نوازشریف اور عدالتوںکی لازوال دوستی
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

زندگی میں بعض فیصلے بڑے غور و فکر اور سوچ سمجھ کر کئے جاتے ہیں ۔لیکن مشکلات ہمیشہ اچانک وارد ہوتی ہیں جو سوچنے کا موقع بھی نہیں دیتیں۔اس لئے محاورتاً کہا جاتا ہے کہ برا وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔حادثات اور قدرتی آفات اچانک نازل ہوتی ہیں جن میں آگ ، سیلاب اور زلزلے شامل ہیں جو قیمتی جانیںبھی لے لیتے ہیں ۔ دشمنی کاسبب بھی جلد بازی کے فیصلے بنتے ہیں۔لیکن دوستی کرنے اور نبھانے میں سالہا سال کا عرصہ لگ جاتا ہے اور پھر دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی رہتی ہے۔اور اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور خاص طور پر غمی خوشی کے موقع پر اس کا کھل کر اظہار بھی کیا جاتا ہے۔جب دو لوگوں یا خاندانوں میں نئی نئی دوستی کا آغاز ہوتا ہے تو کسی ایک کے گھر کوئی شادی یا خوشی کا موقع ہو تو دوسرے دوست کا نام لکھ کر کارڈ بھیج دیا جاتا ہے۔اور وہ فردِ واحد ہی اس خوشی میں شریک ہوتا ہے۔پھر کچھ عرصہ گزرنے کے ساتھ ایک دوسرے کے مزید قریب ہونے کے بعد تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لئے اگلے خوشی کے موقع پر دونوں میاں بیوی کومسٹر اینڈ مسز کے نام کا کارڈ بھیجا جاتا ہے۔وہ کارڈ یہ پیغام دیتا ہے کہ دو دوستوں کے درمیان خاندانی مراسم استوار ہو چکے ہیں ۔اسی طرح پھر عرصہ گزرتا رہتا ہے دونوں خاندان ان بڑی خوشی کے لمحات کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مواقع پر بھی ایک دوسرے کے قریب ہوتے جاتے ہیں ۔ایک وقت آتا ہے کہ وہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے بغیر معاشرے میں ادھورے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر کوئی شادی یا خوشی کا موقع آئے تو پھر جو دعوتی کارڈ جاتا ہے اس پر مسٹر اینڈ مسز کے ساتھ بمعہ ٔ اہل و عیال بھی لکھا ہوتا ہے۔لیکن اس میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ فردِ واحد سے شروع ہونے والی دوستی سے اہل و عیال تک پہنچنے کے لئے کئی سال لگ جاتے ہیں ۔اور اس کے پیچھے کئی سال کی غورو فکر اور تلخ و شیریں تجربات شامل ہوتے ہیں۔عدالتوں کی طرف سے مختلف وزرائے اعظم سمیت اعلیٰ شخصیات کے خلاف کرپشن سمیت مختلف مقدمات درج ہوتے رہے ہیں ۔ان میں کچھ باعزت بری ہوجاتے اور کچھ کو معمولی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔میاں نواز شریف اور عدالتوں کے درمیان بھی جب پہلے پہلے دوستی کا آغاز ہوا تو صرف میاں نواز شریف اکیلے کے نام کے وارنٹ نکلتے تھے۔اور میاں صاحب نے اس دوستی کا احسان اتارنے کے لئے عدالتوں کی بحالی کے لئے سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کا جلوس بھی لے کر آئے تھے۔ابھی وہ جلوس گوجرنوالہ پہنچا تو عدالتیں بحال ہوگئی تھیں ۔

اس دوران عدالتوں اور میاں نواز شریف کی دوستی کے درمیان کئی دفعہ نشیب و فراز آتے رہے۔اس دفعہ جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی منتخب وزیراعظم کو بال بچوں سمیت یعنی بمعۂ اہل و عیال کا عدالتی دعوت نامہ موصول ہوا۔ان کو مختلف اعلیٰ عدالتوں اور احتساب عدالتوں میں بیک وقت طلب کیا گیا تو دور اندیش لوگوں نے تجزیہ کیا کہ اب عدالتوں اور میاں نواز شریف کے درمیان لازوال دوستی قائم ہو چکی ہے۔کسی عدالت نے ڈائریکٹ میاں نواز شریف کو طلب کر رکھا ہے ۔ کسی میں ان کے ایک بیٹے نے پیش ہونا ہے۔ کسی عدالت میں دوسرے بیٹے نے پیش ہونا ہے ۔ کسی عدالت نے ان کی بیٹی مریم نواز کو طلب کر رکھا ہے اور کسی عدالت میں ان کے داماد کیپٹن صفدر نے پیش ہونا ہے۔اس لئے خاندانی روابط بڑھنے کے بعد میاں نواز شریف خاندان اس وقت اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔کالم کے آغاز میں میں نے تمہیداً چند جملے لکھے تھے کہ برا وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔نواز شریف پر بھی یہ برا وقت اچانک نازل ہوا جس نے ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی چھین لی۔لیکن اس کے ساتھ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کڑے وقت میں بھی ان کے چند نادان دوست مسلسل غلطیاں کئے جا رہے ہیں اور وہ ایسی غلطیاں ہیں جو بھڑوں کے چھتوں پر پتھر مارنے کے مترادف ہیں ۔میاں نواز شریف کو چاہیئے کہ وہ یا ان کے نادان دوست میڈیا کی جنگ لڑنے کی بجائے قانونی اور عدالتی جنگ لڑ کر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں ۔ورنہ عدالتوں یا اداروں کے ساتھ یہ خاندانی مراسم کسی اچھی خبر کا عندیہ نہیں دیتے۔اللہ کی عدالت میں تو بہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ۔موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ''ن'' کا بہترین انتخاب ہیں ۔بڑے رکھ رکھاؤ کے وضح دار انسان ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات ایسے ہی دانشمند انہ فیصلوں کے متقاضی ہیں ۔''ن'' لیگ کو اپنی حکمت ِ عملی میں لچک پیدا کر کے ملکی حالات کو سنوارنا ہوگا۔عزت اللہ دینے والا ہے۔پچھلے ادوار میں شروع ہونے والے تمام میگا منصوبوں کچھی کینال، نو شہرو فیروز بجلی گیس کے افتتاح وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کر رہے ہیں اور رہتی دنیا تک ان کے نام کی تختیاں لگی رہیں گی۔نوشہروفیروز منصوبے کا کل افتتاح ہوا اور وہاں وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے ۔ ان کی تقریر کا یہ جملہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ ہم اداروں کے ساتھ ٹکراؤ تو نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی گمراہ اپوزیشن کو کوئی غلط راستہ اختیار کر کے اندر گھسنے دیں گے۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے۔بلکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں ۔پولنگ ا سٹیشن پر جانے کا بہت کم وقت رہ گیا ہے۔''ن'' لیگ کا سندھ اور بلوچستان میں کامیابی کے لئے پولنگ اسٹیشن پر جانے کے لئے بالکل ہوم ورک نہیں ہے۔ان دونوں صوبوں میں سخت محنت کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ''ن'' لیگ کا سیاسی ہوم ورک نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں بھی محنت کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طور پرحلقہ 48میں سخت توجہ کی ضرورت ہے۔موجودہ حکومت کے دہشت گردی کے خلاف لازوال کارنامے ہیں ۔اور پھر سونے پر سہاگہ کہ موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ بھی جس انداز میں امریکہ ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر رہے ہیںاس سے پاک فوج اور قوم کا مورال بلند ہو رہا ہے اور آنے والے دور میں پاکستان پر ڈومور سمیت کسی قسم کا دباؤ بڑھانے کے لئے دنیا کو ہزار دفعہ سوچنا پڑے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved