دو وزیراعظم ایک ملک
  14  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان ایک عجیب ملک ہے، یہاں سیاست دانوں کے علاوہ جسکو بھی موقع ملتاہے وہ ناجائز دولت کمانے سے نہیں چوکتا ہے، نواز شریف کرپشن کی وجہ سے اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اب ان کے خلاف نیب میں تین ریفرنس زیر سماعت ہیں، تاہم ان کی پارٹی مسلم لیگ ن ابھی تک برسراقتدار ہے، یہ ایک اچھی بات ہے انہوںنے شاہد خاقان عباسی کو اپنی جگہ نیا وزیراعظم چناہے لیکن شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ نواز شریف کو اب بھی اپنا وزیراعظم تسلیم کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ مملکت کے سارے امور نواز شریف کے مشورے اور ہدایت کے مطابق چلارہے ہیں، اسکا واضح مطلب یہ ہے کہ اسوقت ملک میں دو وزیراعظم کام کررہے ہیں، ایک نا اہل وزیراعظم نوازشریف جو پیچھے سے شاہد خاقان عباسی کی ڈوریاں ہلارہا ہے، اور دوسرا خود شاہد خاقان عباسی! اسطرح دو وزیراعظم اس ملک کی تقدیر کے مالک بنے ہوئے ہیں، ظاہر ہے کہ نوازشریف کی گذشتہ چارسال کی حکومت اپنی کارکردگی کے لحاظ سے انتہائی ناقص تھی، با الفاظ دیگر گڈ گورننس کا کوئی وجود نہیں تھا، کرپشن اپنے عروج پر تھی اور اسکے ساتھ ہی اقرباپروری اور دوست نوازی نے ملک کی اکانومی کا بیٹرا غرق کردیا تھا، نواز شریف کی حکومت میں ان کا وزیرخزانہ ایک اکائوٹنٹ تھا جسکو معیشت کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا، اسحاق ڈار ہیرا پھیری میں ماہر تھا، اس نے ملک کو بے پناہ قرضوں میں جکڑ دیاہے، یہی وجہ ہے کہ اسوقت تمام باشعور افراد جن میں چیف آف آرمی اسٹاف بھی شامل ہیں، انہیں اکانومی کی صورتحال پر انتہا سے زیادہ تشویش ہے، خسارہ اور قرضے حد سے بڑھ گئے ہیں، شاہانہ ٹھاٹ باٹھ نے ملک کی سا لمیت اور آزادی کو دائوں پر لگا دیاہے، یہ سب کچھ نواز شریف اور انکی حکومت کی دین ہے، دراصل ان کی حکومت جان بوجھ کر پاکستان کوDefaultکرانے پر تلی ہوئی ہے، آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر قرضہ دینے والی ایجنسیوں سے قرضہ لے کر مملکت کا کاروبار چلایا جارہا تھا، قومی اسمبلی میں محدود اکثریت کی بنا پر وہ کام کیا جارہا تھا جو کسی بھی صورت میں ملک کی ترقی میں معاون ومددگار ثابت نہیں ہورہی تھی، اب نوبت یہ پہنچ چکی ہے کہ بیرونی قرضہ سود کے ساتھ کسطرح واپس کیا جائے گا؟ کیا معیشت کی مضبوطی اور استحکام کے بغیر مملکت کا تحفظ برقرار رہ سکتاہے؟ ماضی قریب میں سوویت یونین کا شیرازہ اس لئے بکھر گیا تھا کہ ان کی معیشت افغانستان میں جنگ کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہوچکی تھی، چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ موجودہ تشویشناک صورتحال سے پاکستان کو کسطرح نکلا جاسکتاہے؟ اسکا آسان طریقہ یہ ہے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری نے جو دولت لوٹ کر باہر جمع کی ہے اسکو فی الفور واپس لاکر قرضہ اتارنے کی کوشش کرنی چاہئے، اسوقت نواز شریف کا تین سو ارب روپیہ باہربینکوں میں جمع ہے اس ہی طرح آصف علی زرداری کی ناجائز اور حرام کی دولت باہر بینکوں اور جائیدادوں کی صورت میں موجود ہے، اگر یہ ناجائز جمع شدہ دولت پاکستان لائی جائے تونہ صرف قرضہ اتارا جاسکتاہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو صراط مستقیم پر بھی گامزن کیا جاسکتاہے، اس کام میں مزید دیر نہیں ہونی چاہئے، ورنہ مملکت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، مزید براں نوازشریف اور اسکے کرپٹ حواری مسلسل پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے بنیادی اداروں کو عوام کی نگاہوں میں بے توقیر اور بد نام کرنے پر تلے ہوئے ہیں، نوازشریف اپنی ناجائز ، غیر قانونی اور حرام کی دولت کو بچانے کے لئے ملک کی سا لمیت کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں، ان کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح فوج اقتدار سنبھال لے تاکہ اس صورت میں وہ کھل کر فوج کے خلاف صف آرا ہوسکیں اور اپنے دوست نریندرمودی کو یہ پیغام دے سکیں کہ اب موقع ہے کہ پاکستان پر حملہ کردو، تاہم اس صورتحال میں جب معیشت ڈوب رہی ہے،بیرونی اور اندرونی قرضہ بڑھ رہاہو،تو فوج کیونکر اور کس لئے آئے گی؟ فوج کا کام معیشت چلانا نہیں ہے، بلکہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہے، جسکو افواج پاکستان نے احسن طریقہ سے نبھایا ہے، اور آئندہ بھی وہ اپنا یہ اہم فریضہ انجام دیتی رہے گی، عوام کو اب اس بات کا ادراک واحساس ہوگیاہے کہ ''جمہوریت'' کے دلفریب نعروں کے ذریعہ اور وعدے کے مطابق عوام کی حالت نہ سدھارنے کی وجہ سے آج پاکستان قرضہ دینے والے اداروں سے بھیک مانگ رہاہے، بلکہ دنیا میں بڑھتی ہوئی کساد بازاری کی وجہ سے اب ''بھیک'' بھی نہیں ملے گی، اس لئے میری ارباب اقتدار سے گذارش ہے کہ وہ نواز شریف سے متعلق جلد از جلد فیصلہ صاد رکرے، کیونکہ مقدمات کو طول دینے کی وجہ سے پاکستان مزید عدم استحکام سے دوچار ہوسکتاہے، یہاں یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کا کوئی کردار نہیں تھا، انہیں ایک ترقی پذیر پاکستان ملا تھا، جس سے ان کے ''بزرگوں'' نے بہت زیادہ ناجائز فائدہ اٹھایا تھا، یہی روش ان کے دونوں صاحبزادوں نے اختیار کرکے جہاں اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کیاہے، وہیں مملکت پاکستان کو معاشی ومعاشرتی طورپر کمزور کیا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ملک کو دو وزیراعظم چلارہے ہیں ایک نا اہل اور کرپٹ اور دوسرا ان کا نامزد جو اپنی مرضی سے کام نہیں کررہاہے بلکہ اسکی نکیل نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved