یہ شخص جھوٹا ہے
  8  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کی سینٹ اور پارلیمنٹ نے الیکشن سے متعلق ترمیمی بل 2017منظور کرکے ایک ایسی روایت قائم کی ہے جسکے ذریعہ آئندہ برے اور بد دیانت لوگ بہ آسانی اقتدار میں آسکتے ہیں، نوازشریف اس بل کے توسط سے دوبارہ مسلم لیگ ن کے سربراہ بن گئے ہیں، بہ ظاہر یہ ان کی جیت ہے، لیکن جلد بہ دیر با شعور عوام کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوںنے اس بل کو منظور کراکر کتنی بھیانک غلطی کی ہے، دراصل اسطرح دونوں ایوانوں نے باہم ملکر دانستہ طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا بلاواسطہ مذاق اڑایاہے، نیز اس بل کی منظوری کے بعد نواز شریف کی ''بہادری'' اور'' بے بیباکی'' دیدنی ہے، ان کے لب ولہجہ میں اداروں کے خلاف تلخی، کینہ اور عداوت ابھر کر سامنے آرہی ہے، وہ اشارے کنائے سے عدلیہ اور فوج کو با قاعدہ رسواکرنے کی کوشش کررہے ہیں، اپنے نا خواندہ کارکنوں کے ذہنوں میں اداروں کے خلاف نفرت پیدا کررہے ہیں، وہ اپنی تقریر میں مولوی تمیزالدین کیس ، مشرقی پاکستان کے سانحہ اور ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کا تذکرہ بھی کررہے ہیں، حالانکہ اس شخص نے بھٹو موحوم کی پھانسی پر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں، خوشی اور مسرت اور شادمانی کا اظہار کیا تھا جبکہ ضیاالحق مرحوم سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ آپ نے بھٹو کو پھانسی دے کر صحیح قدم اٹھایا ہے، اس ہی طرح اس نے بے نظیر کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کیا تھا اور مرحومہ کو بے پناہ اذیتیں دی تھیں، اس شخص نے انہیں وزیراعظم تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، نواز شریف کا سارا سیاسی کیرئیر پاکستان کے بعض جنرلوں کا مرہون منت ہے جس میں جنرل ضیاالحق ، حمید گل اورجنرل جیلانی پیش پیش تھے، اب نواز شریف اپنی جذباتی اور ہوش سے عاری تقریروں میں فوجی ڈکیٹروں کی مذمت کررہا ہے، حالانکہ یہ خود ان کی پیداوار ہے اس نے بڑے پروجیکٹوں میں کک بیک کے ذریعہ ناجائز دولت کمائی ہے جس کا ثبوت جے آئی ٹی اور بعد میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا ہے، اقامے کے پس منظر میں اسکو ملنے والی سزا انتہائی نرم تھی بلکہ سپریم کورٹ نے اس پر رحم کیا تھا، ورنہ پاناما لیکس میں انکے بچوں اور پورے خاندان کے خلاف کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، ابھی تو حدبیہ ، پیپرمل میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا کیس بھی کھلنے والا ہے، نواز شریف اور ان کی اولاد اپنی ناجائز دولت اور لند ن فلیٹس کے بارے میں تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے تھے، اب نواز شریف قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں، کہ مجھے اقامہ کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل کیا گیاہے، حالانکہ جرائم بہت زیادہ ہیں یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے جس کو نواز شریف نہیں مانتے ہیں، بلکہ ماضی میں انہوںنے جسٹس سجاد علی شاہ مرحوم پر اپنے کارکنوں اور غنڈوںکے ذریعہ حملہ کرایا تھا، جسکی پاکستان کے با شعور عوام نے شدید لعنطعن کی تھی اور آج بھی کررہے ہیں،

اسوقت نواز شریف ماضی کی تاریخ کے حوالے سے جو باتیں کررہے ہیں انہیں اسکا انہیں نہ تو ادراک ہے اور نہ ہی شعور ہے، اسوقت جو بھی فیصلے کئے گئے تھے وہ اسوقت کے حالات کے عین مطابق تھے ، آج صورتحال مختلف ہے، آج ہر سطح پر کرپشن ہورہی ہے، اور ہر صوبے میں خصوصیت کے ساتھ سندھ میں بے لگام کرپشن ہورہی ہے، جب ان کے مبینہ کرپشن کے بارے میں باز پرس کی جاتی ہے تو یہ لوگ اسکو ''جمہوریت'' کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں، حالانکہ جمہوریت سے نوازشریف کا دور دور کا واسطہ نہیں ہے، اسکا انداز سیاست جمہوری روایات اور اقدار اور تہذیب کے خلاف ہے، یہ ناجائز دولت کے سہارے اور بیورو کریسی کے کرپٹ عناصر کی مدد جبکہ سے الیکشن میں دھاندلی کراکر اقتدار میں آتاہے ، پھر اسکی موج ہی موج ہے، گذشتہ روزبروز منگل کو نوازشریف نے جسطرح بے ہنگم تقریر کی ہے، اور سانحہ مشرقی پاکستان کو موجودہ صورتحال سے ملانے کی کوشش کی ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر اسکے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا تو وہ پاکستان میں خدانخواستہ خانہ جنگی کراسکتاہے(میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں)، نواز شریف اپنی ناجائز دولت، اثاثے اور اقتدار کو بچانے کے لئے پاکستان کی سالمیت کو دائو پر لگا رہا ہے، اسکو یہ غلط فہمی ہے کہ اگر آئندہ اسکے خلاف مزید قانونی کاروائی کی گئی تو اسکے اکسانے پر عوام اداروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے، کونسے عوام؟ یہ جاہل اور ان پڑھ جن کو پیسوں اور نوکریاں دلاکر خریدا گیاہے، دراصل نواز شریف کو پاکستان کے اندر اور باہر جو طاقتیں استعمال کررہی ہیں وہ پہلے ہی پاکستان کی دشمن ہیں اور پاکستان کو بھارت کے تسلط میں لانے کے لئے سرتوڑ کوشش کررہی ہیں، کاش نوازشریف اپنی جذباتی تقریر میں سوئزر لینڈ میں حسین حقانی اور سی آئی اے کے تعاون اور مدد سے ہونے والے سمینار میں اسکی مذمت کرتے جس میں گمراہ کن اور بے بنیاد انداز میں بلوچستان میں ''ریفرنڈم'' کرانے کا مطالبہ کیا جارہاہے، جتنے افراد اس سمینار میں موجود تھے،وہ سب''را'' اور سی آئی اے کے پے رول پر ہیںجسکا سرغنہ غدار پاکستان حسین حقانی ہے، ایک زمانے میں حسین حقانی نواز شریف کا پرنسپل سیکریٹری اور سری لنکا اور امریکہ میںپاکستان کا سفیر بھی رہاہے، زرداری نے اسکو امریکہ میں سفیر مقرر کیا تھا، اسکی پاکستان دشمنی سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے، بھارت بھی اس شخص کی مالی امداد کرتا رہتاہے، چنانچہ نوازشریف مسلسل جھوٹ بول کر مفلس ، جاہل اور معاشی طورپر پسے ہوئے عوام کو دھوکہ دے رہاہے، کہ میرا قصور کیاہے؟ مجھے کیوں نکالاگیاہے جب اس شخص پر فرد جرم عائد کی جائے گی تو اسکو معلوم ہوگا کہ اس کے کیا کرتوت تھے، قصور کیا تھا؟ بھارت کے ساتھ اسکے کیا تجار تی اور سیاسی مفادات ہیں، اس ضمن میں شہباز شریف نے اپنے بھائی کو صحیح مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے نادان دوستوں سے دور رہیںجو اندورن خانہ غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر نوازشریف کو اسٹیبلشمنٹ سے لڑانا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری پیدا ہوسکے، اور قومی معیشت تباہ ہوجائے، جس میں سی پیک کا منصوبہ بھی شامل ہے اس میں میڈیا کے بعض ارکان بھی شامل ہیں جن کو نوازشریف نے خرید رکھا ہے، یہ سب ملکرپاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں ، ذراغور کیجئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved