''اوصاف'' پڑھنے والے تبدیلی لاسکتے ہیں
  20  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

رائیونڈ اسپتال کے باہر سڑک پر پیدا ہونے والی بچی۔ زچہ۔ اور باپ تینوں میرے اور آپ کے پاکستانی بھائی بہنیں ہیں۔ یہ سویلین ہیں۔ سڑک پر بچی کا جنم سویلین بالادستی کا بین ثبوت ہے اور وہ صاحب جو پوچھتے پھر رہے تھے کہ 'مجھے کیوں نکالا'۔ ان کے محلّات کے قریب اور بہت اچھی حکمرانی کے دعویدار ان کے بھائی کی راجدھانی میں ایک محترم بیٹی کی بے کسی ان کے سوال کا جواب ہے۔ معطل ہورہے ہیں۔ اسپتال کے عہدیداران۔ ذمہ دار تو عہد کا سلطان ہوتا ہے۔ میں 'اوصاف' کے پڑھنے والوں کا ممنون احسان ہوں ۔ سچ جانیے میرے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے لیے مناسب الفاظ نہیں ہیں۔'کبھی بچوں کے ذہنوں میں جھانکا'۔ کے زیر عنوان میں نے جس بوجھل دل کے ساتھ لکھا تھا۔ اس پر پاکستان کے ہر حصّے لیکن خاص طور پر آزاد جموںو کشمیر سے جیسے پیغامات آئے۔میرے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ کہ پڑھنے اور سننے والے موجود ہیں میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ جو میری کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا زیادہ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میری اصلاح ہوتی ہے۔ سب کرم فرمائوں نے اس موضوع کو اہم مانا اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں جھانکیں گے۔ بہت فون آئے بہت ایس ایم ایس ۔ جلدی جلدی چند ایک کے نام بیان کروں گا۔ سماجی کارکن اہم فیروز جمالیکا۔ ایم عذیر باغ آزاد کشمیر سے کہہ رہے ہیں۔ یقینا ہمیں بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دینا چاہئے۔ مالا کنڈ ایجنسی سے ہدایت اللہ کہتے ہیں ۔ آپ نے اپنے کالم میں بہت ہی ضروری چیز کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایسی تربیت کے لیے بہت سے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ نور کمال گلگت سے ہمیں اپنی نئی نسل کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئے کہ وہ صراط مستقیم پر چلیں۔ اُمید ہے کہ ایسے کالم لکھتے رہیں گے۔ وسیم ارشد نیازی مظفر آباد سے میرے لیے درازیٔ عمر کی دُعا کررہے ہیں۔ بہت شکریہ ۔یوسف خان کہتے ہیں۔ آپ نے کالم میں جو لکھا ہے اپنے الفاظ میں ان جذبات کا بیان نہیں کرسکتا۔ آپ جیسے علم دوست ایسے ادارے بنا جائیں جہاں مفت تعلیم دی جائے۔ مخیر حضرات آپ سے یقینا بھرپور تعاون کریں گے۔ آپ کی طرح سب سوچنے لگیں تو پاکستان حقیقی پاکستان بن سکتا ہے۔ احتشام صاحب حویلیاں سے۔ ڈاکٹر عبدالشکور عظیم سنانواں تحصیل کوٹ ادو سے ۔ آپ نے ایک نئی سوچ دی ہے ۔ نام نہیں لکھا۔ کہتے ہیں محترم ہم نے معاشرہ ہی ایسا بنادیا ہے جس میں کھانے کی اشیا سے لے کر کوئی بھی استعمال کی چیز پر جب تک لڑکی کی تصویر نہ ہو بکتی ہی نہیں ہے۔ یہ بہت اچھا خیال ہے ۔ دوسرے حضرات بھی اشتہارات پر اپنا اظہار خیال کریں تو میں اس پر ایک کالم لکھ سکتا ہوں۔ سرفراز احمد گلگت ' محمد عدیل ' ایچ مرسلین' مہتاب حسین، آزاد کشمیر' شہباز سرور ،بالاکوٹ'سید طارق حسین ،کراچی'اصغر، آزاد کشمیر۔فضل مولا، مردان' عطاء اللہ لشکری جماعة الدعوة، دیبا ل پور۔ مفتی عابد فرید۔ عنایت اللہ ، لکی مروت' راجہ توقیر ، ٹیکسلا' سب نے کالم کو زبردست کہا ہے۔ نوید حسین اٹک سے آپ کے کالم نے میری سوچ کو ایک نیا رُخ دیا ہے۔ ہم اب تک فضول مسائل میں الجھے ہوئے تھے۔ آج آپ نے زندگی کی ایک نئی راہ متعین کی ہے ۔ شکریہ۔ بدر ایچ ایڈووکیٹ ،بھمبر آزاد کشمیر۔ خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ عارف اسکردو سے۔ بہت اچھا۔ جو چیز ہم بدل سکتے ہیں ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے۔ نہریان شریف سے شاہد منیر، لیکچرر پولیٹیکل سائنس۔ آپ نے بہت اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کی ہے۔ راجہ شاہد کوٹلی سے ۔آپ کی سوچ کو سلام۔ جو سوچ آپ کے ذہن میں ہے کاش ملک بھر کے ووٹرز اس سوچ سے اپنے نمائندے منتخب کریں۔ اسلام آباد سے ماہ نور۔ آپ کا آج کا کالم پڑھ کر احساس ہوا کہ آج تک میں نے جو لکھا پڑھا اور سنا وہ شخصی تنقید کے سوا کچھ نہیں تھا۔ خوش رہئے اور ایسے کالم لکھتے رہئے۔ مظہر یاسین ایس ایس ٹی پلندری آزاد کشمیر۔ وقاص خان پور سے کالم کو زبردست قرار دے رہے ہیں۔ میں قریباً نصف صدی سے مختلف اخبارات میں لکھتا آرہا ہوں۔ لیکن جیسے مخلص قارئین 'اوصاف' کے حوالے سے مل رہے ہیں پہلے نہیں ملے۔ جو بہت غور سے کالم کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جو خیال اچھا لگتا ہے اس کی تعریف کرتے ہیں ۔ جو بات غلط محسوس ہوتی ہے اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جہاں جہاں بات سمجھ میں نہیں آتی اس کے لیے سوال بھی کرتے ہیں۔ مہتاب خان صاحب۔ محسن بلال آپ سب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے 'اوصاف' کو اتنا مقبول اور دلچسپ بناکر پیش کیا ہے کہ اسے بھرپور عقیدت سے پڑھا جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے ۔ میں اوصاف کی انتظامیہ اور کالم کے قارئین کی خدمت میں اظہار تشکر کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ بچوں کے ذہن میں جھانکنے کو ایک تحریک کے طور پر چلایا جانا چاہئے۔ یہ آپ سب نے تسلیم کیا کہ بچوں کو جتنا وقت دینا چاہئے۔ نہیں دیا جارہا ہے۔ پہلے تو یہ طے کریں کہ روزانہ ہی وقت دیں ۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو ہفتے میں چھٹی کا دن۔ جمعہ۔ ہفتہ یا اتوار۔ اس میں دوپہر کے کھانے کے بعد بیٹھ جائیں۔ پہلے ان سے کہیں کہ ان کے ذہنوں میں جو سوالات ہیں وہ ان کا اظہار کریں۔ یہاں باپ دادا دادی نانا نانی۔ ان کے جوابات دیں۔ ان کے دماغ میں جو بھی الجھن ہے۔ اس کا اظہار کرنے دیں۔ سوشل میڈیا پر پابندی نہ لگائیں۔ بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان سے معلوم کریں کہ وہ کونسی گیم کھیلتے ہیں ۔ کونسی سائٹس دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں چاہے فیس بک ہو۔ لنکڈان۔ واٹس ایپس۔ پن انٹریسٹ۔ کورا اور معلوم نہیں کیا کیا۔ اگر ان کا درست استعمال کریں تو یہ علوم کے خزانے ہیں۔ آپ کو مضامین لکھنے میں ان سے مدد مل سکتی ہے۔ آپ کے بچوں کو بہت سے سوالات کے جوابات یہیں سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ مگر ہم نے ان بڑی محنت تحقیق سے ایجاد کردہ ان فورموں کو بھی نواز شریف۔ عمران۔ زرداری۔ مشرف۔جیسی فانی چیزوں کی نذر کردیا ہے۔ آپ یہاں اپنے مطالعے کا حاصل ڈال سکتے ہیں۔ حسب حال قرآنی آیات' احادیث' تاریخ کے اہم واقعات دے سکتے ہیں۔ بڑے ادیبوں' شاعروں' مورخوں کے اقوال دے سکتے ہیں۔ بچے اگر موبائل فون کی اسکرین ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ تو ہم بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کچھ جو ہم انہیں پڑھوانا چاہتے ہیں جن کی مدد سے ان کے ذہن تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ نیٹ پر انہیں دستیاب کریں۔ یہ اتنا مہنگا کام بھی نہیں ہے۔ یونیورسٹیاں کرسکتی ہیں ۔ مخیّر حضرات اس میں تعاون کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے آبا کی کتابیں۔ اپنی لائبریریاں۔ اپنا طنز و مزاح ۔ غالب کے خطوط۔ اقبال کے اشعار۔ اکبر الہ آبادی کا طنزیہ کلام۔ ابراہیم جلیس۔ شوکت تھانوی۔ مجید لاہوری کے نشتر ان پر چسپاں کریں۔

آپ ہر ہفتے بچوں بچیوں سے سوال جواب کریں گے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کی سوچ کا رخ کیا ہے۔ کہاں سے ذہن بہترطرف جارہا ہے۔ کہاں سے غلط سمت میں۔ ان کے اسکول میں جاکر انتظامیہ سے بات کریں۔ ان کی کتابیں دیکھیں کہ کیا پڑھایا جارہا ہے۔ کالج یونیورسٹی جائیں سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بچے کے دوستوں۔ بچی کی سہیلیوں کے بارے میں جانیں کہ ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ ان کے والدین سے ملیں ان سے بھی تربیت کے مسئلے پر بات کریں۔ ہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔ میڈیا سے بچے پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں ان کا جائزہ بھی لیں گے اور یہ بھی کہ بچے اپنے شہر اپنے صوبے اپنے ملک کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ آپ کے خیالات کا انتظار رہے گا۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved