درویش امیر
  18  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایک وقت تھا، سیاسی اور دینی جماعتوں کے بڑے بڑے رہنمائوں سے ملنے کا جنون ہوتا تھا ، یہ زمانہ طالب علمی کی باتیں تھیں انجمن طلبہ اسلام کے ذریعے سٹوڈنٹس پالیٹیکس میں آئے تو مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار خان نیازی جیسے بڑے رہنمائوں کی اپنے گھر پر خدمت اور انکی جوتیاں سیدھی کرنے کا موقع ملا ، اللہ کروٹ کروٹ جنت عطا کرے علامہ شبیر احمد ہاشمی کو جن کی خدمت میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھا اور انکی تربیت سے ہی صحافت اور نظریاتی شد بد کا پتہ معلوم ہوا۔ عملی صحافت بلکہ رپورٹنگ میں آنے کے بعد اللہ نے اپنے حبیب کے طفیل اتنا دیا کہ میرے دامن میں سمایا نہیں۔ وزرائے اعلی سے وزرائے اعظم ،صدور ، سیاسی و دینی رہنمائوں کو بہت نزدیک سے دیکھا ،پرکھا اور صحافت کی تکڑی میں تولا۔ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے یہ سلسلہ جاری ہے مگر کسی سے خصوصی طور پر ملنے کی حسرت یا تمنا اب کم کم ہی ہے مگر سینیٹر سراج الحق سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا اشتیاق تھا ۔میری نظر میں وہ ایک ایسے سیاسی رہنما ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نہیں ۔جماعت اسلامی کے امیر ہوتے ہوئے بھی وہ ایک درویش ہیں۔ ایک عام آدمی ہیں ان کے اہل خانہ بھی ویسی ہی سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں جیسے اس ملک کے عام آدمی کی ہے ۔مجھے وہ اچھے لگے ان کی باتوں میں سچائی تھی ،گفتگو لگی لپٹی اور بناوٹ کے بغیر تھی۔ جماعت اسلامی کے ایک اور دل کے امیر برادر عزیز امیر العظیم سے کئی ماہ قبل میں نے ملاقات کا خود کہا تھا جس کا انہوں نے اہتمام انہی دنوں کر دیا مگر کوئی ایسی مجبوری آن پڑی کہ مجھے معذرت کرنا پڑی جس کا مجھے کافی قلق تھا ۔ ہفتہ کی رات جماعت اسلامی میڈیا سیل کے روح رواں میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح چودھری فرحان عزیز ہنجرا کا فون آیا تو چھٹی کے باوجود میں اتوار کی شام سراج صاحب سے ملاقات کیلئے منصورہ پہنچ گیا۔ میں اپنے نام کے ساتھ چودھری نہیں لکھتا مگر سراج صاحب نے جب مجھے چودھری صاحب کہا تو مجھے اچھا لگا ۔میں نے بھی سراج صاحب سے صاف کہ دیا کہ میں یہاں جماعت اسلامی کے امیر سے ملنے کی محبت میں نہیں سراج الحق کی محبت میں آیا ہوں ۔ میں آپ سے صرف رہنمائی لوں گا باتیں سنوں گا رہا انٹرویو تو وہ میرے ساتھی فہیم جہانزیب ، قاسم رضا اور مسعود بھٹی کریں گے۔ جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کی محبت بھی اس دوران مکمل شامل رہی۔ سراج الحق صاحب میرے ساتھ باتیں کر رہے تھے تو کوئی تصنع یا بناوٹ نظر نہیں آ رہی تھی ۔ مجھے یہ سن کر ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی کہ سراج صاحب کا ڈرائیور بھی ان کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔ اسی حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ انہوں نے ایک دوسری جماعت کے ایم پی اے کو اپنے پاس کھانے پر مدعو کیا اور جب وہ دونوں کھانے پر بیٹھے تو انہوں نے ایم پی اے صاحب کے ڈرائیور کو بلوایا تو اس نے کھانے میں اپنے خان کے ساتھ شرکت سے معذرت کرلی ۔سراج صاحب اس ڈرائیور کو بلانے کے لیے خود باہر گئے لیکن اس نے کہا کہ وہ اپنے خان کے ساتھ بیٹھ کرکھانا کھانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔سراج صاحب کے لیے یہ بات انتہائی تکلیف کا باعث ہے کہ ابھی تک پاکستان میں یہ مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کیا جاسکا جبکہ جہاں ہم لوگ مغرب اور دوسرے ممالک کی تقلید کرنا چاہتے ہیں وہاں اس طرح کے پروٹوکولز پر لعنت بھیجی جاتی ہے او ر وہاں کے صدور اور وزرا اعظم بھی اس طرح کے پروٹوکولز کی لعنتوں سے آزاد ہیں۔ پاکستان کو اس وقت صرف مالی ہی نہیں اوربھی بہت طرح کی کرپشن کا سامناہے۔جس میں سب سے اہم نظریاتی اور اخلاقی کرپشن ہے دیکھا جائے تو مالی کرپشن سے صرف مالی نقصان ہوتا ہے یا ملک کے خزانے کو نقصان ہوتا ہے جبکہ نظریاتی کرپشن سے جہاں ملک کی سالمیت کو خطرہ ہوتا ہے وہیں اخلاقی کرپشن سے ملک کی آئندہ کی نسلیں اور لیڈر شپ تباہ ہو جاتی ہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ یہاں کا جمہوری نظام ہائی جیک ہوچکا ہے اب سیاست میں انسان کو اپنے کردار کی بجائے اپنے سرمایے کے ذریعے کامیابی ملتی ہے جو کہ زیادہ تر حرام ہی ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف غاروں میں موجود دہشت گرد خطرہ ہیں وہیں ایسے معاشی دہشت گرد ان سے بڑا خطرہ ہیں جنہوں نے ملک کو انتہائی سخت نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان میں جہاں سیاست دکھاوے اور پروٹوکول کا کھیل بن چکی ہے اور جہاں عام شہری بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ کوئی پڑھا لکھا یا شریف النفس شخص آدمی کیا خاک سیاست کرے گا وہاں سینیٹر سراج الحق جیسے درویش صفت کی ذات پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے کہ کس طرح انہوں نے ملک کے دور دراز اور پسماندہ ترین علاقے سے پاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعت کے امیر تک کا سفر طے کیا ۔ اس حوالے سے سینیٹر سراج الحق نے مولانا مودودی مرحوم کے حوالے سے بتایا کہ ان کا کہنا تھا کہ فقیر ی ، درویشی میں بادشاہی بادشاہی میں درویشی میرے لیے سب سے حیرانگی کا امر یہ تھا کہ جہاں پاکستان کے تمام سینیئر سیاستدانوں اور لیڈرز کے بچے یا تو ملک کے اعلی ترین اداروں میںتربیت پارہے ہیں بلکہ بڑے رہنمائوں کے بچے تو پاکستان میں رہنا اور تربیت و تعلیم حاصل کرنا گناہ کبیر ہ سمجھتے ہیں وہاں سینیٹر سراج الحق کے بچے آج بھی سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے وزرائے تعلیم اور سیاستدانوں کے بچے ہمارے سکولوں میں تعلیم نہیں حاصل کریں گے یا یہ(باقی صفحہ5بقیہ نمبر7) سیاستدان اپنے علاج کے لیے ان سرکاری ہسپتالوں کی طر ف رجوع نہیں کریں گے تو کیسے ممکن ہے کہ ہمارے تعلیم اور صحت کے نظام میں بہتری آئے گی۔

سینیٹر صاحب موجودہ اقتصادی نظام کے بہت بڑے ناقد ہیں اور ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ اسلام نے اس سودی نظام کی بجائے ایک انتہائی اچھا اور متبادل اقتصادی نظام دیا ہے کہ اگر اسے لاگو کیا جائے یعنی زکوة اور عشر کے نظام کو اگر اس کی صحیح روح کے مطابق نافذ کردیا جائے تو ملک میں امداد لینے کے لیے ڈھونڈنے سے بھی کوئی مفلوک الحال شہری نہیں ملے گا انہوں نے بتایا کہ انہیں ماضی میں خود ایک بجٹ پیش کرنے کا موقع ملا جس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے بیوروکریسی کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنے کی بجائے ایک نیا فارمولا بنایا جس میں چیف سیکرٹری کی تنخواہ میں ایک فیصد اور گریڈ اول کے ملازم کی تنخواہ میں بائیس فیصد اضافہ تجویز دیا گیا یعنی کہ گریڈ بائیس کی تنخواہ میں ایک فیصد اکیس کی تنخواہ میں دو فیصد بیس کی تنخواہ میں تین فیصد اور اسی طرح کرتے کرتے جب معاملہ گریڈ اول کے ملازم تک پہنچے تو اس کی تنخواہ میں بائیس فیصد اضافہ ہو جاتا تھا۔جب وہ یہ پروپوزل لے کر وزیراعلی کے پاس گئے تو انہوں نے اسے بہت زیادہ پسند کیا اور ان سے اتفاق کیا لیکن اگلے روز جب وہ اپنے دفتر میں آئے تو پتہ چلا کہ تمام بیوروکریسی نے خاموش ہڑتا ل کردی ہے اور کوئی بھی اپنے دفتر میں نہیں ہے جس پر وزیراعلی صاحب نے کہا کہ ہماری حکومت چیف سیکرٹری نے چلانی ہے چوکیدار نے نہیں ۔ جماعت اسلامی کو باقاعدہ طور پاکستان کی نمبر ون سیاسی جماعت تصور کیا جاتا ہے جس کے اندر بھی جمہوری نظام رائج ہے اور جماعت کے سسٹم میں شوری اپنے نئے امیر کا فیصلہ کرتی ہے جو کہ ایک انتہائی حساس عمل ہے لیکن جب ایک دفعہ امیرکا فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو پوری جماعت امیر کے ساتھ چلتی ہے اور امیر کا فیصلہ حرف آخر سمجھا جاتا ہے اسی طرح اگر دیکھا جائے تو جماعت کا انداز سیاست اپنے امیر کے مرہون منت رہا ہے جہاں قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کو پاکستان کی سیاست میں پروان چڑھایا اور انتخابی سیاست میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا وہیں پروفیسر منور صاحب نے اپنی انقلابی شخصیت کی بدولت جماعت کا احتجاج کی سیاست کی طرف مصروف رکھا جس کی وجہ سے دوسری مذہبی جماعتوں نے کافی جگہ بنا لی اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنی اجمالی شخصیت اور سادگی کے بل بوتے پر سینیٹر سراج الحق کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں کہ جماعت آئندہ آنے والے انتخابات میں کس قدر کامیابی حاصل کرتی ہے۔خصوصا موجودہ حالات میں کراچی اور پنجاب میں جماعت کے لیے بہت سے انتخابی چیلنجز موجود ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved