عالمی برادری اور جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی
  18  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

گذشتہ دو تین ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کی پر تشدد کاروائیاں بڑھتی جارہی ہیں، بچے اور خواتین کو بڑی بے دردی سے شہید کیا جارہاہے، اب تو صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی جنونی فوج آزاد کشمیر سمیت ان علاقوں پر بھی گولہ باری کررہی ہے جو ایل او سی کے قریب واقع ہیں، اب تک کئی بچے اور خواتین بھارت کی جانب سے کی جانے والی گولا باری کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، عالمی برادری کو اس مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر ہونے والی کشیدگی پر تشویش ضرور ہے، لیکن اسکو روکنے کے لئے ابھی تک کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی ہے، حالانکہ ٹرانسپری انٹرنیشنل نے اپنی رپوٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کی ظالمانہ کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ہیں، وہ غیر جانبدار استصواب رائے کرانے پر زور دے رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرسکیں، واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے بھی کشمیریوں کی حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اس جانب جلد پیش رفت کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن کے امکانات پیدا ہواسکیں، کیونکہ کشمیرہی وہ واحد مسئلہ ہے جسکی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، بلکہ آئندہ ''محدود جنگ'' کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتاہے، بھارتی فوج کی جانب سے بڑھتے ہوئے مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں نوجوان، بزرگ اور خواتین مسلسل مظاہرے کررہے ہیں، مخلوط حکومت سے استعفیٰ ہونے کا مطالبہ بھی کیا جارہاہے، کیونکہ محبوبہ مفتی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نہ تو امن قائم کرسکی ہے، اور نہ ہی مظاہرین کی جانب سے کئے جانے والے مطالبات کسی قسم کی بات چیت کا عندیہ دیا جارہاہے، محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت نریندرمودی کے احکامات کی غیر قانونی اور غیر آئینی پابندی کرکے ہر لحاظ سے کشمیری عوام کی نظروں میں بے توقیر اور بے وقعت ہوچکی ہے، حالانکہ اب تو بھارت کے غیر جانبدار وکلا اور دانشور بھی نریندرمودی کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنا ہمنوا یا ہم خیال نہیں بنا سکتے ہیں، اور نہ ہی روپے پیسے کی لالچ دے کر مقبوضہ کشمیر کی مخلوط حکومت نے بھی اس قسم کی کوشش کی تھی لیکن کامیابی نہیںہوسکی تھی،

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوشش کررہی ہے، نیزپروپیگنڈا بھی یہی کیا جارہاہے کہ اس تحریک کی پشت پناہی پاکستان سے ہورہی ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیںہے، پاکستان خود اپنے مسائل میں پھنسا ہو ا ہے، بھلا وہ کسطرح مقبوضہ کشمیر میں تحریک کو ہوا دے سکتاہے؟ دراصل یہ تحریک مقبوضہ کشمیرکے عوام کی مقامی تحریک ہے، جو بھارت کے ظلم کے خلاف متحد ہوکر سڑکوں اور گلیوں نکل آئی ہے، اور اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کررہی ہے، بھارت کی قابض فوج کی جانب سے طاقت اور تشدد کے ذریعہ یہ تحریک ختم نہیں ہوسکے گی بلکہ مزید پروان چڑھے گی، ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام پربہیمانہ ظلم وتشدد کیا گیا تھا، لیکن جذبہ آزادی کو دبایا نہیں جاسکا اور نہ ہی دبایا جاسکتاہے، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، بھارت کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کو ختم کرنے کیلئے پاکستان سے جنگ کا آغاز کردیاجائے، جسکا اظہار بار بار بھارت کی افواج کے سربراہوں کی جانب سے کیا جارہاہے،دوسری طرف پاکستان ایل او سی اور انٹرنیشنل ورکنگ بائونڈری پر بھارت کی جانب سے کی جانے والی ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے، حالانکہ جنگ کشمیر کے مسئلہ کا حل نہیں ہے، اگر جنگ ہوتی ہے تو اسکے نتائج دونوں ملکوں کے لئے ہولناک ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں رہے گا، اس لئے معروضی صورتحال کا یہ تقاضہ ہے کہ اس مسئلہ پر با قاعدہ بات چیت کا آغاز کیا جائے تاکہ حالات امن کی جانب بڑھ سکیں، بھارت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ پر ایک فریق ہے، نیز بھارت کویہ بھی معلوم ہے کہ کشمیر ہر لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے، بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ دوسری بات ہے کہ برطانیہ بھی کشمیر کے مسئلہ کو حل نہیں کرسکا تھا بلکہ آخری وائسرائے ہندلارڈ مائونٹ بیٹن نے جان بوجھ کر کشمیر کوبھارت کا حصہ بنانے کی کوشش کی تھی جس میں وہ ناکام رہا تھا، تقسیم ہند کے پلان کے تحت کشمیرجہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اسکو پاکستان کے ساتھ ضم ہونا چاہئے تھا، لیکن بھارت نے فوج کشی کرکے کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی جس میں اسکو ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے کشمیری عوام بھارت کے اس ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کے خلاف پرامن جدوجہد کررہے ہیں، جسکو بھارت کی قابض فوج بربریت طاقت وتشدد کے ذریعہ ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے، ہر گذرتے دن کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی گھمبیر ہوتی جارہی ہے، بھارت کی قابض فوج کا نہتے کشمیریوں پر ظلم بڑھتا جارہاہے، جو کسی بھی لمحہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا باعث بن سکتی ہے، چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ کو اس مسئلہ کو حل کرنے میں پیش قدمی کرنی چاہئے، ڈونلڈ ٹرمپ اپنی جنوبی ایشیا کی پالیسی میں کشمیر کے مسئلہ کو بنیادی اہمیت دیں، کیونکہ اس مسئلہ کے حل کے بغیر کشمیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتاہے، خود امریکی انتظامیہ اس حقیقت سے واقف ہے ، امریکی صدر کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی اس ہی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب کشمیر کے مسئلہ کو کشمیری عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق حل ہونا چاہئے، ورنہ جنوبی ایشیا میں کشمیر کے مسئلہ کے حل کے بغیر نہ تو امن قائم ہوسکتاہے، اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوسکتے ہیں، اگر امریکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے تو اسکو بھارت پر دبائو ڈالنا چاہے کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پاکستان سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کرے ، تاکہ جنوبی ایشیا میں امن کے امکانات پیدا ہواسکیں، اور ترقی کی راہیںبھی کھل سکیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved