امریکہ سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگیا
  10  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکہ کے موجودہ انتظامیہ نے ( بروز جمعہ) کھل کر سی پیک( پاکستان چین اقتصادی راہداری) کے خلاف اپنا موقف ظاہر کردیا ہے، اور کہا ہے کہ سی پیک کا روٹ متنازعہ علاقے سے گذر رہاہے، ہمیں جو ہمیں قبول نہیں ہے، ان کا اشارہ کشمیر کی طرف تھا جو بھارت اور پاکستان کے درمیان 1947سے ایک متنازعہ مسئلہ ہے ، اور جس پر بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں، امریکہ کے سی پیک کے خلاف سب سے زیادہ محترک اور فعال شخص وزیردفاع جیمس میٹس ہے جس نے پاکستان کے وزیرخارجہ سے گذشتہ دنوں ملاقات کی تھی اور اسکے بعد یہ بیان داغا ہے، اس بیان سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی گھنائونی کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ افغانستان میں سولہ سال جنگ ہارنے کے بعد اسکا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتاہے، حلانکہ افغانستان کا مسئلہ افغانستان کی حکومت ، امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہے، افغان طالبان گذشتہ تین دہایوں سے غیر ملکی فوجوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، خصوصیت کے ساتھ ان کی امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف جدوجہد اور جنگ اسوقت اپنے عروج پرہے، تقریباً 50فیصد علاقہ افغان طالبان کے کنٹرول میں ہے ، دوسری طرف افغان حکومت کابل تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، چنانچہ امریکی انتظامیہ کا سی پیک کے خلاف بیانیہ چین اور پاکستان دونوں کے لئے ایک کھلی دھمکی ہے، نیز اس طرح امریکہ آزاد اور خودمختار ممالک کے اندرونی معالات میں مداخلت کرکے جنوبی اشیا میں امن کے تمام امکانات کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے، حلانکہ پاکستان یا پھر چین کسی بھی طرح امریکہ کے خلاف کسی قسم کا محاذ نہیںبنارہے ہیں، نیز سی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس پر چین58بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کررہاہے، جسکی مدد سے پاکستان اور چین کے نیم ترقی یافتہ علاقوں کی تعمیر نو میںبہت مدد ملے گی، پاکستان کا صوبہ بلوچستان جو ماضی کی ناقص پالیسوں کے سبب پیچھے رہ گیا تھا، اب سی پیک کے ذریعہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، اس ہی طرح چین کا مغربی صوبہ سنگ کیانگ بھی ترقی سے ہمکنار ہوسکے گا۔ دراصل امریکہ چین کی جنوبی ایشیا اور افریقہ نیز جنوبی امریکہ میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوف زدہ ہوگیاہے، اسکو شاید یہ احساس ہوگیاہے(جو کہ غلط ہے) کہ چین کا سی پیک کا منصوبہ اور اسکے ساتھ ملاہوا ون بلیٹ ون روڈ کا منصوبہ اگر کامیاب وکامران ہوجاتا ہے تو امریکہ کی دنیا میں چودہراٹ ختم ہوجائے گی، دنیا اپنی معاشی ترقی کے حوالے سے امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے چین کی طرف دیکھے گی، ویسے بھی چین نے 20سالوں کے دوران جو ترقی کی ہے وہ مثالی ہے، اسوقت چین دنیا کی دوسری بڑی اکانومی ہے جو 2025میں دنیا کی پہلی بڑی اکانومی بن جائے گی اس صورت میں امریکہ کہاں کھڑا ہوگا؟ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں بھارت اور افغانستان کی مدد سے پاکستان کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کرنے پر تلا ہواہے، امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں ''نیا کردار'' دے کر پاکستان کے خلاف کھل کر اپنے سیاسی موقف کا اظہار کیا ہے، اسطرح یہ ظاہر ہورہاہے کہ امریکہ کسی بھی طرح پاکستان اور افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتاہے، پاکستان کو امریکہ کی یہ پالیسی کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے، پاکستان امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے خلاف مزاحمت کرنے کا حق رکھتا ہے، بلکہ اپنی سا لمیت اور خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کر گذرے گا، حالانکہ پاکستان نے کئی بار امریکہ سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کرنا چاہتاہے، کیونکہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے، تاہم امریکہ کا سی پیک کے خلاف بیان اور یہ کہنا کہ یہ منصوبہ کشمیر کے متنازعہ علاقے سے گذر رہاہے ، اس بات کا عند یہ دے رہاہے، کہ امریکہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں رکھتاہے، بلکہ وہ اس اہم مسئلہ پر بھارت کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، امریکہ نے ابھی تک مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کے خلاف کسی قسم کا مذمتی بیان نہیں دیاہے، اور نہ ہی بھارت سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کشمیری مسلمانوں پر ظلم وتشدد بند کرے، امریکہ کا یہ نیا بیانیہ جو دراصل اسکی جنوبی ایشیا میں نئی پالیسی کو ظاہر کررہی ہے، جو بعد میں جنوبی ایشیا میں نہ صرف مزید کشیدگی کو بڑھائے گی بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان آئندہ کسی بھی قسم کے تعلقات میں بہتری لانے میں معاون ومددگار ثابت نہیںہوسکے گی، یہ صورتحال پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے، اس لئے پاکستان کو اب امریکہ سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے، بلکہ روس،ایران، ترکی اور اس خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہے۔

اس ضمن میں یہ ایک اچھی خبر ہے کہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جلد ایران کا دورا کرنے والے ہیں تاکہ ایرانی حکومت سے ملاقات رکے اگر کچھ غلط فہمیاں ہیں تو ان کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے، ایران ماضی میں بھی اور اب بھی پاکستان کا دوست ہے، وہ بھارت کی طرح پاکستان کے لئے کسی قسم کے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتاہے، اور نہ ہی بھارت اور افغانستان کی طرح پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرارہاہے، اس پس منظر میں روس کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ، ورس کی خارجہ پالیسی کا واضح جھکائو اسوقت پاکستان کی جانب ہے، نیز روس اور پاکستان کی فوجی دستوں نے ابھی حال ہی میں مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں جو ان دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی غمازی کررہے ہیں، پاکستان اسوقت حالت جنگ میںہے، اور اسکو دوستوں کی بہت ضرورت ہے، خصوصیت کے ساتھ بھارت کے پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے جارحانہ عزائم اور امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی !پاکستان کو بہت زیادہ چوکس او ر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved