اس محفل میں ہے کوئی ہم سا
  6  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بیعت ہوچکی۔ آقا نے ہاتھ بڑھائے رکھا۔ عقیدت منداس کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے رہے۔ اے دل و جان سے قبول کرلیا۔ سب گڑگڑا کر کہتے رہے۔ دنیا تجھے جو چاہے کہے۔ تو جیسا بھی ہے۔ ہمیں قبول ہے۔ ایوب خان کے مارشل لا سے پہلے بہت ہی مقبول کالم نویس مجید لاہوری کے حوالے سے یاد آرہا ہے۔ممکن ہے میری یادداشت کچھ غلط ہو۔ لیکن یہ دو مصرعے میرے ذہن پر سوار ہیں۔ اسّی(80) مل کے کہدیں اگر روشن دن کو رات باقی بیس20پہ بھی لازم ہے مانیں اس کو رات دیکھو جمہورا رویا یہ اکثریت کا فیصلہ ہے۔ اسے آپ اور ہم کون ہوتے ہیں نہ ماننے والے۔ فوجی آمروں سے ہم نے یہی سیکھا ہے۔ وہ جب اپنے ٹینکوں ۔توپوں اور پیادہ فوجوں کے بل پر اپنے ہی ملک پر قبضہ کرتے ہیں تو فرد واحد ہی آئین ہوتا ہے۔ وطن ہوتا ہے۔ حرف آخر ہوتا ہے۔ وہ اپنے اس حلقے کے بل پر آئین کو روندتا ہے۔ قوانین کو گھر کی لونڈی سمجھتا ہے۔ اب بھی فرد واحد آئین۔ عدلیہ سب کو پسپا کرکے پیش قدمی کررہا ہے۔ قومی اسمبلی اسکی مٹھی میں ہے۔ سینیٹ اس کے جوتے کی نوک پر۔ پارٹی میں تو کوئی اس جیسا ہے ہی نہیں۔ اس لیے طاہرہ سیّد کی زبان میں یہ کہنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ اس محفل میں ہے کوئی ہم سا ہم سا ہو تو سامنے آئے بلا مقابلہ اکثریتی پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ حالانکہ ماضی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے۔' بلا مقابلہ' والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ دُنیا میں کوئی بھی بلا مقابلہ نہیں ہے۔ انسان فانی ہیں۔ ایک وہ ذات ہے جس کا کوئی ہم سر ہے نہ ثانی۔ 1977کے انتخابات میں پی پی پی کے چیئرمین نے لاڑکانہ سے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی رسم آغاز کی ۔ اخبارات کے صفحہ اول پر بڑی تصویر چھپی۔ نیچے لکھا تھا: سب کا متفقہ۔ غیر متنازع قائد ۔ آقا جب بلا مقابلہ منتخب ہوسکتے ہیں پھر درباری پیچھے کیوں رہتے۔ پنجاب۔ سندھ ۔سرحد اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے بھی بلا مقابلہ منتخب ہونے کے لیے مخالفین کو کچل ڈالا۔ بلا مقابلہ کی یہ رسم 1977کے پورے الیکشن کو متنازع بنا گئی۔ یہ الیکشن ریکارڈ میں بھی جگہ نہ پاسکا۔ بیعت کے بعد مملکت کے سارے ادارے متنازع ہوچکے ہیں۔ مہذب قوموں میں مملکت کے چار ستون بتائے جاتے ہیں ۔ 1۔ انتظامیہ۔2۔مقننہ۔3۔ عدلیہ۔4۔میڈیا۔ انتظامیہ یعنی حکومت۔ فوج بھی اسی میں شامل ہوتی ہے۔ مقننہ۔ قومی اسمبلی۔ سینیٹ۔ صوبائی اسمبلیاں یعنی پارلیمنٹ حکومت کا حصّہ نہیں ہوتی۔ پارلیمنٹ سپریم ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں پارلیمنٹ انتظامیہ ایک ہی ہیں۔ فوج نے اپنے آپ کو الگ ستون تسلیم کروالیا ہے۔ یہاں ترتیب یوں ہے۔ سیاسی حکومت( پارلیمنٹ)۔ عدلیہ۔ میڈیا۔ اس وقت پارلیمنٹ۔ عدلیہ۔ فوج۔ میڈیا سب متنازع ہوچکے ہیں۔ قوم کو کسی پر بھی مکمل اعتماد نہیں ہے۔ کسی کے نزدیک پارلیمنٹ غلط کررہی ہے کسی کے خیال میں عدلیہ جانبداری کررہی ہے۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ ان سب کے پیچھے فوج ہے جو سویلین کی بالا دستی نہیں مانتی ہے۔ میڈیا کے بارے میں بھی سب کو پتہ ہے کہ کون گروپ کس کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ یوں میڈیا بھی اپنا اعتبار کھوچکا ہے۔ جس قوم کے ادارے متنازع ہوجائیں۔ انارکی۔ انتشار۔ نفسا نفسی۔ طوائف الملوکی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور تشویشناک امر یہی ہے کہ ہم اسی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیدھا راستہ تو یہ تھا کہ جب پانامہ اسکینڈل شروع ہوا ملک کے مفاد میں اور انصاف کی بالادستی کے لیے میاں نواز شریف مستعفی ہوجاتے۔ پارٹی میں کسی کو بھی اپنی جگہ قائد ایوان منتخب کرواتے۔ایک عام شہری کی طرح عدالتی کارروائی کا سامنا کرتے۔ اگر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرتے تو سر خرو ہوتے۔ پوری قوم ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہوتی۔ اس سے ان کا بھی اور ملک کا بھی نام روشن ہوتا۔ اب وہ خود بھی ان کا خاندان بھی اور اس کے ساتھ ساتھ ملک بھی رُسوا ہورہا ہے۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق وہ اب اپنی پارٹی ۔ پوری حکومت کو بھی ساتھ لے ڈوبناچاہتے ہیں۔ اس وقت ان ہی کی چُنی ہوئی سرکار کچھ نہیں کر پارہی ہے۔ کرنے کے کام بہت ہیں ۔ معیشت ڈوب رہی ہے۔ وزیر خزانہ عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ وہ بھی ان کے خاندان کا حصّہ ہیں۔ اکثریت کے بَل پر عدالتوں کو جس طرح بے دست و پا کیا جارہا ہے کیا مسلم لیگ(ن) کی حکومت کسی کرپٹ۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کرسکے گی۔ تمام وزیر فرد واحد کی خوشنودی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے محکمے ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اب کیا مسلم لیگ(ن) حکومت اور ان کی پارٹی کا کام صرف یہی ہوگا کہ وہ میاں نواز شریف کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوں۔ کیونکہ پیشیاں تو چلتی رہیں گی ۔

تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ 1985سے کسی نہ کسی صورت میں صف اوّل کی سیاست میں موجود 1۔ میاں نواز شریف کا نظریۂ حیات کیا ہے۔2۔ وہ کس معیشت کے قائل ہیں۔آزاد ۔ ملی جلی یا پابند۔3۔ وہ درآمدات کے حق میںہیں یا برآمدات کے۔4۔ پاکستان ایک زرعی بنیاد والا ملک ہے۔ زراعت کے بارے میں ان کے کیا نظریات ہیں۔5۔ پاکستان میں وہ کونسا نظام تعلیم چاہتے ہیں۔6۔20کروڑ پاکستانیوں کے علاج معالجے کے لیے ان کے کیا افکار ہیں۔7۔پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ان کی کیا حکمت عملی ہے۔ امریکہ سے اتحاد جاری رہنا چاہئے یا اسے خیر باد کہہ دیا جائے۔8۔افغانستان سے کس قسم کے تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔9۔ تاریخ عالم میں تاریخ اسلام میں ان کی پسندیدہ شخصیت جسے وہ اپنے لیے مثالی کردار خیال کرتے ہیں۔10۔ دہشت گردی۔ مذہبی شدت پسندی۔ بنیاد پرستی پر ان کا اپنا نظریہ کیا ہے۔11۔سویلین بالادستی کے لیے سویلین انتظامیہ میں کیا تبدیلیاں آنی چاہئیں۔12۔ سویلین بالادستی میں اپنے خاندان کو ترجیح دینی چاہئے یا 20کروڑ کو اپنا خاندان سمجھنا چاہئے۔13۔ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا یہی صوبائی ڈھانچہ بہتر ہے۔14۔ ریکوڈک جیسے دولت کے سرچشموں کو استعمال میں لانا چاہئے یا وہ اسی طرح بند پڑے رہیں۔ حق تو یہ تھا کہ ان تیس بتیس برسوں میں ان کے افکار عالیہ واضح ہوجاتے ۔ ان کی کچھ تصنیفات آنی چاہئے تھیں۔ اب جب وہ نظریاتی ہوگئے ہیں۔ انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں تو آئندہ پندرہ برس کے لیے ایک روڈ میپ تو سامنے لے آئیں۔ آپ کا کیا خیال ہے ۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved