یہ ہیں ہمارے وزیرخارجہ؟
  5  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

خواجہ آصف کو نا اہل وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزیر خارجہ بنایا ہے، حالانکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان کے حق میں نہیں تھے، لیکن وہ مجبور تھے، خود ان کی وزارت اعظمیٰ نواز شریف کی مرہون منت ہے، تاہم جب خواجہ آصف کو اس اہم منصب پر فائز کیا گیا تو پاکستان کے باشعور افراد کو بڑی حیرت ہوئی تھی، کیونکہ موصوف کو وزارت خارجہ کا کوئی تجربہ نہیں ہے، وہ اس کی نزاکتوںاور باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوںنے امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کی پالیسیوں (جن کا تعلق بعض کالعدم تنظیموں سے تھا) کی نہ صرف مذمت کی بلکہ کہا کہ ''پہلے اپنے گھرکو ٹھیک کریں'' یہ جملہ براہ راست عسکری اداروں کی جانب تھا جن کے خلاف یہ شخص اکثر نفرت انگیز گفتگو کرتا رہاہے، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھی ، چنانچہ نا اہل وزیراعظم نے جان بوجھ کر اسکو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا ہے تاکہ اس کے ذریعہ بیرونی دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں پاکستان کا ہاتھ ہے، اس ہی قسم کی گفتگو ڈان لیکس میں بھی کی گئی تھی، جسکی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سازش میں مریم نواز پیش پیش تھیں،تقریباً تمام باشعورا فراد نے خواجہ آصف کے انٹرویو کا بہت برا منایا ہے اور افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں سینٹ کے تمام ارکان بھی شامل ہیں اور اسکی شدیدمذمت کی ہے، اس ضمن میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احسان الحق نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ انہیں (وزیرخارجہ) کو عالمی فورم پر اس قسم کی گفتگو نہیں کرنی چاہئے تھی،یہ انداز گفتگو ڈپلومیسی کے خلاف ہے، نیز خواجہ آصف کے بیان سے پاکستان دشمن ممالک کو اس بات کا یقین ہوچلاہے کہ پاکستان انتہا پسند تنظیموں سے دہشت گردی کرارہاہے، حلانکہ حقیقت اسکے بالکل بر عکس ہے، کاش انہوں نے اپنی بات چیت میں ''را'' اور بلوچستان میں اسکے ایجنٹوں کا ذکر کیا ہوتا جو ہر لمحہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھارت کے میڈیا (الیکٹرونک اور پرنٹ دونوں) نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرخارجہ نے جو کچھ بھی انتہا پسند تنظیموں سے متعلق کہا ہے وہی بھارت کا موقف ہے، یعنی خواجہ آصف بھارت کی زبان بول رہے تھے، اور بھارت کے موقف صحیح قرار دے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں شاہد خواجہ آصف کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ دنیا کا ہر ملک اپنے حریف ملک کے خلاف ''پراکسی'' کراتا ہے، بھارت اس خطے میں پراکسی کرانے میں پیش پیش ہے، ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر خون خرابہ کرانے میں بھارت کا واضح کردار تھا اور ہے، اس کی تصدیق ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی کی ہے، اور کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ جس میں ٹی ٹی پی شامل ہے مسلسل گڑبڑ کرارہاہے، لیکن خواجہ آصف جان بوجھ کر اس حقیقت سے روگردانی کررہے ہیں، وہ دشمن کی زبان بولتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کریں، کیا پاکستان کی فوج جس میں فضائیہ بھی شامل ہے، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں کاروائیاں نہیں کی ہیں، کیا سوات میں جنرل کیانی کے زمانے میں دہشت گردوں کا صفایا نہیں ہواہے، کیا ضرب عضب جسکا سہرا جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھیوں کو جاتاہے، انہوںنے کس جوانمردی سے فاٹا کو خطرناک قسم کے دہشت گردوں سے پاک کرایا ہے، اب ردالفساد کے ذریعہ جنرل باجوہ یہ اہم کام انجام دے رہے ہیں، کیا یہ سارے اقدامات گھر کو ٹھیک کرنے کے مترادف نہیںہیں؟ دراصل خواجہ آصف جیسے لوگوں کی موجودگی میں پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے، ویسے بھی خواجہ آصف دبئی کے اقامہ ہولڈر ہیں، وہاں سے مراعات لے رہے ہیں، احسن اقبال بھی اس ہی زمرے میں آتے ہیں، میا ں نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نا اہل قرار دیا گیاہے، اور اقتدار سے فارغ کیا گیا ہے، حقیقت میں وزارت خارجہ کا منصب خواجہ آصف کو دے کر نواز شریف نے عسکری اداروں سے دشمنی کا بدلا لے رہے ہیں، شنید ہے کہ میاں نواز شریف کی ہدایت پر ہی خواجہ آصف نے پاکستان کے خلاف اپنا بیانیہ دیا تھا، اگر پاکستان کی پارلیمنٹ میں خرب اختلاف متحد ہوتی یا مضبوط ہوتی تو وہ کبھی کا خواجہ آصف کو اس منصب سے ہٹا سکتی تھی، لیکن پارلیمنٹ کے اندر خورشید شاہ کی صورت میں خرب اختلاف میاں نواز شریف کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے، اس حقیقت سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما بھی واقف ہیں ، انہیں اس بات کا احساس وادراک ہے کہ خورشید شاہ نے میاں نواز شریف سے بے پناہ فوائد لئے ہیں، بھلا وہ کسطرح میاں نواز شریف کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکیں گے؟ دراصل اسٹبلشمنٹ کے ڈھیلے پن سے ، خواجہ آصف جیسے افراد خوب فائدہ اٹھا کر پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بد نام کررہے ہیں، آج پاکستان کو جس معاشی ، سیاسی ومعاشرتی صورتحال کا سامنا ہے اس میں پاکستان کے چند سیاست دانوں کا ہاتھ ہے جو کرپشن کے ذریعہ ملک کے وسائل کو لولٹتے ہیں، جب ان کے کرپشن کے حوالے سے باز پرس کی جاتی ہے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ ''جمہوریت'' کو خطرہ ہے، حلانکہ پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ چند دولت مند خاندانوں تقریباً108خاندانوں کا الیکٹرول سسٹم پر قبضہ ہے جسکی بنا پر وہ انتخابات جیت کر اپنے'' انتخابی منشور'' کی روشنی میں عوام کی خدمت کرنے کی بجائے اپنی ''خدمت'' کرتے ہیں، اور ملک کے وسائل کو ذاتی تصرف میںلاکر نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں، جیسا کہ آجکل ہورہاہے، ذرا سوچئے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved