صدر ٹرمپ ، دوست یا دشمن ؟
  17  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

''پاکستان اور اس کے لیڈرز کے ساتھ بہت بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی شروعات کرر ہے ہیں۔ میںمختلف محاذوں پر ان کے تعاون کے لئے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں''۔ یہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ٹویٹ پیغام ہے۔ جسے 62ہزار سے زیادہ افراد نے پسند کیا اور ہزاورں نے اسے شیئر کیا یا اس پر بحث کی۔ امریکی صدر کا یہ بیان امریکی شہری اور اس کے کنیڈین شوہر کی تین بچوں سمیت با حفاظت رہائی کے آیا۔ کیٹلن کولمین، ان کے شوہر جوشوا بوئل کو 5سال قبل افغانستان کے وردک صوبے سے اغوا کیا گیا۔اغوا کاروں نے انہیں 11اکتوبر کو افغان سرحد سے پاکستان لایا گیا۔ پاک فوج نے اس جوڑے اور بچوں کو ایک زبردست آپریشن کے دوران باسلامت بازیاب کرا لیا۔کوہاٹ میں اس گاڑی کا پتہ چلا جس میں یہ سوار تھے۔ آپریشن کرم ایجنسی میں کیا گیا۔ امریکی سفیر نے انٹلی جنس معلومات دی تھیں۔ اگر امریکہ خفیہ معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے اور ڈو مور کے بجائے تعاون پر توجہ دے تو مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کے لئے پاک فوج، سولین حکومت، تمام اداروں کو ایک پیج پر رہنا ضروری ہے۔ اگر پاک فوج ملکی معیشت پر بات کرتی ہے ، تو اسے اس کا ھق ہے۔ اگر سویلین حکومت اداروں کے بارے بات کرے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ تا ہم پروٹوکول یا نظم و ضبط اور طریقہ کار ، قواعد کی پاسداری انتہائی لازمی ہے۔ جس کا آئین و قانون کے تحت جو منڈیٹ ہے ، وہ وہی کرے۔ بات کرنے کے بھی پلیٹ فارم موجود ہیں۔ میڈیا کو کسی بھی صورت میں استعمال نہیںہے کیا جانا چاہیئے۔ اگر کوئی موقف میڈیا پر پیش ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ یا آپسی کوارڈینیشن کا فقدان ہے۔ گلے شکوئوں کے لئے ذمہ دار دو بدو مل بیٹھ کر بھی بات کر سکتے ہیں۔ مگر اگر ایک دوسرے کی تذلیل مدعا و مقصد ہو یا نمبر گیم یا چاپلوسی در کار ہو، چاہے عوام کو متاثر کرنے کی بات ہو یا عالمی سطح پر کوئی خود کو زیادہ لائق قرار دینے کی کوشش کرے تو یہ بالکل ناقابل قبول ہو گا۔ عوام کی سوجھ بوجھ میں وقت گزرنے کے ساتھ کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنانا چاہیئے۔ آپس میں نا اتفاقی ہو گی ، یا اختیارات کا کوئی مسلہ ہو گا تو اسے میڈیا یا عالمی فورمز کے بجائے نیشنل سیکورٹی کونسل یا آ پسی اجلاس میں ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ یہی اس کا درست طریقہ کار بھی ہے۔ ورنہ دشمن موقع کی تاک میں ہر وقت تیار بیٹھا ہے۔ زرا سی بھول چوک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ آپسی معاملات درست ہوں تو باہر سے کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ ڈو مور کی رٹ بھی ہمارا ہی کیا دھرا ہوتا ہے۔ اگر دنیا کو یہ بتایا جائے کہ وہ تو تعاون کرنا چاہتے ہین لیکن فوج یا سویلین حکومت رکاوٹ ہے یا عدلیہ مسلہ پیدا کرتی ہے تو پھر دشمن کو ہتھیار مل جائے گا۔ آج امریکی صدر ٹرمپ پاکستان سے مغویوں کی سلامتی سے بازیابی پر خوش ہیں۔ اس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سب وقتی باتیں ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی بڑی قربانیاں فراموش کر دی ہیں۔ جو باتیں مغویوں نے کرم ایجنسی سے کنیڈا پہنچ کر کی ہیں ، وہ بھی زیادہ تسلی بخش نہیں۔ جیسے کہ اغواکاروں کے ہاتھوں ایک بچی کا قتل، حاملہ بیوی کے ساتھ زیادتی جیسے الزامات۔ 2012کو اس جوڑے کو اغوا کیا گیا ۔ تین بچے مغوی حالت میں تولد ہوئے۔ ٹورنٹو ہوائی اڈے پر ہی جوڑے نے افغان حکومت سے انصاف دلانے کو کہا۔ بوئل کی بھی دلچسپ داستان ہے۔ امریکی خاتون کیٹلن سے شادی سے پہلے بوئل نے القائدہ سے وابستہ ایک کنیڈین نژاد جنگجو عمر خدر کی بہن سے شادی کی اور بعد میں اسے طلاق دے دی۔

پاکستان کے آپریشن میں مغوی خاندان کی رہائی ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے حق میں خیر سگالی کے جذبات کا باعث بنی ہے۔ اسے شروعات کہا گیا ہے۔ امریکہ بھی پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے خاتمے کے لئے مثبت شروعات کرے۔ افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے بھارت کی سرپرستی بند کرنے پر توجہ دے اور داعش اور بھارت نواز طالبان کو ٹریننگ ، اسلحہ اور پیسہ، لاجسٹک سپورٹ ختم کرنے پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو تعاون کے میدان میں پاکستان پیچھے نہیں رہے گا۔ امریکہ اس خطے میں منافقت اور بیلک میلنگ کی پالیسی پر چل رہے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کو افغانستان میں بدترین شکست ہوئی۔ اس شکست کا انتقام پاکستان سے لینے کے بجائے امریکہ اپنی حماقتوں پر غور کرے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلی پالیسی اور لہجہ استعمال کیا۔ بھارت کی کھل کر سرپرستی کی۔ اس سے خطے میں امن کے قیام کے لئے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکیوںکے بارے میں یہاں کے عوام سمجھتے ہیں کہ امریکہ ہی یہاں فوج اور سول حکومت کے درمیان خلیج اور تصاد م آرایہ کے لئے ذمہ دار ہے۔ امریکی یہاں کے صاحبان اختیار کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ یہ عوامی تاثر ہے۔ آگے بڑھنے سے معاملات مین بہتری آتی ہے۔ اس طرح غلط فہمیاں پیدا نہین ہو سکتیں۔ اگر اپوزیشن صرف سیاست اور تنقید اور اداروں کو لڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے کی پالیسی پر چلے گی تو مثبت تبدیلی کیسے آسکے گی۔ آج ہی نہیں بلکہ ہمیشہ اپوزیشن نے اداروں کو حکومت وقت کے خلاف اکسانے پر توجہ دی تا کہ اس کی دال گل سکے۔ یہ سب موقع کا فائدہ ٹھانے کے لئے ہی کیا جاتا ہے۔ تا ہم افسوس ہے کہ کس طرح لوگ اپنے اقتدار یا فائدہ کے لئے دوسرے کی تذلیل اور رسوائی کو سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب انتہائی پسماندہ اور بیمار ذہنیت ہے جس کا غلبہ اور چلن اس معاشرے کے لئے نیک شگون تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کوئی اپنی اصلاح کرے تو پھر کسی صدر ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور ملکی امیج خراب کرنے کا جواز نہیں ملے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved