شاہ سلمان کا دورہ ماسکو' داعش اور امریکہ
  12  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

افغانستان کے سابق امریکی کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی... امریکہ کے گھر کے بھیدی ہیں... ان کا یہ کہنا کہ ''امریکہ کے داعش سے رابطے ہیں... امریکہ افغانستان میں داعش کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے... یہ تنظیم افغانستان میں فوجی اڈے بھی استعمال کر رہی ہے... امریکی اڈوں سے غیر فوجی رنگ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے... داعش کو مدد فراہم کی جارہی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کی موجودگی میں ہی افغانستان میں داعش کا وجود پیدا ہوا' حامد کرزئی نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ امریکہ سے پوچھیں کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی اور موجودگی کے باوجود داعش نے کس طرح افغانستان میں جڑیں مضبوط کیں؟ انہوں نے کہاکہ انہیں شک نہیں یقین ہے کہ داعش کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا جاتا ہے۔'' دوسری جانب روسی صدر ولاویمیرپیوٹن کے ترجمان نے سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے اپنے حالیہ میزائل معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں ہے... ترجمان کا کہنا تھا کہ ایس 400میزائل کے معاہدے کے بعد امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو اپنا دفاعی میزائل نظام فروخت کرنے پر روس کے ساتھ معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا... ماسکو اور ریاض کے درمیان معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مثبت رابطے ہوئے ہیں۔'' پہلے حامد کرزئی کے بیان کی طرف آتے ہیں... داعش اور امریکہ کے درمیان تعلقات کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی انکشاف... ہر ذی شعور انسان ان تعلقات سے بخوبی واقف ہے... جیسے امریکہ نے حامد کرزئی کو افغانستان کا کٹھ پتلی صدر بنایا تھا... جس طرح سے امریکہ نے ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ' عبداللہ جیسوں کو افغانستان کا کٹھ پتلی حکمران بنا رکھا ہے... ایسے ہی داعش کے اوپر بھی امریکی ہاتھ ہی ہے... ورنہ شام اور عراق میں برسرپیکار ''داعش'' کا افغانستان میں کیا کام؟ جاننے والے جانتے ہیں کہ افغانستان میں ملا محمد عمر مجاہد کے طالبان کہ جو گزشتہ 15سالوں سے امریکہ اور اس کی اتحادی فوجوں کے خلاف خوفناک جنگ لڑ رہے ہیں... داعش کی اصل لڑائی انہیں طالبان کے ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو نقصان پہچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے' اور دنیا یہ بات بھی حیرت سے دیکھ رہی ہے کہ وہ گلبدین حکمت یار کہ جن کی کمانڈر احمد شاہ مسعود سے لڑائیوں اور جنگوں کی وجہ سے افغانستان بدترین صورتحال سے دوچار رہا... پھر ملا محمد عمر کے طالبان کی آمد کے بعد...جو حکمت یار سیروبی سے فرار ہو کر افغانستان کے منظر نامے سے غائب ہوگئے تھے...اب وہی حکمت یار امریکی کٹھ پتلی ڈاکٹر اشرف غنی کے حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بنے ہوئے ... کابل کے افق پر چھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں... لیکن افغان طالبان آج بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف نہ صرف برسرپیکار ہیں...بلکہ ان کا اعلان ہے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی... اس وقت اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔ امریکہ کا افغانستان میں انڈیا کو کردار دینے کی باتیں کرنا' بلکہ افغانستان میں انڈیا کا دندناتے ہوئے... پاکستان کے خلاف ٹریننگ کیمپ قائم کرنا... افغانستان سے دہشتگردوں کا سرحد عبور کرکے پاک فوج کے مورچوں پر حملے کرکے... جوانوں کو شہید کرنا... یہ سب اس بات کا اشارے ہیں کہ امریکہ افغان طالبان کو اپنے قدموں میں جھکا کر ... حکمت یار' حامد کرزئی' اشرف غنی' عبداللہ' عبداللہ کی طرح بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ افغانستان سے طالبان کے جہاد کا خاتمہ تو چاہتا ہے مگر وہ افغانستان کو امریکی دبائو سے آزاد بھی نہیں دیکھنا چاہتا' شاید افغانستان میں انڈیا کے کردار کے بعد داعش کی موجودگی امریکہ کے نزدیک اسی لئے ضروری ہے... اب آتے ہیں سعودی عرب اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی طرف' سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ماسکو کا تین روزہ دور کرکے... دوست ' دشمن دونوں کو اپنے شاندار ''ویژن'' کا گرویدہ بنا لیا۔ کہاں روس کا ایران کے ساتھ مل کر شام کے خونخوار صدر بشارالاسد کی کھل کر حمایت کرنا... اور پھر کہاں روسی صدر اور دیگر حکام کا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ماسکو میں شاندار استقبال اور سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے میزائل معاہدوں کا روسی صدر کے ترجمان کی طرف سے دفاع کرنا... ابھی چند ماہ پہلے تک سعودی عرب کے حوالے سے ہر طرف گرد اڑائی جارہی تھی' سعودی عرب کے حکمرانوں پر انسانی حقوق بالخصوص عورتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے حوالے سے جان بوجھ کر جھوٹے الزامات لگائے جارہے تھے... سعودی عرب کو اندرونی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بیرونی کوششیں عروج پر تھیں... جنگ یمن کو بنیاد بنا کر سعودی عرب میں قائم شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا بھی زوروں پر تھا ... مگر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے زبردست ''ویژنری'' اقدامات سے نہ صرف دشمنوں کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف کی جانے والی سازشوں... کو ناکام بنایا... بلکہ سعودی عرب کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والی فیکٹریوں پر بھی زلزلہ طاری کر دیا۔

کالم کے دامن کی تنگی کی بناء پر میں ان اقدامات کی گہرائی میں جائے بغیر... مختصراً صرف اتنا عرض کرونگا... کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پہلے امریکہ اور اب روس کو اپنی بہترین حکمت عملی اور تدبر سے رام کرکے... دنیا کو یہ مثبت پیغام دیا ہے کہ ... محض جذباتیت ہی نہیں... بلکہ ''تدبیر و حکمت'' ''مومن'' کی وہ گم گشتہ دولت ہے کہ جیسے اپنا کر وہ فاتح عالم بھی بن سکتا ہے۔ کاش اے کاش... پاکستان کے حکمران... پاکستان کے ہر دلعزیز اور سدا بہار دوست سعودی عرب کے حکمرانوں سے ہی تدبر اور حکمت عملی سیکھ کر پاکستان کو خطرات کی زد سے نکالنے کی تدبیر کرلیتے' لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہمارے حکمرانوں کو شریف خاندان کے دفاع سے فرصت ملے گی؟ وما توفیقی الاباللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved