مذہب کے ساتھ سنگین مذاق
  12  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میاں نواز شریف کی حکومت کا تازہ کارنامہ انتخابی اصلاحات کی آڑ میں عقیدئہ ختم نبوت پر ضرب لگانے کی کوشش کی صورت میں سامنے آیا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس مسئلہ پر حکومت نے پسپائی اختیار کرلی ہے ۔یہ دین کے ساتھ ایک کھلا مذاق ہے۔ایسا جس نے بھی کیا ہو، خواہ ہمارے حکمراں ہی کیوں نہ ہوں ،اس کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔مسلم لیگ کی لڑکھڑاتی ہوئی حکومت کبھی دہشتگردی کے حوالے سے بیرون ملک اعترافی بیان دیتی ہے تاکہ عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوسکے،جیسا کہ خواجہ آصف صاحب اپنا مقدمہ لے کر گئے تھے ۔کبھی عقیدئہ ختم نبوت پر کاری ضرب لگا کر اسلام دشمن عالمی قوتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہے۔یہ سب کچھ اسی لئے کیا جارہا ہے کہ عالمی حمایت حاصل کی جاسکے۔بظاہرکوئی اور وجہ نظر نہیں آتی۔بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی اور پھر پسپائی ایک منصوبے کے تحت کی گئی تاکہ اس حوالے سے قوم کی نبض بھی چیک کی جاسکے کہ وہ اس پر کس قدر واویلا کرتی ہے اور تاکہ عالمی قوتوں کو بھی یہ بتایا جاسکے کہ ہماری حکومت تو آپ کے ہرایجنڈے کی تکمیل کے لئے تیار ہے ۔یہ سب کچھ تو اوپر کے دبائو کے نتیجے میں کیا جارہا ہے ۔ان کا مطالبہ تو دستور کی دفعہ 295کو ختم کرنا ،آسیہ بی بی کی رہائی ،قادیانیوں کو جو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والی متعلقہ شق کو آئین سے نکالنا ہے۔یہ ساری باتیں دبائو ڈالنے کے حربے کے طور پر حکمرانوں کے سامنے آتی ہیں۔لیکن کیا ہم اتنے گرگئے ہیں کہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لئے اپنے تمام دینی اقدار کو قربان کرنے کے تیار ہوجائیں۔درحقیقت ہمارے حکمراں اپنے بیرونی آقائو ں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ دبے پائوں آئین کی دفعہ 295Cکو ختم کرنا چاہتے ہیںتاکہ ان پرجو دبائو ہے اس سے نکل سکیں۔اہل یورپ کی اسلام دشمنی اور نبی اکرم ۖ سے ان کے بغض کا ایک مظہریہ سامنے آیا ہے کہ آسیہ بی بی کو جو توہین رسالت کی اعترافی مجرم ہے،یہ اس پر محض الزام نہیں ،بچانے کے لئے ساری دنیا اکٹھی ہوچکی ہے گویا کہ یہ تاریخ انسان کا ایک بہت بڑ اظلم ہے کہ جو توہین رسالت کی مرتکب ہے ،اسے موت کی سزا دے دی جائے۔یورپ نے اس خاتون کو جس نے نبی اکرم ۖ کی توہین کی ہے اسے اظہار رائے اور انسانی حقوق کے دفاع کرنے کے انعام کے لئے نامزد کیا جارہا ہے ۔یہ اسلام دشمنی کے کتنے گھنائونے انداز ہیں جو اختیار کئے جارہے ہیں۔ہمار ے حکمرانوں کاحال یہ ہے کہ ایسے اقدامات کرنے والوں کی وہ خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف جو امریکہ کے دورے پر ہیں ۔امریکی صدر جنہوں نے پاکستان کو عریاں دھمکیاں دی تھیں ، اب کچھ نرم لہجہ اختیار کرکے پاکستان کو ٹریپ کرنا چاہتے ہیں۔امریکی حکام نے خصوصی شفقت سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف حتمی کاروائی سے پہلے اسے ایک موقع اور دیں گے ۔ اگر وہ ہمارے ایجنڈے پر عمل کرتا ہے تو ہم اس کے سابقہ رویے کو معاف کردیں گے ۔گویا اس کی جانب سے ایک بار پھر چھڑی اور گاجر والی پالیسی اختیار کی جارہی ہے۔پاکستان پہلے ہی ستر سال سے امریکی مطالبات پر عمل درآمد کرکے خود کو تباہ کرچکا ہے۔معیشت کی صورتحال تو اتنی خوفناک ہوچکی ہے کہ جس کی تفصیل میں جانا اس وقت ممکن نہیں۔ ہم پر معاشی شکنجہ کسا جاچکا ہے ۔اب اگر پاکستان امریکہ کے بچھائے ہوئے اس جال میں پھنستا ہے تو ہماے لئے مکمل تباہی سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔اندیشہ یہ ہے کہ ہمارے اہم قومی اداروں نے ایک بار پھر ڈبل گیم کھیلنے کی کوشش کی تو اس کے بہت خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ایسے بھی امکانات ہیں۔پاکستان کو اس وقت بہت ہی نازک صورتحال درپیش ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں فرعون وقت امریکہ کے شر سے بچنے کے لئے حقیقی معنوں میں رب کائنات کا دامن تھامنا ہوگا ۔علامہ اقبال کا ایک بار پھر وہ شعر سنا رہا ہوں وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔ہماری نجات کی واحد صورت یہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے رہنمائوں کو توفیق دے کہ وہ بھی دین اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کریں اور اللہ کی مدد کے ذریعے آنے والے مشکل وقت سے نبرد آزما ہونے کے لئے اللہ کی مدد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو کچھ مشکل نہیں ۔ہم اپنا قبلہ سیدھا کرلیں ۔یہ مملکت جو اسلام کے نام پر بنی ہے ، اس میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لئے پوری قوم متحد ہوجائے تو آج ہی اللہ کی مدد شروع ہوجائے گی۔اور اگر ہم نے یہ نہیں کیا توہمارا کیا انجام ہوتا ہے اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔پاکستان ایک خوفناک دہانے پر پہنچا ہوا ہے۔اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved