اپنے بچوں کے ذہن میں کبھی جھانکا
  16  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہمیں ٹرمپ کی فکر رہتی ہے ۔ مودی کے بیانات پر کڑھتے ہیں۔ نواز شریف کی کرپشن ہمیں پریشان رکھتی ہے۔ زرداری کی مسکراہٹ کے سو مطلب نکالتے ہیں۔ عمران خان عدالتوں میں کیوں نہیں جاتا ۔ شیخ رشید کے پیچھے کون ہے۔ کیا کبھی ہم اپنے بچوں کے ذہنوں میں جھانکتے ہیں۔ وہاں کون پرورش پارہا ہے۔ وہ بڑے ہوکر ٹرمپ بن سکتے ہیں ۔ نواز شریف کی طرح دولت کے رسیا ہوسکتے ہیں۔ زرداری کی طرح مٹی کو سونا بناسکتے ہیں۔ عمران خان کی طرح ہر وقت ضدی بنے رہ سکتے ہیں۔ شیخ رشید کی طرح بغیر کسی کاروبار کے پُر تعیش زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہمیں ان کی فکر زیادہ رہتی ہے۔ جنہیں ہم بدل نہیں سکتے۔ جو ہماری پہنچ سے بہت اوپر ہیں۔ لیکن جو ہمارے آس پاس رہتے ہیں جو ہماری حقیقی ذمہ داری ہیں ۔ جنہیں ہم بدل سکتے ہیں۔ ان پر ہماری توجہ کتنی ہے۔ ہم ان کو کیا اتنا وقت دیتے ہیں جتنا ہم ٹی وی چینلوں کے بے نتیجہ۔ غیر منطقی ٹاک شوز کے لیے وقف کرتے ہیں۔ ہمیں جو ماحول ملا تھا۔ ان کو ملنے والے ماحول سے بہت مختلف تھا۔ ہمیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری عبدالرّب نشتر کی بے مثال خطابت سننے کو ملی۔ شورش کاشمیری کو پڑھا بھی اور سُنا بھی۔ابراہیم جلیس۔مجید لاہوری۔ احمد ندیم قاسمی۔ ابن انشا۔ فیض احمد فیض۔ مظہر علی خان۔نعیم صدیقی۔ ارشاد احمد حقانی۔ ظہیر بابرپڑھنے کو ملے۔ ہمارے آس پاس اچھی کتابیں ہوتی تھیں۔ یو ایس آئی ایس کی لائبریری۔ سوویت یونین کا فرینڈ شپ ہاؤس۔ چین کا پیکنگ ریویو۔ پڑھنے کو ملتے تھے۔ جان ایف کینیڈی۔ جمال ناصر۔ عبدالرحیم سوئیکارنو۔ جواہر لعل نہرو۔ شاہ فیصل۔ برزنیف۔ فیڈل کاسترو کی بین الاقوامی امور پر تقریریں۔ کتابیں۔ ایک دوسرے کو روزانہ چیلنج۔ ریڈیو پاکستان۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام۔ اگر چہ محدود وقت کے لیے ہوتے تھے لیکن ایک اک حرف۔ ایک اک سطر بڑی ذمہ داری اور مکمل احتیاط کے ساتھ ادا کی جاتی تھی۔ ہمارے والدین بچپن میں ہم سے اخبار پڑھوا کر سنتے تھے۔ جہاں تلفظ کی غلطی ہوتی۔ اس کا احساس دلاتے جہاں مشکل لفظ ہوتے۔ ان کا مفہوم سمجھاتے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد کسی بھی شہر میں مجھے لے جاتے تو سائن بورڈ پڑھنے کو کہتے۔ ہمارے اساتذہ فرداً فرداً کتنی توجہ دیتے تھے۔ ٹیوشن اور کوچنگ سینٹر کا رواج نہیں تھا۔ خلاصے اور آسان امتحان گائیڈ شائع ہوتی تھیں۔ انہیں اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ زیادہ زور اپنی محنت اور پڑھائی پر تھا۔ مسجدوں میں درس کے لیے بڑے بڑے علماء آتے تھے۔ والدین بچوں کو ساتھ لے جاتے۔ ان کے درس سنتے۔ جن میں صرف اللہ کی وحدانیت۔ رسول اکرمﷺ سے عشق۔ صحابہ کرامؓ کا احترام اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کا ذکر ہوتا تھا۔ ہم نے اس ماحول سے جو تربیت پائی ہم اپنی اولاد تک کیوں منتقل نہیں کررہے ہیں۔ انہیں ہم نے چینلوں کے اینکر پرسنز۔ چھچھورے سیاستدانوں۔ فیس بک۔ ٹوئٹر کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا ہے۔ لائبریریاں بند ہوچکیں۔ سیاسی پارٹیوں نے مطالعہ گاہیں ختم کردی ہیں۔ یونیورسٹیاں صرف کاروباری تعلیم دے رہی ہیں۔ انسان بننا نہیں سکھارہی ہیں۔ اخبارات میں کالم۔ مضامین کسی ایڈیٹنگ کے بغیر شائع ہورہی ہیں۔املا غلط۔ بے ربط جملے۔ یاوہ گوئی سے بھرپور۔ علاقائیت۔ فرقہ وارانہ تعصّبات۔ جرائم کی تشہیر ۔ اپنے سرپرستوں کی قصیدہ گوئی معمول بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں میرے اور آپ کے بیٹے بیٹیاں۔ پوتے پوتیاں۔ نواسے نواسیاں پرورش پارہے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں پرنٹ۔ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیا ۔ رطب و یابس داخل ہورہا ہے۔ ہمیں جانچنے کی فرصت نہیں ہے۔ ہمارے ذہنوں میں غالب۔ حالی ۔ اقبال۔ فیض کے اشعار گونجتے تھے۔ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جوشے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اے خاصہ خاصان رسل وقتِ دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے لوح و قلم تو سب بھول چکے۔ اب کی پیڈ سب کچھ ہے۔ اسکولوں۔ کالجوں۔ یونیورسٹیوں میں بھی کاروباریت بہت غالب ہے۔ وہ تعلیم بیچتے ہیں۔ والدین تعلیم خریدتے ہیں ۔ ہمیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہاں کیا پڑھایا جارہا ہے۔ ماں باپ کو اتنا پتہ ہوتا ہے کہ اسکول والوں نے دو ہزار روپے پکنک کے لیے منگوائے ہیں۔ اگلا سمسٹر دو لاکھ کا ہے۔ کتابوں اور یونیفارم کے لیے چھ ہزار درکار ہیں۔ ماں اور باپ دونوں مطمئن ہیں کہ ہم منہ مانگے دام دے کر تعلیم خرید رہے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا مال خرید رہے ہیں۔ معاف کیجئے میں نہ احتساب عدالت کی بات کررہا ہوں۔ نہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے معیشت پر اظہار خیال کی۔ نہ عمران خان کے ٹوئٹر کی۔ اور نہ ہی پی پی پی کے 50سالہ جشن کی۔ نہ احسن اقبال کے فلسفیانہ بیانات کی۔ آپ کو برا لگے یا اچھا۔ میں آپ کو اور خود کو جھنجھوڑ رہا ہوں۔اپنے اور آپ کے ضمیر پر دستک دے رہا ہوں۔ آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کس گردوں کے ٹوٹے ہوئے تارے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد نے کس طرح علم اور تحقیق کے ذریعے دنیا کی حقیقت جانی۔ ساتویں صدی سے بارہویں صدی تک آپ کے پیش رو علماء سائنسدانوں ماہرین تعلیم نے جو کچھ سوچا لکھا۔ اس سے یورپ کے گلی کوچے روشن ہوئے۔ آپ اس نبیﷺ کی امت میں ہیں۔ نبیوں کے سردار ہیں۔ جن کے لیے یہ کائنات تخلیق کی گئی۔ آپ کو تو ہر لمحہ فخر ہونا چاہئے۔ رہتی دنیا تک اسلام ہی سب سے برتر اور بہتر مذہب ہے۔ اس میں تمام جدید علوم کی گنجائش ہے اور آپ جس ملک پاکستان میں رہتے ہیں۔ اس کی سرزمین کے اوپر نیچے۔ پہاڑوں کے اندر باہر۔ دریاؤں سمندر جھیلوں میں بہت سے خزانے ہیں۔ اپنے بچوں کے ذہنوں میں جھانکیں۔ انہیں اپنی میراث کا احساس دلائیں۔ گزری صدیوں کو اکیسویں صدی سے جوڑیں۔ بچوں پر توجہ دیں۔ ان میں اگر ٹرمپ ۔ مودی۔ نواز شریف۔ زرداری۔ عمران بننے کے جراثیم نظر آئیں ان کے خاتمے کی کوشش کریں۔ ہمیں ابن رشد۔ کندی۔ رازی۔ سینا۔ سوکارتو ۔ شاہ فیصل بننے کی ضرورت ہے۔ ان کی آمد اور پرورش کا اہتمام کیجئے۔ آپ کا کیا خیال ہے ۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved