی سے صرف ایک دن پہلے کوئٹہ شہر میں 12اگست، 2017ء کو دہشت گردی کی واردات ہوئی تو حادثے کی جگہ پر میرے سمیت ہر مکتبۂ فکر کے لوگ چند لمحوں میں پہنچ گئے۔وہ لوگ جشن آزادی کے لئے اپنی گاڑیوں ، موٹر سا ئیکلوں کو سجائے ہوئے تھے اور جو لوگ پیدل تھے ان کے ہاتھوں میں بھی پاکستان کے بڑے بڑے جھنڈے تھے۔میری آنکھوں کے سامنے وہ لوگ پاکستانی جھنڈوں سے خمیوں کی پٹیاں کر رہے تھے۔شہیدہونے والوں پر پاکستانی جھنڈے ڈال رہے تھے۔گاڑیوں کی لائینوں میں حادثے والی جگہ سبز جھنڈوں کی وجہ سے تازہ فصل جیسا سبزہ نظر آ رہا تھا ۔وہ کسی قسم کی علیحدگی کی سوچ رکھنے والا کوئی شخص نہیں تھا۔جب زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا تو ایک ایک زخمی کی جان بچانے کے لئے دس دس نوجوان طالبعلم خون دینے کے لئے آ کر لیٹ گئے ۔ کون کس کے لئے خون دینا چاہتا تھا کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔وہ بس اپنے بھائیوں کی جان بچانے کے لئے آئے تھے۔ہر نوجوان نرسنگ کا کام کر رہا تھا ۔ زخمیوں کے چہرے صاف کرنے کے علاوہ ان کا خون صاف کر رہا تھا۔میں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے اتنا بڑا جذبہ ٔ انسانیت نہیں دیکھا تھا۔میں کیسے مان جاؤں کہ وہاں علیحدگی پسند تنظیمیں زوروں پر ہیں۔چند بھٹکے ہوئے لوگ جو ہندوستان کے اشاروں اور پیسے پر وارداتیں کرتے یا کراتے ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

کل شام اسلام آباد میں ایک عجب منظر دیکھا کہ بلوچستان کی مختلف یو نیورسٹیوں سے173طالبعلم اور اساتذہ آئے ہوئے تھے۔یہ طالبعلم پاکستان کی محبت سے لبریز تھے۔ان کی رہائش گاہ کے نزدیک چند لمحے ان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا ۔ وہ بچے پاکستان کے ساتھ جن الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے ایسا محسوس ہوا کہ ان سے بڑا کوئی محبِ وطن پاکستانی نہیں ہے۔بچوں نے تو یہاں تک کہا کہ ہم اپنی ماں کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہمیں جہاں کسی بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ چلا ہم خود اسلحہ لے کر ان کا مقابلہ کریں گے۔اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو پھر ایف سی سمیت دوسرے حساس اداروں کو ان کی اطلاع ضرور دیں گے۔انہوں نے پھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاس جانا تھا۔میں اپنی پوری کوشش کے باوجود وہاں تک رسائی حاصل نہ کر سکا ورنہ میری خواہش تھی کہ ان بچوں کی آرمی چیف سے ملاقات کے وقت چہرے کے تاثرات پڑھ کر قلمبند کروںگا۔بحر حال آرمی کے اپنے دستور اور اصول ہوتے ہیں۔لیکن اخبارات اور ٹیلی ویژن پر آ رمی چیف کا خطاب سن کر اور بلوچستانی طلباء کے چہروں کے تاثرات پڑھ کر یہ بات میں پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ بلوچستان کے لوگوں کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہو چکے ہیں۔اب دنیا کی کوئی طاقت ان کے دلوں سے پاکستان کی محبت نہیں نکال سکتا۔کل وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ ہمارا ملکی دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھے جائیں گے۔اور بھارت کو سخت الفاظ میں انتباہ کیا کہ بھارتی اشتعال انگیزی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی شیلنگ سے معصوم جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔اگر ہندوستان اپنی ان حرکتوں سے باز نہ آ یا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved