ہدایت نامہ افسری
  18  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) بعض کم عقل لوگ آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ ا س ملک میں کوئی آئین یا قانون بھی ہے اور یہ کہ سرکاری ملازمین ان پر عمل کرنے کے پابند بھی ہیں۔اس قسم کی جاہلانہ باتوں پر کبھی توجہ نہ دیں۔ پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ آپ سرکار کے ملازم نہیں، سرکار آپ کی ملازم ہے ۔ آپ کی حد تک ،پبلک سرونٹ کا صحیح مطلب بھی یہ ہے کہ پبلک آپ کی سرونٹ ہے۔ افسر شاہی میں دو چار دن گزارتے ہی آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اصل آئین اور ضابطے وہ ہیں جو کہیں درج نہیں۔ چلن اُس آئین اور قانون کا نہیں،جو قانون کی کتابوں میں درج ہے ؛اِس آئین اور قانون کا ہے جو افسروںکی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہا ہے۔یاد رکھیں قانون آپ کے لئے ہے ،آپ قانون کے لئے نہیں۔اسے نیچے لگا کے رکھیںاور روز دو چار رگڑے لگائیں۔اگر کوئی چوں چرا کرے تو ایک دو رگڑے اور لگا دیں، آپ کے قدموں میں آ گرے گا، بالکل اسی طرح جیسے باقی ساری دنیا آپ کے قدموں میں پڑی ہو گی۔ یہی قانون جو دوسروں پر شیر بن کر دھاڑتا ہے، آپ کے سامنے بکری بن کر منمنا رہا ہوگا۔اسے کھونٹے سے باندھ کر رکھیں۔ اگر کسی پر چھوڑنا ہو، تو رسی کھول کر ، ششکارا دیں، ایک لمحے میں یہ بکری سے پھر شیر بن کر ،جھپٹ پڑے گا۔ ایک محاورہ ہے 'اپنے کام سے کام رکھنا'؛پنجابی کا ایک محاورہ ہے' اپنی منجی ہیٹھ ڈانگ پھیرنا'؛تہیہ کر لیں کہ ان دونوںمحاوروں کے نزدیک بھی نہیں پھٹکنا۔ کبھی اپنے کام سے کام نہیں رکھنا، کبھی اپنے اور اپنی سروس کے لوگوں کے گریبان میں نہیں جھانکنا، کبھی اپنی منجی کے نیچے ڈانگ نہیں پھیرنی، اپنے کام کے بارے میں کبھی سیدھا جواب نہیں دینا، ہر سوال کے جواب میں دس سوال کر نے ہیں۔ ہر ایک کے پھٹے میںاپنی ٹانگ پھنسانا ہی نہیں، پھنسا کے رکھنا ہے، ہر محکمے کا خدائی فوجدار بننا ہے، ہر ایک کے گریبان میں جھانکنا ہے، ہر لمحے کسی نہ کسی کی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرتے رہیں۔آپ پوچھ سکتے ہیں اس کا کیا فائدہ ہو گا؟نووارد ہیں اس لئے یہ سوال آپ کے ذہن میں آئے گا وگرنہ آپ کے بڑوں کو تو اس کام میں مزہ ہی اتنا آتا ہے کہ اس کے سوا انہوں نے کبھی کوئی کام ہی نہیں کیا۔فائدہ اس کا یہ ہے کہ ساری دنیا کو اپنی ، اپنے گریبان ، اپنے دامن اور اپنی منجی کی پڑی رہے گی۔ کوئی بھول کر بھی آپ کی منجی کے نیچے جھانکنے کی جرات نہیں کرے گااور نہ یہ کہنے کی جسارت کرے گا' دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ' اگر آپ پنجاب سے ہیں تو آپ کے لئے ایک ہدایت یہ بھی ہے کہ پنجابی گنواروں کی زبان ہے۔ اگر ماں باپ سے یہ زبان سنی بھی ہو،افسربننے سے پہلے بولتے بھی رہے ہوں، تو بھی افسر بن کر کبھی اسے زبان پر نہ لائیں، افسر پنجابی بولتے ہوئے ،ان پڑھ اور عامی سا لگتا ہے اور آپ توخاص الخاص میں داخل ہو چکے ہیں۔ اچھے افسر تو پنجابی بولنے والوں کو پاس بیٹھنے بھی نہیں دیتے۔ایک کمشنر کو ہم نے دیکھا کہ پنجابی بولا کرتے تھے۔ان کے سامنے تو ہم کبھی نہیں بولے لیکن صاف بات یہ ہے کہ وہ پنجابی بولتے ہوئے کمشنر نہیں، نائب قاصد لگا کرتے تھے۔سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان کے افسروں کو یہ بیماری ہے کہ وہ اپنی مادری زبان بڑے فخر سے بولتے ہیں۔ انہیں بھی اپنی ڈگر پر لانے کی کوشش کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ ان کی اس کمزوری کی وجہ سے ہی کے پی کے اور بلوچستان میں، ایک نائب قاصد ،چیف سیکریٹری کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہا ہوتا ہے۔ پنجاب میں تو کسی دوسری سروس کے بیس گریڈ کے افسر کو بھی یہ جرات نہیں ہو تی۔بہتر یہ ہے کہ اردو سے بھی ذرا فاصلہ ہی رکھیں، یہ بھی محکوموں کی زبان ہے۔ زور سارا انگریزی پر دیں۔ کسی نے کہا تھا'انگریز چلے گئے، انگریزی چھوڑ گئے'۔ یہ انگریزی کسی اور کے لئے نہیںآپ ہی کے لئے چھوڑ کر گئے ہیں۔ اب آپ ہی اس کے والی وارث اور مائی باپ ہیں۔ اسے کبھی اپنے اور اپنے دفتروں سے دور نہ ہونے دیں ۔ ہماری بات ذرا غور سے سنو(آپ سوٹ بوٹ میں رہتے ہیں اس لئے آپ کا کوئی پلّہ نہیں ہے،وگرنہ ہم یہ کہتے کہ پلّے باندھ لو)،جس دن یہ انگریزی آپ کے دفتر سے رخصت ہو گئی، اس دن آپ کی افسر شاہی بھی رخصت ہو جائے گی۔ آ

خری ہدایت:کوشش کریں کہ آپ کی ساری سروس پنجاب ہی میں گزرے کیونکہ غلامی پر جس طرح اہلِ پنجاب راضی ہیں وہ کسی اور صوبے کی قسمت میں کہاں!یہاں لوگ پیاز بھی کھاتے ہیںاور جوتے بھی، سفارش بھی کراتے ہیں، چاپلوسی بھی کرتے ہیں،پھر پیسے بھی دیتے ہیں، پھر بے عزت بھی ہوتے ہیں، پھر اگر خو ش قسمتی سے کام ہو جائے تو افسروں کو دعائیں بھی دیتے ہیں ۔ اس دوران اگر کوئی جان پہچان والا دیکھ رہا ہو کہ چوہدری کی کیسی 'عزت'ہو رہی ہے تو باہر آکر اسے یہ بھی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ ہے مجھ کو گالیاں دیتا، ہمیشہ تُو ہی کہتا ہے بڑا ہی بے تکلف ہے،یہ افسر یار ہے اپنا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved