مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال
  12  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مقبوضہ کشمیر کی سرکاری ملازمین خواتین اور طالبات بھی بھارتی ایجنسیوں کے چوٹی کاٹ کر خوف وہ ہراس پھیلانے کے خلاف اِحتجاج کر رہی ہیں۔ سید شبیر شاہ کو تہاڑ جیل میں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، بازار بند ہڑتالیں جاری ، چودہ اکتوبر کو بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے عمل کی پُشتیبانی کرکے خوف پھیلا کر خواتین کے آزادیِ جموں و کشمیر میں کردار کو کم کرنے کے عمل کے خلاف حریت سِرینگر میں ایک بڑے جلسہ کا اہتمام کر رہی ہے۔ لگتا ہے یہ شو آف پاور بھی ہو گا اور بھارتی غاصب افواج کے خلاف، اِلحاق کے حامیوں اور الیکشن کو دُرست کہنے والوں کے لیے بھی ایک الارم بجا دے گا۔ ایسے میں بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے کٹھ پتلی وزیر تعلیم الطاف بخاری نے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کا اِلزام آزادی پسندوں پر لگانے کی مکرو پہل کر دی ہے۔ مگر یہ سب کچھ سُپریم کورٹ آف اِنڈیا میں پیش کیے گئے بیانِ حلفی کی تصدیق و تائید کر رہا ہے کہ غاصب بھارت کے ہاتھوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر ریت کی طرح نکلتا جا رہا ہے اور جموں و کشمیر کے عوام اپنے عمل سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بیان حلفی کی عملاََ تصویر پیش کر رہی ہے۔ اب سُپریم کورٹ آف اِنڈیا کے کے عدالتی ریکارڈ میں شامل کیے گئے بیانِ حلفی کے زِندہ و جاوید دستاویز بننے کا وقت آگیا ہے اور جموں و کشمیر کے عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ اِنہیں مہاراجہ کی طرف سے اپنی اور اپنے وطن کی فروخت نہ کبھی قبول ہوئی ہے نہ اِنہوں نے کبھی بھارتی کٹھ پُتلیوں کے ریاستی اِقتدار کی حمایت کی ہے بلکہ آج تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں جتنے بھی الیکشن ہوئے سب کے سب دھاندلی زدہ ، بھارتی فوج کی موجودگی ، مداخلت ، اور زبردستی ووٹ ڈلوانے کی وجہ سے ہوئے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے کبھی بھی اپنی مرضی ، خوشی ، رضامندی ، بلا جبرو کراہ ، ترغیب و تحریص دیگرے ، بھارتی کٹھ پُتلیوں کو ووٹ نہ دیا ہے بلکہ بھارت نے اپنے خود ساختہ نظام ، جبر ، ظُلم ، اور داو پیچ کے ساتھ اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے جو قریب الختم نظر آرہا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے سپریم کورٹ میں بھارت سے اِلحاق اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں ستر سالوں سے دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے بھارتی قبضہ کے جواز کو ختم کر دیا ہے ۔ اِس جرات مندانہ اِقدام ، جہاد پر پاکستان ، آزاد ریاست جموں و کشمیر ووکلا و عوام مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سرینگر اور جموں و کشمیر کے تمام غیور ، بہادر ، ووکلا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔ دہلی سپریم کورٹ آف انڈیا کے مسٹر جسٹس دیپک مشرا کی حیرانگی، پریشانی ، پشیمانی کی اِنتہا نہ رہی جب اِن کی توجہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سری نگر کی طرف سے پیلٹ گن کیس کی اپیل کے دوران ایک بیانِ حلفی داخل کیا گیا جس میں ٦٢ اکتوبر ٧٤٩١ کے مہاراجہ جموں و کشمیر کے اِنڈین یونین کے ساتھ اِلحاق کو غلط قرار دیتے ہوئے حلفاََ اِقرار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جتنے بھی اِنتخابات کرائے ہیں سب دھاندلی زدہ تھے ۔جب محترم جج صاحب کی توجہ اِس بیانِ حلفی کے مندرجات کی طرف اے جی(اٹارنی جنرل) نے کروائی تو سپریم کورٹ آف اِنڈیا نے اسے کیس کے واقعات سے ہٹ کر ہونا بیان کیا اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائیندگان کو کہا کے اِس بیانِ حلفی میں جو بیان کیا گیا ہے اِس کا واقعات سے کیا تعلق ہے ؟ اور پھر پیلٹ گن کیس کی آئیندہ تاریخ پیشی مقرر فرما دی ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سرینگر نے بار ایسوسی ایشن کے صدرِمحترم میاں عبدالقیوم کی قیادت میں وہ کام کر دِکھایا ہے جو آنے والے وقت میں جموں و کشمیر کے لیے آزادی کی ایک دستاویز ثابت ہوگا اور یاد رکھا جائے گا۔ ہم آزاد ریاست جموں و کشمیر کے سب ووکلا بھائیوں اور عوام کی طرف سے صدر جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار کے صدر میاں عبدالقیوم ایڈووکیٹ اور تمام کابینہ بار اور ووکلا مقبوضہ جموں و کشمیر کو مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

جموں و کشمیر کی آزادی میں جموں و کشمیر کے غیور بہادر زیرک ، دانشمند ، ووکلا کا کردار مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم ، محصور ، مقہور عوام کو راحت بخشے گا۔ آزادی پسندوں کا مورال اور زیادہ بلند ہو گا اور فِکری کے ساتھ ساتھ قانونی تحریکِ آزادی بھی اور زیادہ زور پکڑے گی ۔ ایسے حالات میں جب بھارتی وزیر مقبوضہ جموں و کشمیر کے بھارت میں مکمل انضمام کی بات کر رہے ہیں ، دھمکیاں دے رہے ہیں اور بھارت کی اپوزیشن پارٹیاں صِرف اور صِرف سیاسی سکورنگ کے لیے بھارتی آئین کی دفعہ ٠٧٣(٥٣ اے) کے اِرد گرد قوم کو گھما رہے ہیں۔ بھارتی پارٹیوں کی ریاستی گٹھ کبھی نیمے دروں نیمے بروں اور کبھی عوام کے سامنے کشمیریوں کے حقوق و مفادات کے لیے اپنی کی گئی یا ڈالی گئی حالیہ و ماضی کی کاروائیوں کا ذِکر کر کے ، عوام کو گھما کر چکر دے کر مختلف ذائقہ کے لولی پاپ دے کر کوشش کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کے راستے کی طرف نہ جائیں۔ مگر ہو کیا رہا ہے، اِس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر کے شہیدوں ، غازیوں ، مجاہدین ، آزادی پسندوں ، برہان وانی جیسے جوان خون اور پاک قربانیوں کے صدقے، جموں و کشمیر کے بھارت میںاِنضمام کے سب خلاف ہیں۔ بھارت سے اِلحاق کے حامی جنہیں پرو اِنڈیا یا مین سٹریم پارٹیاں کہا جاتا تھا اُن کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے اور آزادیِ جموں و کشمیر کی تعداد میں بے پناہ اِضافہ ہو گیا ہے۔ سرینگر میں چودہ اکتوبر کو آزادی پسندوں کا جلسہ بھی ثابت کرے گا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے ۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھارت کے ائیر چیف بی ایس ہنو نے اسپیکٹرم آپریشن یعنی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر ائر سٹرائیک کی گیدڑ بھبکی لگائی ہے جِس کا شافی جواب پاکستان کی آئی ایس پی آر کی طرف سے آگیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر بی ایس ایف کے ڈی جی نے کشمیریوں کے فدائی بننے اور فدائیوں کے مارنے اور مرنے کے فلسفے سے اپنی حکومت اور افواج کو خود ہی خوفزدہ کر رہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved