آئی ایس آئی کا جہاد
  6  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس وقت پوری دنیا میں سب سے بڑی خفیہ جنگ آئی ایس آئی لڑ رہی ہے۔لوگ اکثر پوچھتے ہیں ملک میں دھماکے ہوتے ہیں آئی ایس آئی دنیا کی نمبر ون ایجنسی سے کنٹرول کیوں نہیں ہوتے۔ان تما م لوگوں کے لئے جواب حاضر ہے کہ آئی ایس آئی بلاشبہ دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی ہے جو بیک وقت اپنے سے دس گنا بڑے ازلی دشمن ہندوستان کی ایجنسی ''را'' اسرائیل کی ایجنسی ''موساد'' امریکہ کی ایجنسی ''سی آئی اے '' افغانستان جو دنیا کے 49ممالک کے انتہائی شاطر ملکوں کی ایجنسیوں کی سرپرستی میں کام کرنے والی ایجنسی ''خاد'' اور پوری دنیا کے دوسرے دشمنوں سے تنہا لڑ رہی ہے۔یہ تما م ایجنسیاں دن رات مل کر کھربوں ڈالر سے پاکستان میں تباہ کاریاں اور دہشت گردی کرانے میں مصروف ہیں ۔ کیا نادان لوگوں کو علم ہے کہ ہر روز آئی ایس آئی کے شیر دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں یا ا پنی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں ۔ہر روز 30/40دھماکے روک کر ہزاروں لوگوں کی زندگیاں اور جانیں بچاتے ہیں ۔مگر بہت ساری خبریں میڈیا پر نہیں ہوتیں ۔کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے کچھ میڈیا مالکان کے اپنے اپنے ایجنڈے ہیں ۔جو غدار''را'' ، ''سی آئی اے''اور اسرائیل کی ایجنسی ''موساد'' سے پیسے لے کر دانشوری کا لبادہ اوڑھ کر میڈیا پر آ کر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کوگالیاں یا لعن طعن کرتے ہیں۔آج دنیا کی تمام ایجنسیاں مل کر پاکستان کو عراق ، لیبیاء اور شام بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔مگر کیا وجہ ہے کہ پاکستان عراق، شام اور لیبیا ء تو نہیں بن سکا کیونکہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے خون کا قطرہ قطرہ اس زمین میں جاتا ہے ۔ا س لئے پاکستان کا نظام چل رہا ہے۔بھارتی ایجنسی ''را''، سی آئی اے اور موساد کے لوگ خفیہ طریقے سے پاکستان میں پیسہ لگا رہے ہیں ۔ یہاں یہ بات کہنا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ سارا میڈیا ایسا نہیں ہے۔میڈیا نے1940ء سے لے کر تحریک ِ آزادی کوچلانے کے لئے بہت ہی نمایاں کردار ادا کیاہے۔آج بھی وہ ادارے جو پاکستان بنانے میں پیش پیش تھے آج پاکستان بچانے کے لئے 24گھنٹے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔لیکن جب سے بیرونی پیسے پر چلنے والے میڈیا ارکان پاکستان اور پاک فوج کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا تو میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سے پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بہت زیادتیاں ہو رہی ہیں ۔پھر ان کرائے کے صحافیوں میں کچھ بدکردار اور پاکستان کے غدار این جی اوز کا روپ دھار کر اندر گھس گئے ہیں ۔وہ بھی پاکستان اور پاک فوج کے خلاف زہریلا پروپیگینڈہ کرنے میں ایک دقیقہ بھی فراگزاشت نہیں کرتے۔ان این جی او میں تو کچھ ایسے بھی پاکستان دشمن زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جو بلاشبہ قابل سزا ہیں ۔پاک فوج اور آئی ایس آ ئی کے لوگ اتنے مشکل ترین حالات میں اتنے وسیع پیمانے پر قربانیاں دینے کے باوجود اپنے خلاف ہونے والے پروپیگینڈے کی کسی بات کا جواب میڈیا پر آ کر نہیں دیتی بلکہ سر جھکا کر اپنے اپنے کام میں مگن رہتے ہیں ۔آئی ایس آئی ، ایف سی بلوچستان اور پاک فوج نے صرف گزشتہ پانچ محرم کے دنوں میں پاکستانی عوام کو کتنے بڑے جانی نقصان سے بچایا۔کتنا بارود اور اسلحہ پکڑا۔بلوچستان پشین میں کس قدر بارود پہنچایا جا چکا تھا جو کوئٹہ میں استعمال ہونا تھا۔سینکڑوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔اسی طرح پورے ملک میں مختلف جگہوں پر دہشت گردوں کو بلاک اور گرفتار کیا۔

پاکستانی میڈیا کا اخلاقی فرض ہے کہ اپنے ان بہادر اداروں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ اپنے ملک کے عوام کی حفاظت کے لیے جانی قربانیاں دینے والے افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے جوانوں اور افسروں کے لواحقین ان کی شہادتوں پر فخر محسوس کریں ۔ہماری افواج اور آئی ایس آئی کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے۔خصوصی طور پر ہماری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہندوستان کی ایجنسی '' را'' کے کلبھوشن جیسے کرداروں ، امریکہ سی آئی اے اور اسرائیل موساد جیسی بدنام زمانہ ایجنسیوں اور اور دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔اور دوسری لڑائی آئی ایس آئی کے خلاف غدار اور کروڑوں اربوں روپوں کے مفادات حاصل کر کے میڈیا کے کچھ ادارے لڑ رہے ہیں۔آئی ایس آئی کسی بات کا جواب دئیے بغیر پاکستان دشمنوں کے خلاف شبانہ ٔ روز جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ان میں پاکستان کے بعض ٹاپ لیول کے نوابوں ، سرداروں اور جاگیرداروں سے لے کر نیچے عام چھوٹے بیوروکریٹ تک کے لوگ دشمن ایجنسیوں سے پیسے لے کر ملک کے ساتھ غداری کر رہے ہیں ۔بلوچستان میں کچھ ناکام سیاسی جماعتیں دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاربن کر آئی ایس آئی ، ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔لیکن میں صدقے اور قربان جاؤں اپنی افواج، ایف سی اور آئی ایس آئی کے ایک ایک جوان کے ایک ایک خون کے قطرے پر جو اپنی جانیں تو دے رہے ہیں لیکن بلوچستان میں انہوں نے95فیصد سے زیادہ امن قائم کر لیا ہے۔ آج پورے بلوچستان کی تمام شاہراؤں پر دن رات سفر ہو سکتا ہے۔سارے بلوچستانی آرام سے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں ۔ بلوچستان میں آئی ایس آئی کمانڈ خالد فرید نے کلبھوشن جیسے کردار گرفتار کر کے تاریخ میں نمایاں کردار ادا کر لیا ہے۔میں ذاتی طور پر ان کی صلا حیتوں کا بہت معترف ہوں ۔اسی طرح سوئی، ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کمانڈر برگیڈئیر امجد ستی اور سبی کے کمانڈ نٹ ایف سی کرنل ذوالفقار باجوہ کے کارناموں پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ان کا علاقہ مشکل ترین علاقہ تھا۔جس کو آج گل و گلزار بنا دیا گیا ہے۔اس دفعہ 23مارچ اور14اگست یومِ آزادی کے موقع پر جشنِ آزادی کے موقع پر جشن آزادی کے سب سے بڑے جلو س ڈیرہ بگٹی اور سبی کے علاقے میں نکالے گئے۔ان جلوسوں کی لمبائی کئی کلومیٹر تھی اور اور ان میں ہر مکتبہ ٔ فکر کے لوگ موجود تھے۔ میں ان جلوسوں میں موجود تھا اور اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved