اجتماعی قیادت ہی بحران سے نکال سکتی ہے
  14  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

دالبندین سے لاہور۔ پشاور سے کوئٹہ۔ فاٹا۔ جہاں بھی دیکھیں صورتِ حال چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ملک میں کوئی بھی قائد نہیں ہے۔ قیادت کا بحران ہے۔ جتنے بڑے مسائل ہیں اندرونی اور بیرونی چیلنج ہیں۔ ان سے نمٹنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھنے والا لیڈر کوئی نہیں ہے۔ مسئلے جیسے چٹانیں رہنما جیسے ہوا وقت نے کتنے فلک بوسوں کو بونا کردیا اسٹیبلشمنٹ بھی 1970سے گملوں میں قائد پیدا کرنے کے جو تجربے کررہی تھی وہ ناکام ہوگئے ہیں۔ خود اسٹیبلشمنٹ ان پودوں کو جڑوں سمیت نکالنے کی ریاضت کررہی ہے۔ یہ ایک بہت مشکل مرحلہ ہے اور پیچیدہ بھی۔ اس لیے وہ نئی قیادت تلاش کرنے یا بنانے پر توجہ نہیں دے پارہی ہے۔ خود 'میرے عزیز ہم وطنو' کہنے کی بھی جرأت نہیں ہے۔ عام طور پر قیادت۔ یونیورسٹیوں سے تیار ہوتی رہی ہے ۔ چاہے وہ ملک کی ہوں یا امریکہ برطانیہ کی ۔ پاکستان میں یونیورسٹیوں میں اسٹوڈنٹس یونینوں پر پابندی عائد ہے۔ جس سے وہاں غیر جانبدار اور صرف پاکستان سے محبت کرنے والی ملک کی فکر کرنے والی قیادت برآمد ہونے کی رسم ختم ہوچکی ہے۔ یونیورسٹیوں میں سیاسی جماعتیں گملوں میں جو پودے لگاتی ہیں ۔ اپنی ذیلی تنظیمیں تشکیل دیتی ہیں۔ وہاں وہ صرف اپنے غلام پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ صرف ان نوجوانوں کی پرورش کرتی ہیں جو خاندانی قیادت کو قبول کرنے پر تیار ہوں۔ اسی طرح دینی مدارس سے بھی غیر جانبدار قائدین پیدا نہیں ہورہے ہیں۔ وہاں بھی مختلف مسالک اپنے اپنے وفادار پیدا کرتے ہیں۔ دین اسلام کا علم بلند کرنے والے سامنے نہیں آتے۔ تاریخ کے اوراق یہ گواہی دے رہے ہیں کہ 90-80-70 اور اب اکیسویں صدی میں حکمراں طبقوں نے ان پڑھ' علاقائی' فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والوں کو آگے بڑھایا ہے۔ پاکستانیوں کو تقسیم در تقسیم کیا ہے۔ اس جوڑ توڑ اور ٹوٹ پھوٹ کے نتائج اب اپنی انتہا پر ہیں ۔تحمّل برداشت ختم ہوچکے ہیں۔ اب ہتھیاروں کی زبان میں بات ہوتی ہے۔ کرائے کے لڑاکا آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔ ملک میں علاقائیت شدت پر ہے کیونکہ پاکستانیوں کو پاکستانی کی حیثیت سے نہ ملازمت ملتی ہے نہ زندگی کا تحفظ۔ کہیں اسے سندھی بننا پڑتا ہے ۔ پنجابی' بلوچی 'کشمیری' پشتون' گلگتی یا پھر مسالک کے حوالے سے اپنی شناخت بتانی پڑتی ہے۔ پارلیمنٹ موجود ہے۔ مگر اس میں عدم توازن ہے۔ ایک بڑا صوبہ پارلیمانی سطح پر غالب ہے اس لیے اکثریت کے بل پر غلط قانون بن رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ سے نا اہل قرار دیے گئے شخص کو قیادت کا تاج پہنایا جارہا ہے۔ پارٹیوں میں قیادت موروثی ہوچکی ہے۔ پارٹی میں کتنے ہی وفادار' اہل اور مدبرانہ سوچ رکھنے والے ہوں۔ انہیں پارٹی کی قیادت میسر نہیں آسکتی۔ یہ خاندانی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن چکی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں مختلف شعبوں ' تعلیم'معیشت' عمرانیات' اقتصادیات' شماریات' انجینئرنگ کے ماہرین کی کوئی قدر نہیں ہے۔ اس صورتِ حال کی سنگینی کا احساس ہر پاکستانی کو ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ہے۔ لیکن جب قوم پر انحطاط آتا ہے تو صرف ایک شعبہ ہی اس سے متاثر نہیں ہوتا ہے ۔ یہ وبا سب شعبوں تک پہنچتی ہے۔ آپ گزشتہ ادوار کے سیاسی قائدین' فوجی قائدین' علمائ' ماہرین تعلیم ' میڈیا کے کردار اور افکار پر روشنی ڈالیں۔ آج کے ان شعبوں کو دیکھیں۔ ہر جگہ پستی اور تنزّل کا دور دورہ نظر آئے گا۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کیسی بھی پارٹی ہو گزشتہ تیس چالیس برس میں اس کا اثر و نفوذ بہت گہرا رہا ہے۔ اس کو آسانی سے ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس میں جاگیرداروں ۔ زمینداروں کے ساتھ ساتھ صنعت کار اور سب سے بڑھ کر ٹھیکیدار بھی شامل ہیں۔ آج مکمل اثر و رسوخ اور دولت کے حوالے سے ٹھیکیدار سب سے آگے ہیں۔ یہ 1999نہیں ہے جب مسلم لیگ(ن) والے گوشہ نشین ہوگئے۔ کچھ مسلم لیگ(ق) میں چلے گئے۔ صورتِ حال ایسے میں اور زیادہ سنگین اور نازک ہوجاتی ہے جب مدبرانہ قیادت کسی شعبے میں بھی نہ ہو۔ ان شعبوں میں کیے گئے اقدامات اور پالیسیاں مزید پیچیدگی پیدا کرتی ہیں۔ غور سے دیکھیں تو اسٹیبلشمنٹ بھی کوئی ایسا نسخہ نہیں لاپارہی ہے جسے تیر بہدف کہا جاسکے۔ اس انتشار کی کیفیت میں پڑوسی ممالک کی دلچسپیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اب ہمارے ہمسایوں میں کوئی بھی ہمارا ہمدرد نہیں ہے۔ بھارت تو ازلی دشمن ہے۔ افغانستان بھی اس وقت امریکہ اور بھارت کی شہ پر دم پر کھڑا ہے۔ ایران کے مفادات بھی ہمارے حق میں نہیں ہیں۔ چین یقینا ہمارا ہمدرد ہے لیکن اس کے اپنے مفادات کو زیادہ ترجیح حاصل ہے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں۔ وہ پورے جنوبی ایشیا' بنگلہ دیش' سری لنکا' مالدیپ' نیپال' افغانستان وسطی ایشیا کی ریاستوں میں سی پیک کی طرح اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ وہ اپنا مستقبل محفوظ کررہا ہے۔ یہ چین نظریاتی چین نہیں ہے۔ مائوزے تنگ اور چو این لائی والا چین نہیں ہے۔ یہ 'زی جن پنگ' کا چین ہے۔ اس کے نزدیک صرف اپنے معاشی اور علاقائی مفادات ہیں۔ وہ ان کی تکمیل کرے گا۔ اب اسکے فیصلے اور معاہدے نظریاتی نہیں ہوں گے۔ صرف تجارتی اور اقتصادی ہوں گے۔اس تناظر میں ہمارے ہاں ٹھیکیداروں کو ہی فوقیت ہوگی۔ ماہرین معیشت۔ ماہرین تعلیم۔ سائنسدانوں اور انجینئروں کو نہیں۔ ٹیکنیشین اور انجینئرز وہ اپنے لارہا ہے۔ پاکستان سے صرف خادمین اور ٹھیکیداروں کو موقع ملے گا۔ میں جہاں تک سوچ رہا ہوں کہ اس وقت ٹکرائو ہوگا ۔ پاکستان اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کا ہمسایہ ممالک کی سوچ سے اور چین کی سوچ سے۔سیاستدان تو سوچ ہی نہیں رہے ہیں۔

ضرورت ہے تو تدبر اور فکر کی۔ جسے سیاستدانوں اور جنرلوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ملک کے درد مند ماہرین' یونیورسٹیاں اور دینی مدارس۔ چاہے وہ پنجاب میں ہیں ۔ جنوبی پنجاب ۔ سندھ۔ شہری یا دیہی۔ بلوچستان' ریگولر یا دوسرا' گلگت بلتستان' فاٹا' کے پی کے۔ آزاد جموں کشمیر۔ ان کی اجتماعی سوچ ہی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرسکتی ہے۔ یہ تمام خواتین و حضرات اپنے علاقائی اور قومی مفادات کا حسین امتزاج سامنے لائیں۔ قومی مفاد علاقائی مفاد کی قیمت پر نہ ہو۔ علاقائی مفاد قومی مفاد پر غالب نہ ہو۔ اب علیحدگی کے خطرات نہیں ہیں کیونکہ چین اپنی سرمایہ کاری کے تجربے کے لیے کم از کم 15سے 20سال تک ہماری علاقائی وحدت کو قائم رکھے گا۔ اسے امریکہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ آپ میری تحریر پڑھنے والے اپنے اپنے علاقے میں اپنے اساتذہ۔ ماہرین معیشت اور علما سے رابطے کریں۔ اس سلسلے میں سوچیں ۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved