جنگ بندی لکیر کے بہادر لوگ
  20  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سیز فائر لائن پربسنے والی آبادی بہت حوصلہ مند ہے۔ اسے پاک فوج پر اعتماد ہے۔ اس کا اعتراف کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل ندیم رضا نے بھی کیا ہے۔ جنرل صاحب نکیال(کوٹلی) اور دیگر سیکٹرز میں بھارتی جارحیت اور گولہ باری کے تازہ واقعات کے بعد ان علاقوں کا دورہ کر رہے تھے۔1990ء کے بعد بھارتی گولہ باری سے بچنے کے لئے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مورچے تیار کئے۔ یہ مورچے 2005ء کے زلزلہ میں تباہ ہو گئے۔ کچھ بارشوں اور برفباری سے ہونے والی لیند سلائیڈنگ کی نذر ہوئے ۔ یہاں زمین کو زلزلہ نے کھوکھلا کر دیا ہے۔ 1989ء سے 2003ء تک آزاد کشمیر کی جنگ بندی لائن پربھارت نے مسلسل گولہ باری کی۔ جس سے ہزاروں کی تعداد میں معصوم شہری شہید ہوئے۔ شہداء میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ ہزاروں لوگ معذور ہوئے۔ عوامی ، تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہوئیں۔کاروبار بری طرح متاثر ہوا۔ معیشت تباہ ہوئی۔ کھیتی باڑی کا سلسلہ رک گیا۔ لوگ مال و مویشیوں سے بھی محروم ہوئے۔کھیتی باڑی بھی نہ ہو سکی۔ زیر تعلیم بچے شہید اور زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ سکولی عمارتیں بھی گولی باری سے زمین بوس ہو گئیں۔ جنگ بندی لائن پر کئی راستے بھارتی گولہ باری کی زد میں آگئے۔ جس کی وجہ سے ان کے متبادل بائی پاس راستے تعمیر کئے گئے۔ یا قدیم راستوں کے آگے کنکریٹ دیواریں لگائی گئیں۔ یہ سب عارضی انتظام تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی یہ دیواریں بھی گر گئیں۔ کیرن بائی پاس ، لیسوا بائی پاس سمیت دیگرنئے راستے بھی تباہ ہو گئے۔ کیوں کہ ان پر بعد ازاں توجہ نہ دی گئی۔ کروڑوں روپے ضائع ہو گئے۔ آج پھر سے کیرن بائی پاس پر کام ہو رہا ہے۔ پہاڑ لڑھکنے سے پھر سے لوگوں کی زمینیں اور مکانات تباہ ہوں گے۔ جس کے لئے معقول معاوضہ دیا جانا چاہیئے۔ 2003ء میں پاکستان اور بھارت نے جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا۔ قدیم راستے پھر کھل گئے۔ بھارت نے اس معاہدہ کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ اپنے مورچے تعمیر کر لئے۔ نئی شاہرائیں بھی تعمیر کیں۔ خار دار تاریں اور دیواریں لگا دیں۔سڑکیں پہاڑوں تک پہنچا دیں۔ جس کی مثال وادی نیلم،نکیال، تتہ پانی، منڈھول اور دیگر سیکٹرز کی دوسری طرف بھارتی چوکیوں کی ہے۔ تا ہم پاکستان یا آزاد کشمیر کی حکومتوں نے اس جانب زیادہ توجہ نہ دی۔ زمانہ امن میں مکار اور جارحیت پسند دشمن کے خلاف تیاری ضروری ہے۔ آگ لگنے پر کنواں کھودنے کی روایتختم ہوجائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ دوسری طرف جنگی تیاریاں جاری رہیں۔سرجیکل سٹرائیکس، ایٹمی حملے کی دھمکیاںدی جا رہی ہیں۔مقبوضہ وادی میں خواتین کے سر کے بال کاٹ کر خوف پھیلانے والا بھارت کسی بھی گھٹیا اور مذموم حرکت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت سے خالی کرانا پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسلہ ہے۔جنگ بندی لائن پر بھارت پر زرہ بھر اعتماد یا خیر کی توقع بڑی حماقت ہو گی۔مگر یہاں بھارتی فوج کی دیکھا دیکھی بھی کچھ نہکرناحیران کن ہے۔ بھارت نے شیلنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے۔ مگراس کی مکاری اور عیاری بھی کسی کو خواب سے بیدار نہ کر سکی۔الٹا ملک کے اندر فوج اور سیاست کے درمیان کشمکش کی فضا برقرار رکھی جاتی ہے۔جو ہرلحاظ سے ملک و قوم کے مفاد کے منافی ہے۔ آج ایک بار پھر بھارت نے سیز فائر لائن پر چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے۔ وہ گولہ باری سے آبادی کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ بلا شبہ عوام بہادر اور دلیر ہیں۔ وہ بھارت سے کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔ تا ہم یہ بھی درست ہے کہ اگر بھارت نے گولہ باری کا سلسلہ تیز کیا تو اہم راستے اس کے نشانہ پر آ جائیں گے۔ کیرن بائی پاس کی طرز پرکم از کم بائی پاس راستوں کی مرمت کی جانی چاہیئے یا قدیم راستوں کو گولہ باری سے بچانے کے لئے کوئی اقدام ہی کیا جائے۔ نئی دیواریں بھی تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ تباہ ہونے والی کنکریٹ اور حفاظتی بندوبست کی طرف بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگ بندی لائن پر اشیائے خوردنی کا سٹاک، طبی سہولیات ہنگامی نوعیت کا مسلہ ہے۔ گولہ باری سے بچنے کے لئے گھروں کے ملحقہ تباہ ہونے والے بنکرز اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی حکومت کی توجہ چاہتے ہیں۔ بہت دعوے کئے گئے لیکن توجہ کم ہی دی گئی۔ان کی فوری تعمیر اور مرمت ضروری ہے۔بنکروں کی تعمیر کے لئے ایک دو درخت دے کر جنگلات کا صفایا کرنے کی ترغیب یا بہانہ بازی نقصان دہ ہے۔جنگل مافیا میں بڑے لوگ ملوث ہیں اس لئے انہیں کھلی چھوٹ ہے۔ دیودار جیسا بیش قیمتی درخت پانچ ،دس ہزار روپے میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

گولہ باری کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو جاتی ہیں۔ اس لئے جنگ بندی لائن پر ہنگامی طور پر تمام انتظامات پر اس سر نو غور ہو تو زیادہ بہتر ہو گا۔ خاص طور پر زیر زمین بنکرز کی تعمیر اولین ترجیحات کی حامل ہو گی۔ بھارتی گولہ باری سے عوام کو محفوظ رکھنا ان ہی بنکرز کی وجہ سے آسان ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ زیر زمین مورچوں کو سکولوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی گولہ باری کی زد میں رہنے کی وجہ سے خوراک کی سپلائی لائن کٹ جاتی ہے۔ لاکھوں کی آبادی ان علاقوں میں محصور ہو کر رہ جاتی ہے۔ سب جانتے ہوں گے کہ حکومت نے دفاعی لحاظ سے اہم کیرن بائی پاس شاہراہ پہاڑوں اور سنگلاخ چٹانوں کو چیر کر تعمیر کی۔ جس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ جو آج انتہائی خراب حالت میں ہے۔ اس کی مرمت یا تعمیر نو شروع کی گئی ہے۔ جس پر کام کی رفتار تیز نہ کی گئی تو برفباری اسے مکمل نہ ہونے دے گی بلکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو گا۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حید خان نے مبلغ سات ارب روپے حفاظتی اقدامات کے لئے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔پتہ نہیں یہ سات ارب کہاں گئے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وفاق اور ریاست مل کر کشمیر کی جنگ بندی لائن پر زیر زمین مورچوں کی فوری تعمیر اور مرمت کے لئے کام کریں۔ نیز بھارتی گولہ باری کی زد میں آنے والی شاہرائوں کی حفاظت کے لئے بھی معقول نوعیت کا بندو بست کیا جائے۔شاہراہ نیلم اور دیگر اہم سڑکوں کو تعمیر کے بعد حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کی حفاظت کے لئے یا پانی کی نکاسی کے لئے انتظام نہیں کیا گیا۔ بارش سے یہ سڑکیں تباہ ہو رہی ہیں۔ نالیوں کی تعمیر اوران کی مسلسل صفائی نہ ہو تو سڑک کا تباہ ہونا معمول بن جاتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved