عباسی صاحب ! کرنے کے کام یہ ہیں
  9  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

’’کیا ہوگیا ‘‘۔’’یہ نہیں ہونا چاہئے تھا‘‘۔ ’’یہ سازش ہے‘‘۔ ’’سویلین کی بالادستی ختم کی گئی‘‘۔ ’’اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہیں‘‘۔ یہ سب کہنا سننا بے کار ہے۔ ماضی کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ ہر لمحہ جو آپ کی میری مٹھی سے پھسل رہا ہے وہ اب ہمارا نہیں رہا۔ ہمیں تو آنے والے ہر لمحے کو اپنی گرفت میں لینا چاہئے۔ ہر آتا لمحہ۔ ہر آتا موسم اپنے دامن میں بے شُمار امکانات لے کر آتا ہے۔ یہ لمحے یہ امکانات ہمارے اسی صورت میں بن سکتے ہیں جب ہم انہیں اپنا بنانے کے لیے پہلے سے کوئی تیاری کررہے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک وزیر اعظم سپریم کورٹ سے نا اہلی کا پروانہ لے کر مسند وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جاچکا ۔ یہ ثابت ہوگیا کہ عدالت عظمیٰ۔ وزارت عظمیٰ سے برتر ہے۔ اب پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرکے نا اہل کو پارٹی کا سربراہ بنائے یا اسے تا حیات اپنا قائد آقا منتخب کرلے۔ اس کے ہاتھ پر بیعت کرے۔ سچائی یہ ہے کہ وہ اب وزیر اعظم نہیں ہے۔ اس کے دستخط سے اب کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ شاہد خاقان عباسی۔ اس وقت آئین اور قانون کی رو سے منتخب قائد ایوان ہیں۔ منتخب وزیر اعظم ہیں ملک کے انتظامی سربراہ ہیں۔ سب وزراء ان کے ماتحت ہیں۔ آئینی طور پر وزرا۔ سیکرٹریز اور دوسرے محکموں کو ان کا حکم ہی ماننا ہے۔صدر مملکت کو بھی شاہد خاقان عباسی وزیرا عظم کی حیثیت سے ایڈوائس دیں۔ صدر مملکت اس پر دستخط کریں گے۔ آرمی چیف بھی شاہد خاقان عباسی کا ہی حکم ماننے کے پابند ہیں۔ یہ شاہد خاقان عباسی کی خوش قسمتی بھی ہے اور آزمائش بھی کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے ایسے موڑ پر وزیر اعظم بنے ہیں جب کرنے کے بہت سے کام ہیں۔فوری بھی اور طویل المیعاد بھی۔ ایک عبوری انتظام کے تحت بننے والے وزیر اعظم اب کچھ مستقل بنیادوں پر ایسے کام کرسکتے ہیں جن کی بدولت تاریخ کے اوراق میں ان کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جاسکتا ہے۔ یہ ان کی آئینی ذمہ داری بھی ہے۔ قومی فریضہ بھی۔ آج سے ایک سال پہلے تک انہوں نے خواب میں بھی نہیں دیکھا ہوگا کہ وہ ملک کی سب سے بڑی انتظامی کرسی پر بیٹھے ہوں گے۔ آپ ہر چند کہ میاں نواز شریف کی مجبوری کی پسند ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر یقیناًآپ سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ آپ اس وقت جس مملکت کے چیف ایگزیکٹو(انتظامی سربراہ) ہیں۔ وہ اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کررہی ہے۔ 20کروڑ میں سے دو تین لاکھ کے علاوہ کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ سندھ۔ اور بلوچستان کے مسائل اسی طرح سنگین ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کی نئی نسلیں بے یقینی کا شکار ہیں۔ بد عنوان۔ خود غرض حکمرانوں۔ رہنماؤں۔ جاگیرداروں۔ سرداروں۔ عیار ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں یر غمال ان دونوں صوبوں میں نظر آتے ہیں۔ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اللہ نے تاریخ نے آپ کو موقع دیا ہے کہ ان کے دل جیتیں۔ کے پی کے۔ پنجاب میں بھی یہی حال ہے۔ اپنے قائد سے یقیناًکارکنوں کو عشق ہوتا ہے۔ لیکن یہ یکطرفہ ہو تو بہت مایوس کن ہوجاتا ہے ۔ آزاد جموں کشمیر۔ فاٹا۔ گلگت بلتستان سب کی نگاہیں آپ پر ہیں۔ پاکستان کی فوج یقیناًمضبوط ہے۔ تربیت یافتہ ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہے۔ لیکن قوم مضبوط نہ ہو۔ معیشت مضبوط نہ ہو۔ نوجوان مایوس ہوں تو مضبوط فوج بھی کچھ نہیں کرپاتی۔ سویلین کی بالادستی کی بات بالکل بجا برحق لیکن سویلین اپنے آپ کو بالادستی کا اہل تو ثابت کریں قومی خزانہ لوٹنے ۔ اپنی جائیدادیں بڑھانے۔ دوسروں کی زمینیں ہڑپ کرنے۔ دوبئی ۔ جدّہ۔ لندن۔ نیو یارک ۔ واشنگٹن۔ پانامہ میں اپنے بنگلے اور کمپنیاں بنانے سے سویلین کی بالادستی ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ پاکستان کو دوبئی۔ جدّہ۔ لندن۔ نیویارک۔ واشنگٹن۔ ٹورنٹو۔ بارسلونا جیسی قانون کی حکمرانی دینے سے سویلین اپنے آپ کو بالادست ثابت کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اسی لیے وہ احتیاط سے چل رہے ہیں۔ پچاس۔ ساٹھ یا ستر کا عشرہ ہوتا تو فوج اب تک ملک کا کنٹرول سنبھال چکی ہوتی۔ سویلین اب جیسے حالات پیدا کررہے ہیں ایسے ہی حالات ان دنوں پیدا ہوتے تھے۔ تو ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کی آواز آجاتی تھی۔ اب کیوں نہیں آرہی۔ فوج حالات کی نزاکت کو بھی سمجھ رہی ہے اور سنگینی کو بھی۔ بین الاقوامی حالات کا بھی اسے بھرپور خیال ہے۔ یہ نہیں ہے کہ سیاست دانوں نے عوام کے لاکھوں کے جلوس نکال کر فوج کو خوف زدہ کردیا ہے بلکہ فوج با شعور ہوچکی ہے۔آئین اور نظام کو بچانے کی فکر میں ہے۔ فوج آپ کو گارڈ آف آنر دے چکی ہے۔ آرمی چیف آپ کو سیلیوٹ کرچکے ہیں۔ اب آپ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے آپ کو قومی سیاسی پارٹی ثابت کرے۔ ملک کے مسائل کا جائزہ لے۔ فوری ترجیحات کا تعین کریں۔ طویل المیعاد ترجیحات بھی مرتب کی جائیں۔ طویل منصوبے کسی نے بھی شروع کیے ہوں وہ جاری رہنے چاہئیں۔ ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ہمارے سرمایہ دار۔ سرمایہ کار۔ صنعت کار۔ ماہرین معیشت۔ ماہرین تعلیم ۔ سماجیات کے اساتذہ۔ ملک کے بارے میں بہت تشویش رکھتے ہیں۔ بہت کچھ سوچتے ہیں۔ ان کے پاس عملی تجاویز بھی ہیں۔ وہ پانی کی قلّت کے بارے میں خبردار کررہے ہیں۔ پاکستان نے اپنے حصّے کے ڈیم نہیں بنائے۔ پانی کا ذخیرہ نہیں ہوتا۔ پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ بھارت نے نہ صرف اپنے حصّے کے ڈیم بنائے بلکہ زیادہ بنالیے۔ ہمارے سویلین یہ کام کرسکے نہ فوجی آمروں نے کیا۔ صرف ایوب خان کے دَور میں منگلا۔ تربیلا وغیرہ بنے۔ توانائی کا مسئلہ ہے۔ گیس 70فی صد سندھ سے نکل رہی ہے۔ دیگر مقامات سے گیس بھی نکل سکتی ہے۔ تیل بھی۔ تیل ہمارا سب سے زیادہ زر مبادلہ کھا جاتا ہے۔ اپنا تیل ڈھونڈیں۔ اپنا کوئلہ نکالیں۔ سرمایہ باہر کیوں جارہا ہے۔ اسکو روکیں۔ زراعت کی طرف توجہ دیں۔ اس وقت ہمارے کھربوں ڈالراسٹاک ایکسچینج۔ پراپرٹی۔ اور شاپنگ مالز میں لگے ہوئے ہیں یہ کسی ملک کی معیشت کو مستحکم نہیں بناتے بلکہ یہ تو ایک قسم کا جوا ہے۔ سٹے بازی ہے حقیقی معیشت یا بزنس نہیں ہے۔پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ اسکی زراعت پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ اسے اکیسویں صدی کی زراعت بنائیں۔ ریکوڈک ویران ہورہا ہے۔ حالانکہ وہ سونے کی کان ہے۔ سونے کی ایسی کانیں ملک کے ہر حصّے میں موجود ہیں۔ انتظامی طور پر مزید صوبے بننے چاہئیں۔ یہ کام کردیں ۔ آپ کے پاس اکثریت ہے۔ تاریخ میں امر ہوجائیں گے۔ ماہرین معیشت ۔ وائس چانسلرز۔ صنعت کار۔ ٹیکنو کریٹ۔ سب سویلین ہیں۔ ان کی اجتماعی قیادت ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ہر شعبے کی ٹاسک فورسز بنائیں۔ وقت بہت کم ہے۔ آپ کا وژن پاکستان کی شان و شوکت بحال کرنا ہونا چاہئے۔ نواز شریف کی قیادت بحال کرنا نہیں۔ پارلیمنٹ میں آپ کو جواب دینا ہے۔ عوام کو جواب دہ آپ ہیں۔ اللہ کے حضور بھی اس عرصے کی پرسش آپ سے ہوگی۔ شیر بنیں۔ اصلی والے۔ عباسی خلفا کے کارنامے پڑھیں۔ ہارون رشید کا خاص طور پر مطالعہ کریں۔ وہ ابتدائی صدیوں میں بیمارستان۔ کاغذ بازار۔ کتب خانے قائم کرسکتے تھے۔ آپ تو اکیسویں صدی میں ہیں۔ اور ایک ایسے ملک میں جس کی جغرافیائی حیثیت بہت اہم اور حسّاس۔ جس کی آبادی 60فی صد نوجوان۔ جس کے پاس قدرتی وسائل بے شُمار۔ موسم اچھا پانی وافر مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے آپ کا کیا خیال ہے۔ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved