باہر کیاہورہا ہے اور ہم …!
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ہر روز مختلف عدالتوں میں مختلف کیسوں کے بارے میں لکھتے رہنے سے تنگ آگیا ہوں۔ کسی کو کوئی فکر نہیں کہ گھر کے باہر کیا ہورہاہے! کیا منصوبے بن رہے ہیں؟ ستم یہ کہ بعض عناصر نے ملک کے اندر حساس ترین اداروں ، عدلیہ اورفوج، کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اس کام میں خود حکومت اور اپوزیشن کے اہم کردار یکساں انداز میں سرگرم عمل ہیں۔ آصف زردار ی نے کچھ عرصہ قبل فوج کے جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کااعلان کیا تھا، اب وہی بات پھر دوسرے رنگ میںکہہ دیئے۔ پشاور میں ایک انٹرویو میں کہاہے کہ ''…فوج نے اسامہ بن لادن کے واقعہ کے بارے میں ہمیں ( بطور صدر) اعتماد میں نہیں لیا''۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے کہا کہ ''جرنیلوںکو خطرہ تھا کہ بے نظیر بھٹو برسراقتدار آکر اپنے والد بھٹو کی پھانسی کا بدلہ نہ لے لے۔ اس لئے …'' قارئین باقی جملہ خود پورا کرلیں۔ حکومت نے ڈان لیکس کیس میں فوج کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج کاموڈخراب ہواتو ایک وزیر پرویز رشید، کوقربانی کا بکرا بنا دیا۔ پھر پانامہ کیس میں فوج کے پس پشت ہونے کی داستان سرائی کی۔ اس پر فوج کے ترجمان کو کہنا پڑا کہ پانامہ کیس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ جے آئی ٹی ( مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو نمائندے سپریم کورٹ کے حکم پر بھیجے گئے تھے۔ مریم نواز عدلیہ اور فوج پرحملوں کے بارے میںکسی قسم کی قانونی و اصولی حدود کی کوئی پروانہیں کر رہیں۔محترمہ نے عدلیہ پر تو کھلے عام دشنام طرازی کی حد تک حملے کئے۔ اب بھی کررہی ہیںکہ عمران خان کو امپائر( فوج) کی انگلی کی کٹھ پتلی قراردیا ہے۔ واضح مطلب ہے کہ فوج شریف خاندان کے خلاف عمران خاں کو استعمال کررہی ہے۔ ویسے عمران خاںنے بھی فوج کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ دھرنے میں کھلے عام اعلان کیا کہ ''ہفتے کی رات کوامپائر کی انگلی اٹھ جائے گی۔ یوں صاف کہہ دیا کہ فوج حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی مدد کررہی ہے۔ راولپنڈی کی لال حویلی نے تو پورا منہ کھول کر کہہ دیا ہے کہ ''اسٹیبلشمنٹ ( فوج) نوازشریف کے ساتھ ملی ہوئی ہے!''۔ ٭ملک کے اندر اس کے محافظ اداروں کے بارے میں کیا کچھ ہورہاہے! اب ذرا باہر چلیں ۔ بھارت کی ایئر فورس کے چیف آف آرمی سٹاف ایئر مارشل بی ایس دھنوا نے زور دار الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ بھارت کی ایئر فورس پاکستان کے ساتھ فوری جنگ کے لیے تیار ہے۔ دو روز قبل بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن نے پاکستان پر سرجیکل حملوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ ٹلرسن نے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔ اب بھی دے رہے ہیں۔ عالمی بینک نے نوازشریف کی حکومت ختم کئے جانے کو پاکستان کی معیشت کے لیے خطرناک قراردیا ہے اور اسے سخت بدحالی کاانتباہ جاری کردیا ہے۔ پاکستان کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے بھاری قرضوں سے بری طرح جکڑ لیا ہے۔ قرضوں کی عدم ادائیگی پر یہ ادارے کوئی بھی خطرناک اقدام کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب اور عرب امارات کے رویے بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔ امریکہ کھلے انداز میں پاک چین راہداری کی مخالفت پر اترا آیا ہے۔ برطانیہ کی پولیس نے الطاف حسین کے خلاف کسی کارروائی سے صاف انکا رکردیا ہے اور بلوچستان کے باغی عناصر نے بھارت کے تعاون سے یورپ اور امریکہ میں پاکستان کے خلاف وسیع پیمانہ پر مذاکروں اورپوسٹروں کا جو سلسلہ شروع کردیا ہے ان کے بارے میں اہل وطن بالکل بے خبر ہیں۔ ٭جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اب تک نیب کے چیئرمین کاعہدہ سنبھال لیا ہوگا۔ حکومت نے جس خوشدلی اور آسانی کے ساتھ پیپلز پارٹی کی طرف سے اس عہدہ پر جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نامزدگی کوقبول کیا ہے۔ اس پرانگلیاں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔تحریک انصاف کے قانون دان نمائندہ نعیم بخاری نے کہاہے کہ جسٹس جاوید اقبال اچھے انسان ہیں مگر نیب کے چیئرمین کے عہدہ کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اس عہدہ پر کسی اچھے انسان کو نہیںآناچاہئے ،تو کیا کسی بُرے انسان کو آناچاہئے ؟ میڈیا کے کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر اس عہدہ پر مُک مُکا کیا ہے! جسٹس جاوید اقبال بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ دو اہم تحقیقاتی کمیشنوں کی سربراہ بھی رہے ۔ اس سے ان کی قانون اور آئینی امور پر اعلیٰ دسترس ظاہر ہوتی ہے۔ اے این پی، جماعت اسلامی اور ایم کیوایم نے بھی ان کے تقرر کی حمائت کی ہے مگر تحریک انصاف کو یہ فیصلہ آسانی سے اس لیے قبول نہیں ہوا کہ ان سے مشورہ نہیں کیاگیا ۔ ویسے کچھ سینئر قانون دانوں کی رائے کے مطابق جسٹس جاوید اقبال اپنی غیر متنازعہ حیثیت کے ساتھ اس مشکل اور آزمائشی جنجھٹ میں نہ ہی پڑتے تو اچھا تھا۔ ان کے لیے ہر اک کو مطمئن کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس ان کے فیصلوں پر کسی نہ کسی طرف سے عدم اطمینان ان کے لیے بوجھل ثابت ہوسکتاہے۔ بہرحال اب تو وہ آچکے ہیں۔ یہ عہدہ حلف برداری والا ہے۔ اس کے عہدیدار کو آسانی سے فارغ نہیں کیا جاسکتا ۔ ٭ایک خبر: اسلام آباد کے پانچ اہم ہسپتالوں میں جگرکے امراض کے علاج کا کوئی انتظام نہیں اور پنجاب کی پانچ میڈیکل اور پنجاب یونیورسٹی سمیت اتنی ہی دوسری یونیورسٹیوں کا کوئی مستقل وائس چانسلر نہیں۔ پتہ نہیں ملک کانظام کیسے چل رہاہے؟ اس کا چار سال تک کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھااور اب ایک وزیر خارجہ آیا بھی ہے تو…!! ٭امریکی سینیٹ کی امورخارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین باب کروک نے دنیا بھر کو خبردار کیاہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ا مریکہ کو تیسری عالم گیر جنگ کے راستے پر ڈال دیاہے۔ باب کروک کی یہ بات محض سیاسی پراپیگنڈا نہیں۔ اس وقت امریکہ براہ راست پاکستان، ایران ، شمالی کوریا ،شام اور افغانستان کے ساتھ نبردآزماہے۔ اس نے چھ مسلم ممالک کے باشندوں پر ویزے بند کردیئے ہیں۔ چند روز قبل ترکی کے باشندوں پر بھی یہ پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے جواب میں ترکی نے سفارتی عملہ کے سوا تمام امریکی باشندوں کو ویزے بند کر دیئے ہیں۔ اب امریکہ نے پاکستان چین راہداری پر چین کو دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں۔ یہ صورت حال خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ٭انتہائی تعجب خیز!! اسلام آباد پولیس کے ایک ایس ایس پی کو ایک عدالت نے17 برس قید کی سزا سنائی، دوسری عدالت نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کردیا۔ سزا ختم نہیں ہوئی ،کیس ابھی چل رہاہے،اورحکومت نے اسے پھر ایس ایس پی کے عہدہ پر لگا دیا! آئین، قانون، انصاف، اصول!! ان صاحب کی اپیل زیر سماعت ہے، یہ نامنظور ہوگئی تو ایس ایس پی کو پھر جیل جانا ہوگا! یہ کیا ہورہاہے! ٭ایس ایم ایس: میں فوج کا ریٹائرڈ لانس نائیک ہوں۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور پاکستان میں نوازشریف کی حکومت بھی چلی گئی، ہماری کسی نے نہ سنی جوکئی برسوں سے پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ کئی اپیلیں کیں کہ ہمیں پانی فراہم کردیاجائے۔ گھر میں پانی کاپمپ لگوادیا جائے مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ یہ اپیل ایک بار پھر چھاپ دیں۔ شاید کچھ بن جائے۔ شاہد نور وزیر سرائے نرنگ (0333-4769549)

٭ایس ایم ایس: میں فوج کا ریٹائرڈ لانس نائیک ہوں۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور پاکستان میں نوازشریف کی حکومت بھی چلی گئی، ہماری کسی نے نہ سنی جوکئی برسوں سے پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ کئی اپیلیں کیں کہ ہمیں پانی فراہم کردیاجائے۔ گھر میں پانی کاپمپ لگوادیا جائے مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ یہ اپیل ایک بار پھر چھاپ دیں۔ شاید کچھ بن جائے۔ شاہد نور وزیر سرائے نرنگ (0333-4769549) ٭میرا دو سال کا بیٹا فیصل خاں بہرا ہے۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کے لیے 30 لاکھ روپے کے اخراجات بتائے ہیں۔ حکومت کے نام میری امداد کی اپیل شائع کردیں۔ احسان اللہ خاں Gadni Khel ضلع لکی مروت (0311-5189556)( کسی قسم کی امداد کے ذاتی تحقیق ضروری ہے)۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved